پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر کا اقبال محمد علی کے نام خط

پاکستان سپر لیگ 2020ء کے دوران لائیو اسٹریمنگ پر جوئے کی خبروں کے سامنے آنے اور سابق کرکٹرز کی طرف سے اس حوالے سے آواز اٹھنے کے بعد گورننگ بورڈ کے سابق رکن شکیل شیخ اور موجودہ رکن نعمان بٹ نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں پی سی بی کو اس حوالے سے فریق بناتے ہوئے کیس دائر کیا ہے۔

لائیو اسٹریمنگ پر بات کرنے کے اعتبار سے قومی اسمبلی کے رکن اقبال محمد علی خاصے سرکردہ دکھائی دیتے ہیں، گذشتہ ماہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے وفد کے ہمراہ وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات میں اقبال محمد علی نے یہ معاملہ وزیر اعظم عمران خان کے روبرو بھی پیش کیا تھا۔

اب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلمان نصیر نے اقبال محمد علی کو ایک خط لکھا ہے، جس میں انھوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ لائیو اسٹریمنگ کے حوالے سے غیر ٹھوس شواہد کیساتھ میڈیا میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے، اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بناء معلومات ان حلقوں میں بحث جاری ہے۔

سلمان نصیر نے تین صفحات پر مشتمل خط میں اقبال محمد علی کو لکھا ہے کہ UAE کی دو کمپنیز ٹیک فرنٹ انٹرنیشنل FZE اور آئی ٹی ڈبلیو کی کنسورشیم میں تین سال کا معاہدہ ہوا، انھوں نے لکھا کہ پاکستان سپر لیگ کے دوران فروری کے آخر میں ہمارے علم میں یہ بات آئی کہ انگلینڈ میں bet365 پر ہمارے میچوں کی لائیو اسٹریمنگ ہو رہی۔

مذکورہ ویب سائٹ جوئے اور شرط لگانے میں شامل ہے، لہذا ہم نے فوراً ہی اس معاملے پر ایکشن لیا اور انھیں متنبہ کیا کہ وہ اسے روکیں، ورنہ ہم قانونی چارہ جوئی کا اختیار رکھتے ہیں۔

سلمان نصیر نے اقبال محمد علی کو مزید لکھا کہ bet365 کے معاملے سے ہمارا براہ راست کوئی تعلق نہ تھا، اور 14اپریل 2020ء کو باقاعدہ چئیرمین پی سی بی احسان مانی نے اس صورت حال کی وضاحت کی، بعدازاں ہمارے کمرشل پارٹنر نے اس ساری صورت حال، جو اس کی وجہ سے سامنے آئی ، ہم سے معذرت کرتے ہوئے، مستقبل میں اس طرح کی غلطی نہ کر نے کا یقین دلایا ہے۔

دل چسپ امر یہ ہے کہ قومی اسمبلی کے رکن اقبال محمد علی کو پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلمان نصیر نے جو خط لکھا، اس میں انھوں نے لائیو اسٹریمنگ معاہدے کی نہ تو کسی شق کا حوالہ دیا، نہ ہی انھوں نے کسی اخبار خبر کی غلط شائع ہونے کا ثبوت پیش کیا، نا ہی انھوں نے یہ لکھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو باقاعدہ کس تاریخ کو اس معاملے کا علم ہوا۔

جس کے بعد bet365 نے اس لائیو اسٹریمنگ نہ کرتے ہوئے، بورڈ کو کوئی جواب دیا، یہ وہ تمام سوالات ہیں ، جو اقبال محمد علی لائیو اسٹریمنگ پر اٹھاتے رہے ہیں