آم کی برآمد میں مشکلات کا سامنا

پاکستان فروٹ اینڈ ویجییٹبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن پی ایف وی اے کے مطابق سرحد کھولنے کا دورانیہ اور گاڑیوں کی محدود تعداد کی وجہ سے ایکسپورٹرز کو بھاری نقصانات کا سامنا ہے۔ اس وقت ایران سے آنے والی 75 گاڑیوں کو واپسی پر آم کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔
ایل پی جی، سیمنٹ اور دیگر مصنوعات لانے والی ایرانی گاڑیاں آم کی ترسیل کے لیے غیر موزوں اور تعداد میں کم ہیں۔
تفتان بارڈر پر آم کے ٹرکوں کی قطاریں لگ گئی ہیں اور اب تک 60 ٹرک تفتان بارڈر پر جمع ہوچکے ہیں جن کی تعداد میں یومیہ اضافہ ہورہا ہے جبکہ کھلے ہوئے کنٹینرز پر لدے ہوئے آم خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
ایران کو آم کی ایکسپورٹ میں مشکلات سے یومیہ 70 ہزار ڈالر کا نقصان ہورہا ہے۔
سرپرست اعلیٰ پی ایف وی اے وحید احمد کہتے ہیں کہ ایران سے یومیہ آنے والے ٹرکوں کی تعداد 150 تک بڑھائی جائے۔ تفتان بارڈر سے آم کی ایکسپورٹ کو درپیش مشکلات کا خاتمہ نہ ہوا تو رواں سال آم کی ایکسپورٹ کا ہدف پورا نہیں ہوگا۔
پی ایف وی اے نے وفاقی وزارت داخلہ سے مدد مانگتے ہوئے کہا ہے کہ پاک ایران سرحد کو ہفتہ میں سات روز کھولا جائے اور اوقات کار میں بھی اضافہ کیا جائے جبکہ ایرانی ٹرکوں کی تعداد بڑھانے کے لیے معاملہ ایرانی حکام کے سامنے اٹھایا جائے

Courtesy Samaa News