کچھ نہیں بدلا

کچھ نہیں بدلا

تحریر- شہناز احد

یہ ستر کی دہائ کے آخری سالوں میں سے 78 یا 79 کی بات ہے۔ رمضان کا مہینہ اور گر میوں کا موسم تھا۔ لوگ سحری کے آخری لوازمات -یعنی پانی چاۓ سے فارغ ہورہے تھے کہ موذن کی آواز گونجی اور اس کے ساتھ ہی ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ فضا مٹی اورسیمنٹ سے آلودہ ہو گئ تھی، ہر طرف کراہیں اورچیخ وپکار تھی۔ قرہب کی بلڈنگوں سے لوگ بھاگتے ہویے اُس سمت گئے جہاں حادثہ ہوا تھا۔ تھوڑی دیر میں گلیاں بھر گئیں اور آہ و بکا شروع ہوگئ۔

یہ حادثہ اسی شہر کراچی کے لیاری کی مسان روڈ کی آگے پیچھے کی گلیوں کا ہے۔
لوگ جمع تھے بھاگ دوڑ بھی رہے تھے۔ بہت کچھ کرنا بھی چاہتے تھے لیکن کر نہی پاتے تھے۔
بجلی کے تار ٹوٹ گۓ تھے گلیوں میں اندھیرا تھا خوف تھا۔ ملبے میں دبے لوگوں کی آہ وبکا تھی۔ کسی کی سمجھ میں یہ نہی آرہا تھا کہ کہاں سے شروع کریں؟ اور کیا کریں؟
اس وقت اس شہر میں دو ہی رفاہی تنظیمیں تھیں جو ایسے مواقع پر آگے بڑھ کر کام کرتی تھیں۔
دن کی روشنی پھیلی تو خبر بانٹوا میمن جماعت اور ایدھی کے دفتر تک بھی پہنچ گئ۔
فون نام کی شے بہت عنقا ہوتی تھی۔ زیادہ تر خبریں سینہ در سینہ شام کے اخباریا رات کی خبروں کے ذریعے عوام الناس تک پہنچتی تھیں۔
یہ بڑی اور بری خبر تھی کہ جیتے جاگتے انسانوں سے بھری ایک چار منزلہ عمارت عین اذان کے وقت نہ صرف یہ کہ بیٹھ گئ تھی، بلکہ آدھا دن گزر جانے کے باوجود وہاں امدادی کارروائیاں شروع نہ ہوسکی تھیں۔
اس علاقے کی گلیاں اتنی تنگ تھیں کہ امدادی کارروائ کے لئے جانے والی کوئ گاڑی وہاں تک نہ پہنچ پاتی تھی۔
صبح کی شام ہوگئ تھی عمارت کے ملبے میں دبی انسانی آوازیں کمزور پڑتی جارہی تھیں۔ اخباری رپورٹرز چکر لگا لگا کر بیٹھ گۓ تھے۔
اپنی مدد آپ کے تحت علاقہ مکیں ہاتھوں سے کچھ تھوڑا بہت ملبہ اٹھا پاۓ تھے۔
رات کا اندھیرا پھیلنے لگا تو ہر مرض کی دوا پاکستان آرمی نے اس علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور انھوں نے بھی ہاتھوں سے ملبہ صاف کرنا شروع کردیا۔
لائٹ بند تھی اور اس وقت شہر میں کسی قسم کے متبادل کا انتظام نہ تھا۔ لالٹینوں اور گیس کی لایٹوں کے سہارے رات بھر کام جاری رہا اور صبح ہوگئ۔
اب شہر میں خبر پھیل چکی تھی لہذا تماش بینوں کی آمدورفت بھی شروع ہوچکی تھی۔
قانون کے رکھوالے ان سے بھی نبرد آزما تھے۔
وہ گلیاں اتنی تنگ تھیں کہ ملبہ بھی وہاں جمع نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ٹرالیوں کے ذریعے دور کھڑے ٹرکوں میں ملبہ بھرا جارہا تھا۔
اگر مجھے صحیح یاد ہے تو شاید دو دن کے بعد پہلا انسانی جسم نظر ایا تھا۔
پورا ایک ہفتہ انسانوں کی تلاش جاری رہی تھی۔ آخر میں ملنے والے انسانی جسم اتنی بو سیدگی کا شکار تھے کہ جب لاؤڈ اسپیکر پر کئ گلی پیچھے کھڑی ایمبولینس سے اسٹریچر لانے کا کہا جاتا تھا تو وہ اس پر چونا ڈال کر اور چونے کا ڈبہ ہاتھ میں لے کر آتے تھے۔ اور اس گھلتے ہوۓ جسم پر چونا چھڑکتے ہوۓ لے جاتے تھے۔
میں نے اپنے بچپن میں سڑک پر مرے کتوں پر جمع داروں کو چونا چھڑکتے دیکھا تھا یا ان دنوں لیاری کی گلیوں میں انسانوں پر ۔۔۔۔۔ وہ منظر میری آنکھوں سے آج تک اوجھل نہی ہوسکا۔
ایک ہفتے تک انسانی جسم نکلتے رہے تھے اور کئ ہفتوں تک ملبہ صاف ہوا تھا۔
اس حادثے میں بہت سارے سبق تھے اور میرا خیال تھا کہ علاقے کے لوگوں نے عبرت پکڑی ہوگی۔

اور چالیس سال بعد پھر ایک بلڈنگ گری۔
کل شام سے میری گناہ گار آنکھیں پھر وہی منظر دیکھ رہی ہیں۔
آج اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود لوگ ہاتھوں سے سیمنٹ کی دیواروں کے ٹکڑے اٹھا کر ادھر سے ادُھر کر رہے ہیں۔
آج بھی ملبے تلے انسان اسُی طرح دبے ہوۓ ہیں۔
حالانکہ اس شہر میں جمہوری حکومت کا چیف منسٹر بھی ہے۔ مئیر بھی ہے۔ بلدیاتی نمائندے بھی ہیں۔ اور بلدیہ بھی ہے بمع اپنی عمارت کے۔ صوبائ اور قومی اسمبلیوں کے نمائندے بھی ہیں۔ ہائ کورٹ ججوں سے بھری پڑی ہے۔ ہے تو یہاں سپریم کورٹ بھی۔
اور لیاری کے درد میں ڈوبی پیپلز پارٹی کی حکومت بھی ہے۔
کے ڈی اے نامی ادارہ بھی سانسیں لے رہا ہے۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا ہاتھی بھی جھومتا ہے۔
لیکن اس شہر کا کوئ پرسان حال نہی۔
ہر ادارہ ایک “ کرونا” ہے۔
ایک لا علاج “ کرونا”۔۔۔
اس کرونا کی بھی کوئ ویکسین نہی۔
مجھے کل سے “ بسم اللہ بلڈنگ” یاد آۓ جارہی ہے….. یادآۓ جارہی ہے