اب بھی امید کی کوئی کرن نہیں!

اب بھی امید کی کوئی کرن نہیں!
گزرے دنوں کی باتیں کچھ یادیں
سہیل دانش-
ہم اس اعتبار سے خوش قسمت رہے کہ ہم نے دنیاکی گذشتہ پچاس سالہ حیرت انگیز ترقی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ دو صدیوں کو ملتے، ان میں قدم- رکھتے، کمپیوٹر کی آمد، کمیونیکیشن کا انقلاب اور سمٹتی ہوئی دنیا دیکھی۔اسے میں اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ بچپن سے یونیورسٹی تک قابل اور مشفق اساتذہ کہ رہنمائی حاصل رہی لیکن کالج کے دور میں اپنے پروفیسر غفار میمن مجھے آج تک یاد ہے۔میں نے اپنے زمانہ طالب علمی میں کوئی ایسا استاد نہیں دیکھا جو طالب علموں میں اتنا پاپولر ہو۔ جب انکا پیریڈہوتا تو یوں سمجھیں کہ حیدر آباد کے تمام طالب علموں کی خواہش ہوتی کہ وہ اسے اٹینڈ کرلیں۔وہ فزکس پڑھایا کرتے تھے۔ جب وہ لیکچر دیتے تو کنٹونمنٹ کالج کے آدیٹوریم میں سینکڑوں طلباء اور طالبات کی موجودگی میں پن ڈراپ سائیلنٹ کا سماں ہوتا۔ ان کی زبان میں اللہ تعالیٰ نے زبان نہیں گراریاں لگا رکھی تھیں۔ مضمون پر ان کا عبوراور بیان میں اتنی فصاحت اور ہر نکتے کو سمجھانے کا ایسا کمال کہ ہر موضوع ذہن نشین ہو جاتا۔جناب قمر زمان شاہ کے صاحبزادے نوید قمر ہمارے کلاس فیلو تھے۔انکے بھائی ڈاکٹر ندیم قمر بھی ہمارے اسی کالج سے فارغ التحصیل ہوئے۔ نوید قمر پیپلز پارٹی کے اہم رہنما ہیں اور

ڈاکٹر ندیم قمر قومی ادارہ برائے امراض قلب میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ قمر الزماں شاہ بھٹو صاحب کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔ وہ 1970کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر لطیف آباد کے حلقے سے امیداوار تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بھٹو صاحب انتخابی مہم کے سلسلے میں اس حلقے میں تشریف لائے تو انہوں نے لطیف آباد نمبر8کے پولیس اسٹیشن سے متصل گراؤنڈ میں ایک عوامی جلسے سے سے خطاب کیا۔ عوامی مزاج اور تیور کو جاننے والا یہ لیڈر تقریر کے بعد جب قمر الزمان شاہ کے گھر تشریف لائے تو انہوں نے اپنے میزبان سے کہا۔ شاہ صاحب میں ایک نہیں دس جلسے بھی کر لوں۔ اس حلقے کے لوگ تمہاری بے شمار خوبیوں کے با وجود ووٹ نہیں دینگے۔ قمر الزمان شاہ کے مد مقابل نواب مظفر حسین تھے جو اس وقت کے مہاجر پنجابی پٹھان اتحاد کی قیادت کر رہے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب جناب مسرور احسن کمشنر حیدر آبادکے عہدے پر فائز تھے۔کمشنر صاحب کے متعلق یہ تاثرعام تھا کہ وہ اردو اسپیکنگ طبقے کو فوقیت دیتے ہیں۔ یہ انڈین سول سروس کے ایک بڑے سخت گیر ایڈمنسٹریٹر کے طور پر مشہور تھے۔ 1967کے ایک واقعہ کی وجہ سے سندھ یونیورسٹی میں جئے سندھ تحریک سے تعلق رکھنے والے طلباء اور انکے متعلق تلخ یادیں رکھتے تھے۔ جب بھٹو 1970میں سندھ کے انتخابی مہم میں آئے تو انہوں نے سیوھن کے ایک جلسہ عام میں کہا کہ اگر مسرور احسن نے اپنی روش ترک نہ کی تو اقتدار میں آ کر ہم انہیں فکس اپ کر دینگے۔ یہ عجیب اتفاق تھا کہ بھٹو کا تعلق سندھ سے تھا لیکن انکا پاور بیس پنجاب تھا۔ بھارت کے خلاف جذباتی تقریر میں گھاس کھا کر ایٹم بنانے کا عزم اور روٹی کپڑا اور مکان کے پرکشش نعروں نے بھٹو کو پنجاب کا ہر دلعزیز لیڈر بنا دیا تھا۔وہ جہاں جاتے ایک جم غفیر کو اپنا منتظر پاتے اور الیکشن کے نتائج نے ان کی مقبولیت پر مہر ثبت کر دی تھی۔ الیکشن کے نتائج اور سقوط ڈھاکہ تک پیش آنے والے واقعات ہماری تاریخ کا حصہ ہیں۔میں نے 1987میں پی ڈی پی کے رہنما مشتاق مرزا کے گھر پر جناب نواب زادہ نصر اللہ خان سے دریافت کیا کہ اگر یحیٰ خان اقتدار مجیب کو سونپ دیتے تو پاکستان بچ سکتا تھا۔ انہوں نے کہا اگر 1970کے انتخابات کے بعد اقتدار شیخ مجیب کو دے دیا جاتا تو پاکستان دو لخت نہ ہوتا۔ شاید سیاسی کشمکش کا ایک نیا دور شروع ہوتا۔لیکن مہم و فراست سے معاملات طے کئے جا سکتے تھے۔ پہلے یحیٰ خان انتخابات کے نتائج کے بارے میں صحیح اندازاہ نہ کر پائے۔ پھر الیکشن کے بعد بگڑتی ہوئی صورتحال کو نہیں بھانپ سکے۔ نواب زادہ نے کہا سقوط ڈھاکہ کے بعد بھٹو کی پھانسی ایک بڑی غلطی تھی۔ تمام تر مخالفت اور بھٹو کی منتقامہ پالیسیوں کے با وجود میں ذاتی طور پر ان کی پھانسی کے خلاف تھا۔

آیئے پھر ذرا پیچھے کی طرف نظر ڈالتے ہیں سقوط ڈھاکہ کے بعد اقتدار بھٹو کو مل گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب سندھ میں لسانی تقسیم کا شور تھا۔تاریخ کے عجیب رنگ ہیں 1300سول سرونٹس کو یک جنبش قلم ملازمتوں سے بر خاستگی کا پروانہ تھمانے کی تیاری ہو گئی۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے تیار کردہ فہرست صدر اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ذولفقار علی بھٹو کے سامنے پیش کی گئی اس فہرست میں پہلا نام مسرور احسن کا تھا۔ بھٹو نے غور سے دیکھا۔ ان کے ماتھے پر ناگواری کی شکنیں ابھر آئیں جلی قلم سے انہوں نے بلا تردد وہ نام کاٹ دیا۔ بھٹو نے سیکریٹری غلام اسحاق خان سے کہا کہ یہ تو بہت اپ رائیٹر آفیسر ہے۔ اس طرح انہوں نے اس فہرست کے چھ اہم ناموں پر سرخ قلم پھیر دیا۔ بعد میں مسرور احسن نے پنجاب میں غلام مصطفےٰ کھر کے دور میں کافی عرصے تک پنجاب کے چیف سیکریٹری کے طور پر خدمتا انجام دیں۔ بھٹو کے اقتدار کے ابتدائی دور میں جب سندھ اسمبلی سے لینگوئج بل پاس کرایا گیا تو لسانی تقسیم ذیادہ شدید ہو گئی، ہنگامے پھوٹ پڑے،رئیس امروہی کی ”اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے“ کی باز گشت نے صورت حال کو اور پیچیدہ کر دیا۔بھٹو صاحب ہنگامی طور پر کراچی آئے اور انہوں نے گورنر ہائس کراچی سے براہ راست قوم سے خطا ب کیا۔ انہوں نے سندھ کے تمام لسانی طبقات سے دردمندانہ اپیل کی کہ سبب امن و آشتی کے مسائل کو حل کریں۔ پھر دو لسانی سیاسی قیادت کو انہوں نے اسلام آباد مدعو کیا اور ان سے کہا کہ وہ اس وقت تک اسلام آباد سے نہیں جائینگے۔ جب تک کوئی قابل عمل حل تلاش نہیں کر لیتے۔ ان ملاقاتوں کے بعد 40%اور 60%کوٹہ سسٹم پر اتفاق رائے کیا گیا۔ لیکن اس سے شہری اور دیہی با اردو اسپیکنگ اور سندھی اسپیکنگ کے درمیان خلیج کا پوری طرح نہیں پاٹا جا سکا۔ اس کا ایک اور مظاہرہ اس وقت دیکھنے میں آیا۔ جب سندھ یو نیورسٹی کے کانووکیشن کے انعقاد کے موقع پر جئے سندھ طلباء تنظیم نے یہ اعلان کر دیا کہ وہ اس وقت کی گورنر سندھ بیگم رعنا لیاقت علی خان سے ڈگریاں وصول نہیں کرینگے۔ اس وقت گورنر نے بھی یہ موقف اختیار کیا کہ اگر چانسلر کی حیثیت سے یہ طلباء مجھ سے ڈگریاں نہیں لینا چاہتے تو میں بھی ان ڈگریوں پر دستخط نہیں کرونگی۔ صورت حال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بھٹو صاحب نے ہنگامی طور پر اس وقت کے وزیر تعلیم عبدالحفیظ پیر زادہ اور خاتون اول بیگم نصرت بھٹو کو بھیجا کہ وہ بیگم رعنا لیاقت علی خان کے ساتھ کانو وکیشن میں شرکت کریں۔ یہ تقریب ہڑ بونگ کا شکار ہوئی۔عبد الحفیظ پیر زادہ کو جئے سندھ کے ایک رہنماء نے تھپڑ مار دیا۔ ڈیوٹی پر موجود ایس پی دل کا دورہ پڑنے پر جاں بحق ہوگیا۔سندھ میں لسانی کشمکش اور اس سے پیدا ہونے والی صورت حال اس کے محرکات، ایم کیو ایم کا قیام اور اس دوران پیش آنے والے واقعات کا سائیں جی ایم سید سے ملاقاتوں کا احوال کبھی پھر سناؤنگا۔29ستمبر1988کو حیدر آباد میں ہونے والے قتل عام کے بعد میں نے متعدد اقساط پر مشتمل سندھ کا مقدمہ لکھنے کی کوشش کی اور میری مسرت کی اس وقت کوئی انتہا نہ رہی۔ جب مجھے محترم ارشاد حقانی جن کے قلم کو قدرت نے آنکھیں بھی دے رکھی تھیں۔ مجھے فون کرکے کہا کہ نوائے وقت میں تمہارا تحریر کردہ سندھ کا مقدمہ پڑھ کر مجھے بعض ایسے حقائق کا ادراک ہوا جو مجھ سے پوشیدہ تھے۔ مجھے یاد ہے کہ اس وقت ان تلخ یادوں کو لکھنے میں اگر ہمارے چیف ایڈیٹر محترم مجید نظامی مرحوم کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی حاصل نہ ہوتی تو شاید میرے لئے یہ ممکن نہ ہوتا۔

میرے ایک عزیز دوستنے مجھ سے شکایت کی ہے کہ میں اپنی تحریروں میں پرانی یادیں تازہ کرتا رہتا ہوں۔ان کا شکوہ یہ ہے کہ ماضی گزر گیا ہم حال میں رہ رہے ہیں۔اس سے سیکھ کر ہمیں مستقبل میں جھانکنا چاہیئے۔ سچی بات یہ ہے کہ ماضی کو کرید کر گزرے وقت کے حالات و واقعات کے اوراق کو پلٹتے رہنا چاہیئے۔ میں ان کی یادوں کی ورق گردانی کرتے ہوئے فخر محسوس کرنے لگتا ہوں۔وہ بھی ایک شخص تھا۔ جس نے بھٹو کے کہنے پر پاکستان کے ایٹمی پلانٹ کی بنیاد رکھی۔ غیر سیاسی ما حول میں اس نے دن رات کام کیا اوردس پندرہ سال میں ڈاکٹر عبد القدیر بن کر ابھرا۔ عقل سوال کرتی ہے۔ جب ایک ڈاکٹر عبد القدیر اس ملک کو جو اکیسویں صدی میں کھڑے ہو کر سائیکل کی چین اور بیئرنگ باہر سے منگوا تا ہو۔ دنیا کی ساتویں نیو کلیئر پاور بنا سکتا ہے تو ملک کے باہر بیٹھ کر اس کی بربادی کا تماشہ دیکھنے والے ساڑھے تین لاکھ ڈاکٹر عبد القدیر اور لاکھوں کام کرنے والے ہاتھ اور اتنے ہی سوچوں والے دماغ اسے جاپان، کوریا اور سنگا پور کیوں نہیں بنا سکتے۔ ظلم یہ نہیں ہے کہ ہم بہت پیچھے ہیں ظلم یہ ہے کہ ہم اس ٹیلنٹ کے با وجود پیچھے ہیں جو پوری دنیا میں ہر شعبے میں قابل فخر کارکردگی دیکھا رہا ہے۔ وعدہ تو یہ کیا گیا تھا کہ انہی واپس لایا جائے گا انکے لئے ملازمتیں اور مواقع پیدا کئے جائینگے۔ لیکن آج ہم کہاں کھڑے ہیں موجودہ حکومت کے لئے تو یہ کہا جاتا سکتا ہے کہ اس کی مثال اس ٹرین کی مانند ہے جس کا چند کلو میٹر کے بعد انجن فیل ہو جاتاہے۔ کبھی بوائلر پھٹ جاتا ہے، کبھی پسٹن جواب ہو جاتا ہے، کہیں پانی ختم ہو جاتا ہے، کہیں پہیئے جام ہو جاتے ہیں، کہیں پٹری ٹوٹ جاتی ہے۔ رہی سہی کسر کرونا نے پوری کر دی ہے۔
تاریخ کا سبق یہ ہے کہ قوموں کا سرمایہ کھیت، فیکٹریاں، گاڑیاں، ادارے اور نوٹوں سے بھری تجوریاں نہیں ہوتیں۔ لوگ ہوتے ہیں اپنے ملک سے محبت کرنے والے۔ہنر مند لوگ، کسی قوم کا ایک دانشور عالم، سائینس دان، ڈاکٹرز، انجینئرز حالات سے پریشان ہو کر نقل مکانی کرجائیں تو اس سے بڑی قلاش قوم کوئی اور نہیں ہوتی خواہ اس ملک کے سارے پہاڑ سونے کے بن جائیں، نہروں، دریاؤں اور بیراجوں میں پانی کے بجائے تیل بہنے لگے اور تمام درختوں سے اشرفیاں اترنے لگیں۔
تاریخ کے نزدیک حکمرانوں کی انفرادی ایمانداری اور شخصی شرافت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ ایسے متعدد نام لئے جا سکتے ہیں جن کے کھاتے میں ذاتی ایمانداری کے علاوہ کوئی کارنامہ نہیں۔ انہوں نے کوئی قوم تعمیر نہیں کی۔ انہوں نے کوئی نیا نظام نہیں دیا۔ انہوں نے کسی سسٹم کی اصلاح نہیں کی۔ نہ انصاف دلایا، نہ تعلیم، نہ صحت غربت اور نہ طبقاتی تقسیم ختم کی اور نہ معاشی عدل قائم کیا لہذا تاریخ نے انہیں بھلا دیا۔ انسانی حافظے نے انہیں فراموش کر دیا۔
تاریخ کا سبق یہ ہے کہ اگر موج موج ہے تو کناروں سے ٹکراتی ضرور ہے۔ اگر ہوا ہوا ہے تو قطرہ خون میں ضرور اترتی ہے اور اگر روشنی روشنی ہے تو اندھیروں کا سینہ ضرور چیرتی ہے۔