سبق سیکھیں جیسینڈاآرڈرن سے

رفیق شیخ

مسلم امہ عشروں کی کوششوں کے باوجود دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکی کہ مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں اور نہ ہی اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق ہے اسلام امن کا مزہب ہے لیکن ایک دھان پان سی خاتون نے چشم زدن میں دنیا پر واضح کردیا کہ مسلمان دہشت گرد نہیں بلکہ دہشت گردی کا شکارہیں اور اپنے رویے اورروپ سے یہ بھی ثابت کیا کہ اسلام بھائی چارے یکجہتی کا مزہب ہے دوسری جانب اس خاتون نے دنیا کے حکمرانوں کو یہ بھی بتایا کہ حکمرانیت کیا ہوتی ہے اپنے ملک کے عوام سے حکمرانوں کا تعلق اور رویہ کیا ہوتا ہے ۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈاآرڈرن نہ صرف اس صدی بلکہ ماضی کے حکمرانوں میں بھی سب سے اوپر نظر آتی ہیں نیوزی لینڈ کے کراسٹ چرچ میں دو مساجد میں دہشت گردی ہوئی جس میں ایک شخص نے چند منٹ میں پچاس نمازیوں کو شہید کردیا یہ کوئی معمولی دہشت گردی نہیں تھی اس طرز کی دہشت گردی کی کوئی نظیر نہیں ملتی اسی طرح نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم ،حکومت ،عوام اور میڈیا نے جو کردار ادا کیا اس کی بھی مثال ڈھونڈنے سے بھی شاید نہ ملے جس طرح پورا ملک رنگ ،نسل اور مزہب کے فرق کے باوجود مسلمانوں کے لیے اٹھ کھڑا ہوا اس کو بھی نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔امریکا اور یورپی ممالک میں جہاں مزہب کے ساتھ ساتھ رنگ اور نسل کا تعصب بڑھ رہا ہے نیوزی لینڈ کا سانحہ اس کی ایک بڑی مثال ہے اس سانحہ میں دو تعصبات شامل تھے ایک مزہب دوسرا رنگ۔لیکن نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسینڈا آرڈرن نے ان دونوں تعصبات کو بھی مات دے دی سانحہ کے فوری بعد جیسینڈا آرڈرن متحرک ہوئیں دہشت گرد کو جن الفاظ سے پکارا اور شلوار قمیض پہن کر اور دوپٹّہ اوڑھ کر متاثرہ خاندانوں کے پاس پہنچیں غم زدہ لوگوں کو گلے لگاکر ان کی دادرسی کی اس سے ان کا ایک متحرک اسٹیٹس مین کا روپ سامنے آیا وزیراعظم کے اس کردار کو سراہتے ہوئے نیوزی لینڈ کے عوام اور میڈیا بھی ان ساتھ کھڑا ہوگیاجیسینڈاآرڈرن کا از خود اور ان کے ساتھ عوام خاص طور سے میڈیا کے لوگوں نے مسلمانوں کا لباس زیب تن کرکے بالخصوص خواتین نے اسکارف یا دوپٹّہ اوڑھ کر جس طرح مسلمانوں کا غم بانٹا اس نے بھی اس ملک مجموعی سوچ کو دنیا پرواضح کیا کہ اس ملک میں تعصب اور دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں، اسکارف جسے مغربی ممالک خاص طور یورپین ممالک نے ایک مسئلہ بناکر اس پر پابندی لگائی آج ان ہی کے ایک ملک میں خواتین اسکارف باندھ کر نکل آئیں،پارلیمینٹ کا اجلاس تلاوت قرآن پاک سے شروع کرانا،جمعہ کی اذان کا ریڈیو ٹی وی پر نشر کرانا،جمعہ کے اجتماع میں وزیراعظم سمیت دیگر مزاہب کے لوگوں کا جمع ہونااور دعا کرنا ایک مہذب اور امن پسند ملک کا مظہر ہے
سانحہ نیوزی لینڈ کے بعد حکومت ،عوام اور میڈیا کا جو کردار سامنے آیا اس میں دنیا خاص طور سے ہمارے حکمرانوں ،عوام اور میڈیا کے لیے بڑا سبق ہے کہ سانحات کے وقت کیا رویہ اور کردار ہونا چاہیے نیوزی لینڈ کی حکومت،عوام اور میڈیا نے اپنے کردار اور رویے سے سانحہ کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے متاثرین کا غم بانٹنے اور ملک کو متحد رکھنے کے لیے یکجا ہوکر متحرک اور مضبوظ کردار ادا کیا اس کے برعکس ہمارے جیسے ترقی پزیر ممالک میں ہونے والے سانحات کے موقع پر حکومت،عوام اور میڈیا کی سمتیں مختلف ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے سے متصادم ہوتی ہیں جس سے صورتحال پرمزید خراب ہوجاتی ہے ملزمان گرفت سے دور ہوجاتے ہیں سانحہ کے اثرات پرقابو پانا مشکل ہوجاتا ہے ملک انتشار کا شکار ہو کر مزید سانحات کو جنم دیتا ہے ۔ اس سبق کو ہمیں نہ صرف دیکھنے کی ضرورت ہے بلکہ اس پر اسی شدت کے ساتھ عمل کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ضرورت اس امر کی بھی نیوزی لینڈ نے جو ایک لازوال مثال قائم کی ہے اس سے بھر پور فائدہ اٹھایا جائے خاص طور پر مسلم امہ یک زبان ہو کر نیوزی لینڈ کے کردار کو دنیا کے سامنے لائے اور یہ واضح کرے کہ دہشت گردی سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں اس کا سب سے بڑا ثبوت نیوزی لینڈ ہے پاکستان جو گزشتہ چار دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار ہے سانحہ نیوزی لینڈ میں بھی دس پاکستانی شہید ہوئے ہیں اسے آگے بڑھ کراپنے پر لگنے والے الزامات سے نجات حاصل کرنی چاہیے پاکستان کو نیوزی لینڈ سانحہ پر حکومت عوام اور میڈیا کے کردار کو نظیر کے طور پر دنیا سامنے لا نا چاہیے اوراس صورت حال کو گواہ بناکر مسلمانوں اور خاص طور سے پاکستان پر لگنے والے الزامات سے باعزت بری ہوا جاسکتا ہے پاکستان دنیا بھر میں اپنے سفارت خانوں کو متحرک کرے نیوزی لینڈ جو بیانیہ ترتیب دیااسے وسیع پیمانے پر پھیلائیں اسی طرح باہر رہائش پزیر پاکستانیوں کو بھی اعتماد میں لے کر انھیں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے بیانیے کو حکومتوں اور عوام کی سطح تک پہنچانا چاہیے بیرون ملک مقیم پاکستانی ہی حقیقی سفیر ہیں جو ملک چلانے کے لیے پیسے بھی بھیجتے ہیں اور ملک کی ساکھ بہتر بنانے لیے سفارت کاری بھی کرتے ہیں دنیا کے مختلف ممالک میں حکومتی عہدوں پر ہیں ارکان پارلیمینٹ ہیں کئی شہروں کے میئر کئی علاقوں کے پولیس کمشنر ہیں انھیں پاکستان کی ساکھ کے لیے خصوصی اہداف دیے جائیں ایک طرف یہ سب کچھ کریں تو دوسری طرف اپنے لوگوں خاص طور سے وزرا اور ارکان پارلیمینٹ کی سمت بھی درست رکھیں انھیں بھی مادر پدر آزاد نہ ہونے دیں یہی فرض دیگر سیاسی جماعتوں پر بھی عائد ہوتا ہے کہ ملک کی خاطر ملک لیے اپنی راہ کی سمت درست رکھیں یہ سیکھنے لیے دور جانے کی ضرورت نہیں ہے نیوزی لینڈ اور اس کی وزیراعظم جیسینڈا آرڈرن سامنے ہے۔