بلاول کا ٹرین مارچ ۔۔۔۔۔ کارکنوں کے چہروں پر خوشی اور جدوجہد کے لئے ولولہ

تحریر نغمہ اقتدار

طویل عرصے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے چہروں پر خوشی اور جدوجہد کے لیے ولولا دکھائی دیا ۔جئے بھٹو بے نظیر اور بلاول کے پرجوش نعرے لگاتے ہوئے بہت بڑی تعداد میں پی پی پی کے کا رکنا ن کراچی کے کینٹ سٹیشن پر جمع ہوئے جو بلاول بھٹو کے ٹرین مارچ میں جانے کے لئے اسٹیشن آئے تھے پارٹی پرچموں کو تھا م اور نعرے لگاتے ہوئے وہ اس بات پر بہت پرجوش دکھائی دیے کہ پارٹی دوبارہ سیاسی میدان میں جدوجہد کرنے کے لئے کوشاں ہے ۔پارٹی قائدین اور کارکنان بڑی شدت سے اپنے جذبات کا اظہار کرتے دکھائی دیے ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو نے جس جدوجہد کو آگے بڑھایا تھا اب بلاول اس خلا کو پر کر دے گا ۔گزشتہ دس سالوں میں پارٹی کا سیاسی کردار کم کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے آج پارٹی کی عزت کو مشکل دے دیکھنے پڑے ۔جدوجہد نے بے نظیر بھٹو کے خلاف لگائے تمام الزامات کو غلط ثابت کردیا تھا ۔پارٹی کارکنوں کا خیال تھا کہ موجودہ قیادت نے سیاسی جدوجہد کے میدان میں واپس آنے میں تاخیر کردی ہے جس کی وجہ سے آج حکمران سیاسی معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہے ۔
اپنے پارٹی کارکنوں کا خیال ہے کہ بلاول کا 10سالہ جمود کو توڑ کر باہر آگئے ہیں اور اب پارٹی اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے ۔بلاول بھٹو زرداری نے کینٹ سٹیشن اور لانڈھی میں کارکنوں اور عوام سے خطاب کیا اور اور بار بار اس عزم کو دہرایا کہ وہ جدوجہد جاری رکھیں گے خواجے جاناپڑے کا پارٹی قائدین کا خیال تھا کہ پارٹی نے دس سالوں میں جدوجہد اس لئے نہیں کیونکہ دودھ کو سیکورٹی کے خطرات لاحق تھے ۔کراچی کینٹ سے لانڈی تک کے سفر کے دوران ٹرین میں بلاول بھٹو کے نعرے گونجتے رہے ۔جب کہ راستے میں دونوں جانب کارکنان اور یہ دو معنی پرچم سامنا رہے گا تے ہوئے دکھائی دیے دیواروں پر بھی پارٹی کے جھنڈے اور نعرے درج تھے ایک کارکن نے کہا کہ ہم یہ سب کچھ دیکھنے کو ترس گئے تھے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں