مریخ پر پہلا عرب خلائی مشن چند ہفتوں میں پرواز کے لیے تیار

مریخ پر بھیجے جانے والا پہلا عرب خلائی مشن چند ہفتوں میں پرواز کی تیاری کر رہا ہے اور اس مشن کے لیے خلائی جہاز میں ایندھن بھرنے کا کام اگلے ہفتے سے شروع ہو گا۔

خلائی جہاز کو مریخ اور اس کے مدار تک پہنچنے میں 308 ملین میل کا سفر طے کرنے میں سات ماہ کا عرصہ لگے گا، جہاں سے یہ خلائی جہاز مریخ اور اس کی آب و ہوا اور ماحول کے بارے میں اہم معلومات بھیجنا شروع کر دے گا۔

مریخ کی آب و ہوا اور ماحول کے متعلق مناسب ڈیٹا جمع کرنے کے لیے یہ روبوٹک خلائی جہاز پورے687 دن تک مریخ کے گرد چکر لگائے گا۔

مریخ کے مدار میں ایک چکر لگانے میں خلائی جہاز کو 55 گھنٹے لگیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

مریخ پر بہنے والا کیچڑ یا ابلتا ہوا ٹوتھ پیسٹ

سپیس ایکس لانچ: ’ڈریگن‘ بین الاقوامی خلائی سٹیشن پہنچ گیا

مریخ پر ممکنہ زندگی کی کھوج میں مصروف ’ڈبہ‘

پیر کو ایک بریفنگ میں اس مشن کی رہنما سارہ الامیری نے کہا کہ اس منصوبے سے عرب نوجوانوں کو خلائی انجینئرنگ کے شعبے میں اپنے کیریئر کا آغاز کرنے کی ترغیب ملنی چاہیے۔

‘عمل` نام کا یہ روبوٹک خلائی جہاز 14 جولائی کو ایک دور دراز جاپانی جزیرے، تاناگشیما سے خلا میں چھوڑا جائے گا۔

ایک جاپانی راکٹ سے چلنے والے اس خلائی جہاز میں تین طرح کے سینسر نصب ہیں جو مریخ کے پیچیدہ ماحول کا جائزے لیں گے۔ ان میں ہائی ریزولیوشن ملٹی بینڈ کیمرہ بھی شامل ہے جو اس سیارے کی دھول اور اوزون کی پیمائش کرے گا۔

دوسرا انفراریڈ سپیکٹومیٹر ہے جو سیارے کی فضا کی پیمائش کرے گا اور تیسرا سپیکٹو میٹر آکسیجن اور ہائیڈروجن کی سطح کی پیمائش کرے گا۔

محترمہ الامیری کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کا ایک مرکز یہ ہو گا کہ پانی کے لیے ضروری یہ دو عناصر کس طرح سیارے سے ختم ہو رہے ہیں۔

برطانیہ کے سائنس میوزیم گروپ کے ڈائریکٹر، سر ای این بلیچفورڈ نے نشاندہی کی کہ ‘اب تک بہت سارے خلائی مشنوں نے ارضیات پر توجہ مرکوز کی ہے لیکن یہ خلائی جہاز مریخ کی آب و ہوا کی سب سے جامع تصاویر اور ڈیٹا مہیا کرے گا۔

متحدہ عرب امارات میں خلائی سفر کا ٹریک ریکارڈ موجود ہے۔ اس نے اس سے قبل مصنوعی سیارہ کو زمین کے مدار میں اور اپنے ایک خلاباز کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر بھیجا ہوا ہے۔

خلا میں جانے والا پہلے عرب سعودی عرب کے شہزادہ سلطان بن سلمان آلسعود تھے، جنھوں نے 1985 میں امریکی خلائی شٹل پر اڑان بھری تھی۔

لیکن یہ ایک بالکل مختلف مشن ہے۔

یہ خلائی جہاز کولوراڈو میں بنایا گیا اور پھر جاپان بھیج دیا گیا جہاں اس کے تمام انجینئرز کو کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے فوری طور پر قرنطینہ میں جانا پڑا جس کی وجہ سے لانچ میں تاخیر ہوئی۔

برطانیہ کی اوپن یونیورسٹی میں سیاروں اور خلائی سائنس کی پروفیسر مونیکا گریڈی کا خیال ہے کہ مریخ کے اس مشن سے خلائی صنعت میں ایک بڑی تبدیلی آئے گی جو دنیا کی بڑی طاقتوں کے زیر اثر ہے۔

یہ مریخ کی کھوج کے لیے ایک حقیقی پیش قدمی ہے کیونکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی خلائی ایجنسی اور ناسا کے علاوہ دوسری قومیں بھی وہاں جا سکتی ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ مشن کامیاب ہو گا کیونکہ مریخ کے مشن کی ناکامیوں کی ایک بہت لمبی تاریخ ہے۔‘

Courtesy BBC Urdu