پاکستان میں جولائی کے آخر میں کرونا کیسز عروج پر ہوں گے، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کرونا کی صورتحال پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امیر ترین ملکوں میں کرونا کی وجہ سے تباہی آئی، عوام نے احتیاط نہ کی تو بہت مشکل وقت آنے والا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ کرونا وائرس ختم ہوجائے گا، لاک ڈاؤن سے کرونا وائرس کا تیزی سے پھیلاؤ کم ہوجاتا ہے، جہاں زیادہ لوگ جمع ہوتے ہیں وہاں وائرس تیزی سے پھیلتا ہے، لاک ڈاؤن کی وجہ سے محنت کش، غریب لوگ مشکل وقت سے گزرے
عمران خان نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کرونا پھیلے گا مگر ہم اس کی رفتار کم رکھنا چاہتے ہیں، کوشش ہے پاکستان میں کرونا تیزی کے بجائے آہستہ سے اوپر جائے، کرونا کی رفتار کم کرنے کی وجہ ہمارے صحت کے نظام کو بہتر بنانا ہے، کرونا کی رفتار کم نہ ہوئی تو صحت کے نظام پر دباؤ بڑھ جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ ڈھائی ماہ میں کرونا کی صورتحال قابو میں رہے، کرونا کی وجہ سے مختلف امراض کے لوگوں کو خطرہ ہے، بے احتیاطی کی تو سب کی زندگی اور ملک کو خطرے میں ڈالیں گے

courtesy Ary News