برآمدی صنعتوں کے مسائل حل کئے جائیں ، زیرو ریٹنگ بحال کی جائے

برآمدی صنعتوں کے مسائل حل کئے جائیں ، زیرو ریٹنگ بحال کی جائے ۔
غیر ملکی خریداروں نے ادائیگیاں روک کر مسائل میں اضافہ کیا ہے ۔
زیرو ریٹنگ بحال نہ کی گئی تو سینکڑوں صنعتیں بند ہو جائیں گی ۔ میاں زاہد حسین
mian zahid hussain business man fpcci chairman

( 08جون2020)
ایف پی سی سی آئی بزنس مین پینل کے سینئر چیئرمین ،پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ غیر ملکی خریداروں نے سیالکوٹ کی ایکسپورٹ انڈسٹری کی ادائیگیاں روک لی ہیں جبکہ انھیں ریفنڈ بھی ادا نہیں کئے جا رہے ہیں جس سے اس شعبے کو 1 ارب ڈالر تک کا نقصان ہو سکتا ہے ۔ اس شعبہ کو مسائل سے نکالنے کے لئے زیرو ریٹنگ کی سہولت دی جائے تاکہ یہ اپنا وجود قائم رکھ سکے ۔ میاں زاہد حسین سے سیا لکوٹ کے برآمد کنندگان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گارمنٹس، کھیلوں کا سامان، دستانے، آلات جراہی، لیدرگارمنٹس اورہوزری کی صنعت لیکویڈیٹی کے بحران کا شکار ہیں ۔ غیر ملکی گاہکوں نے مال تو منگوا لیا ہے مگر وائرس کی وجہ سے وہ بک نہیں رہا اس لئے ادائیگیاں روکی گئی ہیں جن کا نوٹس لیا جائے اور نو پے منٹ نو ریفنڈ کا سسٹم بحال کیا جائے کیونکہ ایف بی آر کی جانب سے ریفنڈز کی فوری ادائیگی کا وعدہ صرف دعویٰ ثابت ہوا ہے ۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ اگر برآمدکنندگان کے مسائل حل نہیں کئے جائیں گے تو برآمدات کا ہدف جو 25ارب ڈالر ہے کسی صورت میں حاصل نہیں کیا جا سکے گا ۔ انھوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے برآمدات پہلے ہی گر رہی ہیں اور ترسیلات میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے جبکہ سیالکوٹ کی برآمدی صنعت کی ایکسپورٹ میں 30 فیصد سے زیادہ کمی ممکن ہے جس کی جنوری، فروری اور مارچ کی برآمدات کی ادائیگیاں غیر ملکی خریداروں نے غیر معینہ مدت تک روک لی ہیں ۔ ان حالات میں چھوٹی اور درمیانے درجے کی برآمدی صنعتوں کےلئے بجلی کے بلوں اور ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے پیسے نہیں ہیں تاہم زیرو ریٹنگ کی سہولت بحال کی جائے تو صورتحال بہتر ہو سکتی ہے جس سے یہ صنعتیں بھی بچ جائیں گی، ہزاروں افراد کا روزگار بحال رہے گا جبکہ حکومت کو زرمبادلہ کی مد میں بھی آمدنی ہو گی -اگر اس شعبہ کو نظر انداز کیا جاتا رہا تو ہزاروں چھوٹی اور درمیانے درجہ کی صنعتیں بند اور لوگ بے روزگار ہو جائیں گے جبکہ حکومت کی آمدنی بھی متاثر ہو گی ۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کا نوٹس لیا جائے اور ملکی برآمدات سے منسلک صنعتوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں ۔ زیرو ریٹنگ کے خاتمہ سے کاروبار ی برادری کے مسائل اور کرپشن میں اضافہ کے علاوہ کچھ حاصل نہیں کیا جا سکا ہے اس لئے ناکام تجربہ بار بار نہ دہرایا جائے کیونکہ نئی صنعتیں تو لگ نہیں رہی ہیں اور جو چل رہی ہیں انھیں بند ہونے سے بچانے کی ضرورت ہے ۔ اس وقت ملک کو کاروبار شکن نہیں بلکہ کاروبار دوست فیصلوں کی ضرورت ہے ۔

— —
میاں زاہد حسین
03008233364 ۔ 03432226888
سابق وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنا لوجی ، سند ھ
صدرپاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم (پی بی آئی ایف )
سینیئر وائس چیئرمین بزنس مین پینل(بی ایم پی)
صدرآل کراچی انڈسٹریل الائنس (اے کے آئی اے) َ
چیئر مین آل پاکستان لبر یکنٹس مینو فیکچررز ایسو سی ایشن (ایپلما)
سابق چیئرمین کورنگی ایسو سی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی)