سنتھیا نے یہ نازیبا الزامات ‘کسی مخصوص گروہ’ کے اکسانے پر لگائے ہیں?

اسلام آباد میں مقیم امریکی شہری سنتھیا ڈان رچی نے پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے کچھ سینیئر رہنماؤں پر ریپ اور دست درازی کا الزام لگایا ہے۔ اس سے قبل وہ پاکستان کی سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کی سابق چیئرمین محترمہ بےنظیر بھٹو کے حوالے سے سنگین نوعیت کے الزامات لگا چکی ہیں، تاہم پیپلز پارٹی نے تمام الزامات کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے سنتھیا ڈی رچی کو جلد از جلد ملک بدر کرنے کی درخواست کی ہے۔

سنتھیا رچی کے معاملے پر اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت کے جسٹس آف پیس نے پیپلز پارٹی اسلام آباد کے صدر شکیل عباسی کی درخواست پر ایف آئی اے، سائبر کرائمز ونگ اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کے حکام کو نو جون کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

جب کسی علاقے کا ایس ایچ او کسی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرتا ہے تو پھر مقامی عدالت کے جسٹس آف پیس سے رجوع کیا جاتا ہے۔ تاہم سندھ میں حکمراں جماعت ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی نے اب تک کہیں بھی سنتھیا کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کروایا ہے۔

گذشتہ رات سوشل میڈیا پر اپنے ایک ویڈیو بیان میں سنتھیا رچی نے پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک پر ریپ کرنے کا الزام لگایا۔ اس کے علاوہ انہوں نے سابق وزيراعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق وزیر صحت مخدوم شہاب الدین پر بھی دست درازی کے الزامات عائد کیے۔

سنتھیا رچی کے الزامات کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں سے ان کا موقف جاننے کی کوشش کی۔

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پانچ ماہ قبل سنتھیا سے ان کی زندگی میں پہلی بار ملاقات ہوئی۔ ‘اسلام آباد میں ایک سفارت کار کے گھر پر ہونے والی اس ملاقات میں امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر جلیل عباس جیلانی بھی موجود تھے۔ اس دن سنتھیا سے میری ون آن ون ملاقات نہیں ہوئی، ملاقات میں کافی لوگ موجود تھے۔’

ان کا مزید کہنا تھا کہ جس دوران وہ وزیر اعظم پاکستان کے عہدے پر فائز تھے، ان کی سنتھیا رچی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔

مزید پڑھیے

کرونا کے بعد پیپلز پارٹی کو سنتھیا رچی کا سامنا

بینظیر کے بارے میں دعوے ثابت کرسکتی ہوں، سنتھیا رچی

ڈئیر سنتھیا ! یہ تم کہاں پھنس گئیں
یوسف رضا گلانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘اس امریکی خاتون کی جانب سے محترمہ بے نظیر بھٹو پر لگائے گئے الزامات کے بعد میرے بیٹے علی حیدر گیلانی نے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ میں ان کے خلاف شکایت درج کروانے کا فیصلہ کیا تھا اس لیے یہ خاتون میرا نام لے کر مجھے بدنام کرنا چاہ رہی ہیں۔’

یوسف رضا گیلانی کے بیٹے قاسم گیلانی نے بتایا کہ گذشتہ سال ایک تقریب میں ان کے بھائی علی حیدر گیلانی کی ملاقات سنتھیا رچی سے ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں سنتھیا نے یوسف رضا گیلانی کے حوالے سے کئی تعریفی کلمات ادا کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا: ’اگر گیلانی صاحب نے ان کے ساتھ غلط سلوک کرنے کی کوشش کی تھی تو سنتھیا رچی ان کی اس قدر تعریفیں کیوں کر رہی تھیں؟‘

اس حوالے سے جب ہم نے سنتھیا رچی سے ان کا موقف لیا تو انہوں نے علی حیدر گیلانی کے ساتھ ہونے والی ملاقات کی تصدیق کی اور کہا کہ ’برسوں بعد جب میں ان (یوسف رضا گیلانی) کے بیٹے سے ملی تو میں نے اس معاملے (کو سمجھ نہیں سکی تھی) میں دو اور دو ساتھ نہیں ملا سکی تھی کہ ان کا (علی حیدر گیلانی) تعلق کس سے ہے اور ان کا بیٹا مجھ سے بہت پر اخلاق تھا۔ یقیناً، میں اس شخص کے ساتھ بہت خلوص سے پیش آتی ہوں جو میرے ساتھ پراخلاق ہے اور اگر وہ مجھے پسند نہیں کرتے ہیں مگر وہ بنیادی تمیز اور اخلاق دکھاتے ہیں۔ وہ ایک بہت ہی شائستہ نوجوان لگ رہا تھا اور مجھے اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا کہ ان (یوسف رضا گیلانی اور علی حیدر گیلانی) کا آپس میں کہ کوئی رشتہ ہے۔’

سنتھیا رچی سے جب ہم نے سابق وزیراعظم سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ہمیں بتایا کہ پاکستان آںے کے بعد یوسف رضا گلانی سے ان کی پہلی ملاقات 2013 میں وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹ جانے کے بعد ہوئی تھی جب وہ ایوان صدر میں مقیم تھے۔

’انہوں نے مجھے اور کچھ لوگوں کو دعوت پر بلایا تھا۔ اس ملاقات میں وہ مجھے تھوڑے بیمار بھی لگ رہے تھے۔ جب میری ان سے ون آن ون ملاقات ہوئی تو وہ میرے کافی قریب آ کر کھڑے ہوگئے اور ان کے ہاتھ میرے سینے کی دونوں جانب تھے۔ جس پر میں نے انہیں جھٹک دیا۔‘

ہم نے سنتھیا سے پوچھا کہ کیا انہوں نے اس حوالے سے کسی سے شکایت کی تو انہوں نے کہا کہ ’گروپنگ کو پاکستان میں جرم نہیں سمجھا جاتا، اس لیے اس تقریب میں بھی میرے ارد گرد لوگوں نے اس پر اعتراض نہیں اٹھایا اور میں نے بھی کسی سے شکایت نہیں کی۔‘

سنتھیا رچی نے پاکستان کے سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک پر بھی ریپ کا الزام لگایا ہے، تاہم رحمٰن ملک نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یہ نازیبا الزامات ‘کسی مخصوص گروہ’ کے اکسانے پر لگا رہی ہیں۔ رحمٰن ملک کے مطابق: ‘یہ الزامات بدنیتی پر مبنی ہیں اور ان کا مقصد پیپلزپارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔’

(تصویر: سنتھیا ڈی رچی ٹوئٹر اکاؤنٹ)

سنتھیا رچی سے انڈپینڈنٹ اردو نے سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک پر لگائے گئے الزامات کے حوالےسے کچھ سوالات کیے۔

ہم نے ان سے پوچھا کہ یہ واقعہ کب اور کہاں پیش آیا؟ تو انہوں نے بتایا کہ مئی 2011 میں اسامہ بن لادن کے خلاف پاکستان میں ہونے والے آپریشن کے چند دن بعد ان کی رہائش اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں منتقل کر دی گئی تھی۔

سنتھیا کے مطابق رحمٰن ملک ان سے پاکستانی ویزے کے حوالے سے بات کرنا چاہتے تھے۔ اس دن رحمٰن ملک نے ایک گاڑی ان کی رہائش گاہ پر انہیں پک کرنے کے لیے بھیجی تھی جس نے انہیں منسٹرز انکلیو میں ڈراپ کیا، جہاں پر رحمٰن ملک کے کمرے میں ایک بڑا گلدستہ، چند ڈرنکس اور ایک سام سنگ کے مہنگے موبائل کا گفٹ موجود تھا۔ اس ملاقات کے بعد رحمٰن ملک نے انہیں دو ہزار پاؤنڈز بھی دیے تھے۔

سنتھیا کا کہنا تھا: ’دو ڈرنکس پینے کے بعد مجھے یہ احساس ہوا کہ اس میں کوئی ڈرگ موجود ہے اور اس کے بعد میرا ذہن ماؤف ہوگیا اور رحمٰن ملک نے میرے ساتھ ریپ کیا۔‘

سنتھیا کے مطابق یہ ملاقات رات آٹھ بجے کے قریب منسٹرز انکلیو میں ہوئی تھی۔ سنتھیا کے ان دعوں کے حوالے سے جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ اگر یہ ملاقات کام کے حوالے سے تھی تو انہوں نے دن کے اوقات میں سابق وزیر داخلہ کے آفس میں ملنے کی درخواست کیوں نہیں کی؟

جس پر انہوں نے جواب دیا: ’میں وزیر داخلہ رحمٰن ملک کو پہلے سے جانتی تھی، بلکہ وہ مجھے یہ مشورہ بھی دے چکے تھے کہ میں اس وقت کے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی کی بیٹی کی این جی او ‘ہیومینیٹی ہوپ’ میں کام نہ کروں کیوں کہ اس وقت اعظم سواتی کے خلاف تحقیقات چل رہی تھیں۔ میں رحمٰن ملک کو شریف سمجھتی تھی، مجھے اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس مقصد کے لیے مجھ سے ملاقات کرنا چاہ رہے ہیں۔‘

سابق وزیر صحت مخدوم شہاب الدین

سنتھیا ڈی رچی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ویڈیو میں سابق وزیر صحت مخدوم شہاب الدین پر بھی دست درازی کا الزام لگایا گیا ہے، تاہم مخدوم شہاب الدین نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

البتہ سنتھیا رچی نے ہمیں مخدوم شہاب الدین پر لگائے گئے الزامات کے حوالے سے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ جب وہ پاکستان آئیں تو جس دوران انہیں محمکہ صحت کی جانب سے تین کمروں پر مشتمل ایک ڈورم میں رہنے کی جگہ دی گئی تھی اس دوران مخدوم شہاب الدین کا ان کے ڈورم میں کافی آنا جانا رہتا تھا، بلکہ ان سے اچھی دوستی بھی تھی۔

سنتھیا کا دعویٰ ہے مخدوم شہاب الدین نے ایک بار ان کے کندھے کا مساج کرنے کی کوشش کی، جو انہیں برا لگا اور انہوں نےمخدوم شہاب الدین کو فوراً روک دیا تھا، مگر جب انہوں نے دوبارہ ایسا کرنے کی کوشش کی تو سنتھیا نے ان سے دوری اختیار کی، جس کے نتیجے میں سنتھیا سے ان کی رہائش اور سفری سہولیات بھی واپس لے لی گئی تھیں۔

ان کا مذید کہنا تھا کہ ’میں انہیں اپنے ڈورم میں آتے ہو دیکھتی تھی اور وہ میرے بیڈروم میں آ رہے ہوتے تھے اور آ کر مجھے کندھے کے مساجز دینے لگتے تھے۔ میں کہتی تھی کہ میک (مخدوم) تم کیا کر رہے ہو۔ ایک موقع پر وہ بیک مساجز میری کولہے تک پہنچ گئے تھے اور میں نے کہا یہ قابل قبول نہیں ہے، تم کیا کر رہے ہو، تم کیا کر رہے ہو ، اس نے یہ میرے ساتھ تین یا چار مرتبہ کیا تھا۔ میں نے کہا یہ اب قابل قبول نہیں ہے۔ ‘

سنتھیا نے اس بات کو بیان کرنے کے لیے جو الفاظ استعمال کیے ان کا ہو بہو اردو ترجمہ یہ ہے:’ میرے پاس اپنا الگ کمرہ اور سویٹ تھا اور وہ اندر آجاتے تھے۔ ’بنیادی طور وہ اپنی مرضی سے آتے جاتے رہتے تھے اور کبھی کبھی میں جاگ جاتی تھی کیونکہ میں پاکستانیوں سے مختلف اوقات میں سوتی ہوں جب میں کسی اسائنمنٹ پر نہیں ہوتی تھی۔‘

نامہ نگار عبداللہ جان سے بات کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر اور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم شہاب الدین نے سنتھیا رچی کے الزامات کو لغو اور گھٹیا قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی خاتون جھوٹ بول رہی ہیں۔

اپنے آبائی شہر رحیم یار خان سے انڈپینڈنٹ اردو سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ سنتھیا رچی کسی کے مشوروں پر عمل کر رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان اوچھے طریقوں سے وہ پیپلز پارٹی کی ساکھ کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گی۔

مخدوم شہاب الدین نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ سنتھیا رچی کی عزت کی ہے۔ ’وہ اکثر میرے دفتر آیا کرتی تھیں۔ اور کبھی کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا۔‘

سابق وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ سنتھیا رچی محض سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے یہ سب کچھ کر رہی ہیں اور انہوں نے مرے ہوئے لوگوں کو بھی نہ بخشا تو اندازہ لگا لیں کہ عزائم کیا ہیں۔

امریکی شہری سنتھیا رچی پر سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو سے متعلق ٹویٹس کرنے کے بعد سے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور حامیوں کی جانب سے اعتراضات کیے جا رہے ہیں اور وہ بیشتر الزامات کے خود جواب دے رہی ہیں، خصوصاً پیپلز پارٹی کے حامیوں کی جانب سے انہیں بھیجے گئے پیغامات کے سکرین شاٹس شیئر کرکے انہوں نے بتایا ہے کہ انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔

سنتھیا اس سے قبل بےنظیر بھٹو کی صاحبزادی بختاور بھٹو کے حوالے سے بھی متنازع ٹویٹس کرنے پر تنقید کا نشانہ بن چکی ہیں جبکہ پی ٹی ایم کی رکن گلالئی اسماعیل کے حوالے سے بھی وہ متنازع ٹویٹس کرتی رہی ہیں جس پر انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ سب یہی پوچھ رہے ہیں کہ انہوں نے ان الزامات کے عائد کرنے کے لیے یہ ہی وقت کیوں چنا۔

رمیشہ علی
نامہ نگار، کراچی

انڈپینڈنٹ اردو