357

حقیقی اور مصنوعی قیادت

(رفیق شیخ)

قائد اور قیادت کی اہمیت یہ ہے ان کے بغیر کسی معاشرے کی تعمیر و تشکیل ممکن نہیں،نظریہ ،سوچ فلسفہ بھی قیادت کا محتاج ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ جس قدر اہل قیادت رہی اتنا ہی مضبوط ان کا نظریہ،سوچ اورفلسفہ بھی رہا مختلف عمرانی اورسیاسی نظریات صدیوں سےآتے رہے لیکن جمہوریت اور مساوات کے نظریات آج بھی مستحکم ہیں۔معاشرے کی تشکیل ہو یا ملکوں کی تعمیر اہل قیادت اور اس کے ساتھ مضبوط سوچ اور نظریہ ہو تو مقصد حاصل ہو ہی جاتا ہے پاکستان جیسے ترقی پزیر ممالک کا المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں حقیقی قیادت پیدا نہیں ہونے دی گئی مصنوعی اور زبردستی کی قیادت تھوپنے اور مختصرالمیعاد مقاصد اور فوائد حاصل کرنے کی کوششں کی جاتی رہی ہیں۔امریکا اور یورپی ممالک میں جو ترقی یافتہ بھی ہیں اور جن کے ادارے بھی مضبوط ہیں وہاں اب قائد اور قیادت کے مسائل حل ہوچکے ہیں ان ممالک میں اب امور مملیکت چلانے کے لیے سیاسی منیجر آتے ہیں جوایک خاص مدت کے لیے ملک کی باگ دوڑ سنبھالتے ہیں اورمدت پوری ہونے کے بعد آگے بڑھ جاتے ہیں پاکستان جیسے ترقی پزیر ممالک جو کئی وجوہات کی بنا پر کوئی نظام قائم نہیں کر پائے وہاں اب بھی قیادت اور قائد کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے یا محسوس کرائی جاتی ہے یا پھر مسلط کی جاتی ہے اور ملک کی ترقی اور خوشحالی اسی قیادت سے جوڑی جاتی ہے ہمارے ہاں قائد اور قیادت پر زور ہوتا ہے منیجیریل صلا حیت کو دور سے بھی نہیں پرکھا جاتا اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مسلط یا باور کرائے گئے قائد کو جب اقتدار کی کرسی پر بٹھایا جاتا ہے تو منیجیریل صلاحیت کے فقدان کے باعث ملک پہلے سے زیادہ تباہی کا شکار ہوتا ہے
پاکستان میں قائداعظم محمد علی جناح اور قائد عوام ذوالفقار علی بھٹوکے سوا کوئی سیاسی قائد نہیں آیا ان کے سوامصنوئی اور زبردستی کی قیادت تھوپنے کی کوشش کی جاتی رہی ہیں نتیجے میں ملک آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے کی طرف جاتا رہا آج ملک اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ جہاں امیدیں بھی دم توڑنے لگتی ہیں۔ محترمہ بینظیر بھٹوواحد رہنما تھیں جو اس ملک کی نائو کوقائدین کی سوچ کے مطابق کھینچ رہی تھی ۔نوازشریف،آصف زرداری عمران خان سمیت دیگر رہنما مصنوئی اور زبردستی کے قائدین میں شامل ہوتے ہیں انھیں لایا گیا یا یہ حادثاتی طور پر مسلط ہوگئے شعوری طور پر سیاسی فلسفے کی پیروی یا سیاسی فلسفے کے مطابق سیاسی تربیت سے ان کا دور کا بھی واستہ نہیں رہا۔
پچاس کی دہائی کے آخر میں جنرل ایوب خان نے ملک پر قبضہ کرکے قیادت کا راستہ روکا تو انیس سو ستتّر میں جنرل ضیائالحق نے سیاسی نرسری ٹریڈیونین اور طلبہ یونین کو کچل کرقیادت کی پیدائش ہی بند کردی انّیس سو ننانوے میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں سیاست پر مسلح جتھوں کا قبضہ ہو گیا ان تینوں فوجی جرنیلوں نے بظاہر بنیادی جمہوریت کا نظام متعارف کرایا جو قیادت اور منیجیریل صلاحیت کے لیے نرسری کا کردارادا کرتی ہے لیکن جرنیلوں نے اس کے ساتھ بھی ظلم کیا اسے اپنے آمرانہ طرز حکومت کے سہارے کے طور پر استعمال کیا نتیجے میں کرپشن نچلی سطح میں بھی جڑ پکڑ گئی بدقسمتی سے جرنیلوں کی یہی سوچ آج کے منتخب حکومتوں کے دور میں بھی جاری ہے۔
دنیا کے کئی ممالک میں لوکل کونسل یعنی بلدیاتی نظام ایک طرف بنیادی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے تو دوسری طرف حکومتیں چلانے کے لیے مستقبل کی قیادت کی منیجیریل تربیت بھی کرتا ہے ان ممالک میں حکومتوں کی قیادت کرنے والے لوگ جمہوریت کی اس نرسری اوراس جیسی دیگر تربیت گاہوں سے ہوکر آتے ہیں۔پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں قیادت مسلط ہوتی یا مسلط کی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ گزشتہ پچاس برسوں میں کوئی حکومت کوئی نمایاں کارنامہ انجام نہیں دے سکی۔ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی طاقت بننے کی بنیادرکھی اسٹیل ملز کی بنایا اس دور میں ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبل انعام ملا اس کے بعداگر ہم اپنی تاریخ پر نظر ڈالیں تو افرا تفری،دہشت گردی،فرقہ واریت،لسانیت،تعصب اور کرپشن کی اپنی انتہا نظر آتی ہے ملک اور قوم دنیا کے لیے ایک سوال بن گئی،یہ سب کچھ اس مصنوئی اور زبردستی تھوپی گئی قیادت کے ادوار میں ہوا اس قیادت کے باعث آج ہم ان ممالک کو اپنا آئیڈیل کہ رہے ہیں اور بنارہے ہیں جن کی ترقی میں ہمارے ملک نے اہم کردار ادا کیا کبھی ہم ان کے لیے آئیڈیل تھے آج وہ ہمارے آئیڈیل بن گئے ہیں صرف اس مصنوئی مسلط کردہ قیادت کی وجہ سے۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی یہ مصنوئی قیادت کی تشکیل کا کام اب بھی جاری ہے موروثیت کوئی بری شے نہیں لیکن جس وجہ اور وجوہات کی بنیاد پر ملک تباہی کے دھانے پر پہنچا اسی بات کو اپنا آئیڈیل بنا کر اس ڈھنڈورا پیٹا جارہاہے اور فخر کیا جارہا ہے ملک قرضوں میں جکڑا ہوا ہے،بے روزگاری انتہا پر ہے،امن و امان مخدوش ہے ہر قدم پر کرپشن کا سامنا ہے ،گورنس نام کی کوئی شے نہیں،اختیاراتی طاقت نے بالا دستوں کومادر پدر آزاد کردیا ہے،انسانی زندگی ارزاں ہوگئی ہے۔۔۔لیکن آنے والی شوقین قیادت کے پاس کوئی منصوبہ نہیں،کوئی پرگرام نہیں،کوئی حکمت عملی نہیں،آنے کے بعد یہ کیا کریں گے کیا یہ بھی وہی کچھ کریں گے اور کہیں گے جو آج کی حکمراں قیادت کر رہی ہے اور کہہ رہی ہے۔ گزشتہ تیس برسوں سے یہی ہوتا آرہا ہے۔ہر برا کام جانے والی حکومت کے سر ڈال کر پانچ سال پورے کریں اور جب خود اقتدارسے باہر ہوں تو آنے والوں کو غلط ثابت کرنے میں زمین آسمان ایک کردیں دور نہ جائیں اس کی زندہ مثال ہمارا آج کا دورہے حکومت اور اہوزیشن یہی کچھ کر رہے ہیں ۔مصنوئی اور مسلط کردہ قیادت اور کر بھی کیا سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں