کراچی کا یہ قدیم چڑیا گھر 1870 میں بنایا گیا تھا

کراچی ( ) صوبائی حکومت کی جانب سے چڑیاگھر میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت مختلف کاموں کو مکمّل کرنے کا عمل جاری ہے اور اب تک تقریباً تیس فیصد کام مکمّل کر لیا گیا ہے ،

پہلے فیز میں گیٹ نمبر پانچ اور گیٹ نمبر دو کے درمیان کوری ڈور میں پارکنگ، ٹکٹ روم، انکلوژر نمبر چار، سات، آٹھ اور اس سے ملحقہ سامنے اور پیچھے کے روڈ سمیت اربن فاریسٹ ایریا مکمّل کیے گئے ہیں

جبکہ انڈر گراؤنڈ اور اوور ہیڈ ٹینک سمیت ٹوائلٹ بلاک میں واقع دس واش روم بھی مکمّل کر لیے گئے ہیں، بقیہ کاموں کو آئندہ مالی سال 2020 / 2021 میں مکمّل کرنے کی کوشش کی جائے گی جن میں انکلوژر، ایڈمن بلاک، برڈ ایوریز، گیٹ نمبر ایک، لینڈ اسکیپنگ، پبلک ایورنیس سینٹر اور دیگر کام شامل ہیں، یہ بات کراچی چڑیا گھر میں منعقدہ ایک اجلاس میں میٹرو پو لیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن کو بتائی گئی، اجلاس میں ڈائریکٹر زو کنور ایوب ، معروف آرکیٹیکٹ ثمر علی خان، شاھد علی اور معروف ہارٹیکلچرسٹ فرح رحمان نے شرکت کی، میٹرو پو لیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ہدایت کی کہ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے پیشِ نظر چڑیاگھر میں جاری تمام کاموں کو اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر

( SOP ) کے تحت سر انجام دیا جائے اور اس حوالے سے کسی بھی طرح کی خلاف ورزی نہ کی جائے، انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ چڑیا گھر میں نئے بڑے جانوروں کی آمد سے قبل ان کے لئے جدید انکلوژرز(پنجرے) بنانے کاکام تیزی سے جاری ہے جن کے مکمل ہوتے ہی کراچی چڑیا گھر میں بڑے جانور رائنو گینڈا، دریائی گھوڑا، ہیپو اور زیبرا لائے جائیں گے جن کی منظوری صوبائی حکومت پہلے ہی دے چکی ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت جاری بحالی اور بہتری (Rehabilitation & Improvement) کے بقیہ مختلف کاموں کو آئندہ مالی سال میں مکمل کرلیے جائیں گے، ڈائریکٹر چڑیاگھر کنور ایوب نے بتایا کہ کراچی کا یہ قدیم چڑیا گھر 1870 میں بنایا گیا تھا جہاں اس وقت مختلف اقسام کے 850 سے زائد جانور اور پرندے موجود ہیں جبکہ خوبصورت مچھلیوں سے آراستہ مچھلی گھر اور ریپٹائل ہاؤس بھی ہے، یہاں کشتی رانی کی سہولت کے ساتھ ساتھ ٹرین چلنے کے لئے مخصوص جگہ اور فن لینڈ بھی مو جود ہے، انہوں نے بتایا کہ چڑیا گھر میں چھوٹے بڑے پنجروں کی مجموعی تعداد 125 ہے، یہاں انفارمیشن ڈیسک بھی بنائی گئی ہے تاکہ یہاں آنے والے افراد اپنی کسی گم شدہ چیز کے بارے میں معلومات حاصل کرسکیں جبکہ چڑیا گھر میں مختلف جانوروں اور پرندوں تک پہنچنے کے لئے ڈائریکشن بورڈز اور نقشے بھی آویزاں کئے گئے ہیں، واضح رہے کہ چڑیا گھر میں سو اور ڈیڑھ سو سال تک کے قدیم درخت موجود ہیں جن میں برگد، پیپل، نیم اور املی وغیرہ کے درخت شامل ہیں جبکہ برگد کے بعض ایسے درخت جو بہت بڑے حصے پر محیط ہیں ان میں اب بھی نئے سرے سے جڑیں نکل رہی ہیں اور برگد کے یہ قدیم درخت مزید پھیل رہے ہیں جس سے چڑیا گھر کے حسن میں اور بھی اضافہ ہورہا ہے، یہ تمام تر قدیم درخت برطانوی دور حکومت میں لگائے گئے تھے۔