کورونا وائرس: کووڈ 19 کے علاوہ وہ چار وائرس جن کے لیے اب تک کوئی ویکسین دریافت نہیں ہوئی

دنیا بھر کے کروڑوں لوگ کورونا کے وبائی مرض سے نجات پانے کے لیے اس کی ویکسین کے منتظر ہیں۔ ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ ویکسین بنانے کے عمل پر کتنی تیز رفتاری سے کام کیوں نہ کیا جائے اس میں وقت لگ سکتا ہے اور اگر بہت خراب صورتحال پیدا ہوئی تو اس کی ویکسین دریافت نہیں بھی ہو سکتی۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ہیلتھ ایمرجنسی کے ڈائریکٹر مائیکل ریان نے کہا: ’اس وائرس کے ساتھ ہمیں رہنا پڑ سکتا ہے۔‘

بہرحال اس وائرس کے ساتھ زندگی گزارنے کا امکان تباہ کن ہو سکتا ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اب تک تقریبا 70 لاکھ افراد اس کی زد میں آ چکے ہیں اور انفیکشن سے چار لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ویکسین کی تلاش برسوں یا عشروں تک جاری رہ سکتی ہے۔

یہ کوششیں ضائع بھی ہو سکتی ہیں اور اچھے نتائج بھی آ سکتے ہیں جیسا کہ ایبولا کی صورت میں دیکھا گیا

ایچ آئی وی وائرس کے بارے میں پتا چلے تیس برس سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ایچ آئی وی وائرس کی وجہ سے ایڈز ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں اب تک تین کروڑ 20 لاکھ افراد کی ایڈز کے مرض کی وجہ سے جان جا چکی ہے۔

ایچ آئی وی نے لوگوں کے طرز زندگی پر نمایاں اثر ڈالا ہے۔ لوگ اپنی جنسی عادتوں کو تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئے کیونکہ ایچ آئی وی انفیکشن کی بنیادی وجہ جنسی تعلق ہے۔

ایڈز کے ابتدائی کیسز ہم جنس پرست لوگوں میں پائے گئے تھے۔ اسی وجہ سے اس بیماری سے بدنامی کا ایک احساس منسلک ہو گیا تھا۔ میڈیا کے کچھ حصوں میں اسے ’ہم جنس پرستوں کا کینسر‘ بھی کہا گیا۔

Courtesy bbc urdu news