والد پر الزامات لگانے پر حامد میر نے فیاض چوہان کو ایک ارب روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوا دیا

والد پر الزامات لگانے پر حامد میر نے فیاض چوہان کو ایک ارب روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوا دیا ہے۔ سینئر صحافی حامد میر نے اپنے والد پروفیسر وارث میر پر الزامات لگانے پر وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان کو ایک ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوا دیا ہے۔ انہوں نے قانوی نوٹس میں موقف اختیار کیا ہے کہ صوبائی وزیرِ اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے اپنی تحریروں میں وارث میر پر بھارت، مکتی باہنی اور ریاست مخالف دشمنوں کی حمایت کا لغو الزام لگایا تھا۔
حامد میر کی جانب سے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ان جھوٹے الزامات کا مقصد وارث میر کے خاندان اور حامد میر کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا، وارث میر نے کبھی بنگلادیش کے قیام کی حمایت نہیں کی تھی۔
قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وارث میر کی زندگی انصاف، سچ، جمہوری اصولوں اور آزادی اظہار رائے کی جدوجہد میں گزری۔ نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 14 دن میں اپنے بیان پرمعافی مانگیں یا 1 ارب روپے ہرجانہ ادا کریں۔

اگر معافی نہ مانگی گئی تو صوبائی وزیر کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا جائے گا۔خیال رہے کہ فیاض الحسن چوہان اکثر اپنے ایسے بیانات اور تحریروں کی وجہ سے تنازعات کا شکار ہوتے رہتے ہیں، انہوں نے کچھ عرصہ قبل وارث میر کے حوالے سے ایک تحریر میں انہین بھارت، مکتی باہنی اور ریاست مخالف دشمنوں کی حمایت کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک بار ہندو برادری سے متعلق نازیبا گفتگو کی تھی جس پر انہیں وزرات اطلاعات سے ہاتھ بھی دھونے پڑے تھے تاہم کچھ عرصے بعد انہیں دوبارہ وزارت اطلاعات دے دی گئی۔ اس کے بعد انہوں نے مرحوم صحافی وارث میر پر شند الزامات عائد کیے تھے جس کے حوالے سے انہیں حامد میر نے قانونی نوٹس بھیج دیا ہے۔