پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے مطالبہ

مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کورونا لاک ڈاؤن کے باعث ہونے والے تعلیمی حرج کا مداوا کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

اتوار کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طلبا نمائندوں کا کہنا تھا کہ آن لائن کلاسز کے باعث طلبا مشکلات کے شکار ہیں مگر پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے نگراں ادارے ایچ ای سی اور وزارتِ تعلیم کی جانب سے ان کی بات نہیں سنی جا رہی۔

پریس کانفرنس میں طلبا نے تین بنیادی مطالبات پیش کیے جن میں سمیسٹر فیس معاف کرنا، سکولوں اور کالجوں کی طرح یونیورسٹی طلبا کو بھی اگلے سمیسٹر میں پروموٹ کرنا، اور آن لائن کلاسوں کا ایک بہتر نظام شامل ہیں۔

طلبا نے کہا کہ انھوں نے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کو خطوط بھی لکھے ہیں لیکن ان کی جانب سے انھیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

15 ہزار پاؤنڈ کے عوض ’ہیرو‘ سے گھر بیٹھے اے لیولز

سنگاپور میں ویڈیو کانفرنس ایپ زوم کے تعلیمی استعمال پر پابندی

پاکستان میں آن لائن ذرائع سے تدریسی عمل جاری مگر طلبا کو مسائل کا سامنا

انھوں نے مزید کہا کہ وزیرِ اعظم کے شکایت پورٹل پر بھی ملک بھر سے شکایات درج کی گئیں لیکن وہاں سے بھی کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے۔

طلبا رہنما اسد بن اعظم نے بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کے باعث یونیورسٹیوں میں کلاسیں نہیں ہو رہیں لیکن اس کے باوجود انھیں ہاسٹل، ٹرانسپورٹ، لائبریری، طلبہ سوسائٹیز اور دیگر فیسیں ادا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ ٹیوشن فیس لیے جانے کے مخالف نہیں ہیں لیکن جب طلبا یونیورسٹی کیمپس کی سہولیات سے استفادہ نہیں کر رہے تو اس کی فیسں ان سے کیوں لی جا رہی ہیں۔

اسد نے کہا کہ گذشتہ دنوں اسلام آباد میں ایچ ای سی کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرے کے بعد انھیں ایچ ای سی کے ایک ڈائریکٹر نے بلایا اور ان کے مسائل سنے۔

’انھوں نے تسلیم کیا کہ ہمارے مطالبات درست ہیں لیکن انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس اختیار نہیں اور وزارتِ تعلیم کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اختیار نہیں، تو آخر ہم کہاں جائیں؟‘
پاکستان میں اتوار کی شام کو ٹوئٹر پر #NoClassesNoFees کا ٹرینڈ سرِفہرست رہا جس میں طلبا مذکورہ بالا مطالبات پر مبنی ٹویٹس پوسٹ کرتے رہے۔

آکاش بلال نامی ایک صارف نے لکھا کہ فیس کا مطالبہ تعلیمی اداروں کی تنگ نظری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انھوں نے تعلیمی اداروں سے کہا کہ انھوں نے اس کاروبار سے جتنا کمایا ہے، اس میں سے خرچ کر کے سٹاف اور طلبہ کا خیال رکھیں

Courtesy bBC News urdu