کہانی ایک عظیم جرنیل کی جس نے قوم کے بچوں کو جہاد کے نام پر افغانستان میں مروایا اور اپنے بچوں کو امریکہ میں پڑھایا ۔۔۔۔

آئیے آج آپ کا تعارف ایک عظیم جرنیل سے کرواتے ہیں جس نے یہ کہانی ایجاد کی کہ افغانستان میں کمیونسٹ حکومت کی درخواست پر بغاوت کچلنے کے لیئے آنے والے روسی فوج کے دستے دراصل پاکستان پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں. اور پھر اس عظیم مجاہد نے قبائلی علاقوں میں ٹریننگ کیمپ بنا کر پاکستانی بچوں کو ٹریننگ دے کر روس کے خلاف جہاد کے لیئے افغانستان بھیجنا شروع کر دیا.

کہانی اگر یہاں تک ہوتی تو سب اچھا تھا اور بوٹ چاتنے والے جاہل خوشی خوشی تالیاں بجاتے ہوئے کہتے کہ اگر —– نہ ہوتی تو آج ہم روس کی کالونی ہوتے یا جیسے عام طور پر کہتے ہیں یعنی عراق یا سیریا ہوتے. لیکن زرا رکیئے. کہانی صرف یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ اصل کہانی تو یہاں سے شروع ہوتی ہے. آئیے آپ کو بتاتے ہیں کیسے.
کے اس عظیم مجاہد نے ملک کے لاتعداد نوجوانوں کو امریکی اوع سعودی امداد سے قائم کیئے گئے مدرسوں میں ٹریننگ دی اور ان کو لڑنے کے لیئے افغانستان بھیجا لیکن جس وقت یہ عظیم جرنیل ہمارے بچوں کو جہاد کی ٹریننگ دے رہا تھا, اس نے اپنے بچوں اور بھتیجوں کو امریکی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے بھیج دیا تاکہ آنے والے وقتوں میں امریکہ سے جہاد کے نام پر ملنے والے ڈالروں کو استعمال کر کے یہ بچے ملک میں اپنا کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کر سکیں.
جہاد سے کچھ فراغت ہوئی تو جرنیل صاحب نے ایک بڑی بزنس ایمپائر کھڑی کر کے امریکہ سے پڑھ کر واپس آنے والے اپنے بیٹوں ہمایوں اختر اور ہارون اختر کے حوالے کر دی. ساتھ ہی اپنے بھتیجے جہانگیر تریں کو بھی چند شوگر ملز لگا کر دے دیں تاکہ اس بیچارے کے گھر کا چولہا بھی جلتا رہے. آج اس عظیم مجاہد جرنیل کے بیٹے ٹنڈیاں والا شوگر ملز, سپیریئر ٹیکسٹائل ملز اور پیپسی پاکستان سمیت متعدد بڑی انڈسٹریوں پر مشتمل ایک بڑی بزنس ایمپائر کے مالک ہیں. جبکہ اسکے بھتیجے جہانگیر ترین کا شمار ملک کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے. سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ ایوب خان کے بیٹے گوہر ایوب اور پوتے عمر ایوب کی طرح جنرل اختر کے بیٹے اور بھتیجے بھی سیاست میں حصہ لیےلتے ہیں اور ہر جیتنے والی ہارٹی کے ساتھ ہو جاتے ہیں.
اس ساری داستان سے ہمیں جو سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ جہاد سب سے بہترین سرمایہ کاری ہے. آپ سب کو چاہیئے کہ آپ اپنے بچوں کو فوج میں بھیجیں تاکہ ان میں سے کوئی جنرل اختر بن سکے اور آپ کی اگلی نسلیں امیر ترین ہو جائیں.
چلو شاباش اب سارے بوٹ پالشیئے —– زندہ آباد کا نعرہ لگاو اور بولو کہ اگر —- نہ ہوتی تو ہم عراق ہوتے یا انڈیا کے غلام ہوتے.
نوٹ: ہمیں یقین ہے کہ بوٹ چاٹنے والے کبھی ہماری بات ہر یقین نہیں کریں گے اس لیئے گوگل سے حوالے بھی لگا دیتے ہیں تاکہ کسی شک و شبہے کی گنجائش نہ رہے.
#جنرل_اختر_عبدالرحمن
from-ali-bhai-fb-wall