مودی کو ہٹلر سے تشبیہ دیدی

یونائٹڈ پریس انٹرنیشنل نے نریندر مودی کو ہٹلر سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر جارحانہ پیٹرولنگ جنگ چھیڑنے کا بہانہ ہے، اقوام متحدہ، امریکا اوریورپ خاموشی توڑے، مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں پر مظالم بند کرائے۔

یونائٹڈپریس انٹرنیشنل میں لکھے گئے مضمون میں کرنل ریٹائرڈ ویس مارٹین نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو ہٹلرکی سوچ کےتحت رد کیا۔

مودی پاکستان سے تناؤکم کرنےکے بجائے ، کشیدگی بڑھا رہے ہیں، لائن آف کنٹرول پرجارحانہ پیٹرولنگ بظاہر فائرنگ کاتبادلہ شروع کرنے اور جنگ چھیڑنے کا بہانہ ہے۔
چیک وسلواکیہ پر ہٹلر کے قبضے سےپہلے جرمنوں نے وہاں افراتفری پھیلائی تھی، بھارتی اہلکار وہی کام مقبوضہ کشمیر میں کررہے ہیں۔

ویس مارٹن نے کہا کہ اگست 2019 ءمیں مقبوضہ کشمیر کا آئینی درجہ تبدیل کرکے یونین علاقہ بنایا گیا، علاقے کی حیثیت بدلنا درحقیقت محاصرے کا نکتہ آغاز تھا، پھر دسمبر2019ء میں بھارت نےمسلم آبادی سےشہریت کا حق بھی چھین لیا، جیسے ہٹلرنےیہودیوں کیلئے کیمپ بنائے ،مودی نےمسلمانوں کیلئے بنادیئے۔

کورونا وباء کی آڑمیں مسلمانوں کیخلاف مہم اور تیز کردی گئی، وباء نے بھارت میں مسلمانوں کے لیے دہرا لاک ڈاؤن کیا ہے، فوج اورپولیس مسلمانوں کو احتجاج کرنے بھی نہیں دے رہی ہے۔

اقوام متحدہ، امریکا اور مغربی یورپ ان کیمپوں کی صورتحال پر محض چند الفاظ ادا کر رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ بھارت میں مسلمانوں پر مظالم اور نسل کشی روکنے کے لیے مودی پردباؤ ڈالیں۔

ویس مارٹن نے قول نقل کیا کہ آئین اسٹائن نے کہا تھا کہ دنیابرے لوگوں کی وجہ سے خطرناک نہیں، یہ خطرناک اس لیے ہے کہ لوگ برائی کیخلاف کچھ کر نہیں رہے۔

Courtesy jang news