امریکہ: ٹرمپ کی ہدایت مسترد، واشنگٹن میں گارڈ کو غیر مسلح کرنیکا حکم؛ نسل پرستی کیخلاف دنیا بھر میں مظاہرے

امریکی محکمہ دفاع نے صدرٹرمپ کا ایک اور حکم مسترد کر دیا ،ٹرمپ نے واشنگٹن میں تعینات نیشنل گارڈز کو مسلح کرنے کا حکم دیا لیکن وزیر دفاع مارک ایسپر نے وائٹ ہاؤس کی مشاورت کے بغیر انہیں غیر مسلح کر دیا۔ سیاہ فام شہری کی موت کے بعد امریکہ میں قانون تبدیلی کا فیصلہ کرلیا گیا، ترمیم کے بعد پولیس کے ملزم کی گردن دبوچنے یا گھٹنے سے دبانے پر مکمل پابندی عائد ہوگی، قانون ترمیم مینی پولس میں تبدیل ہوگا ، مینی پولس سٹی کونسل نے پولیس میں فوری اصلاحات کی متفقہ منظوری دے دی، حتمی منظوری جج دے گانیویارک پولیس نے مظاہرین پر کیمیکل پھینکنے کا اعتراف کرلیا ، ترجمان نے بتایا آنکھوں اور ناک میں جلن پیدا کرنیوالے پیپر بالز کے ساتھ کیمیکل استعمال کیا گیا ہے ، انہوں نے کہا آنسو گیس کا لفظ غلط استعمال کیا گیا۔ فلائیڈ کی ہلاکت پر امریکہ کے مظاہروں میں پاکستانی بھی شامل ہوگئے ، واشنگٹن ڈی سی کی گلیاں دل دہلا دینے والے نعروں سے گونج رہی ہیں، واشنگٹن میں ہونے والے مظاہرے میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے بھی شریک ہوئے ، امریکہ میں پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کرنے والی ارم حیدر نے کہا امریکہ میں نسلی تفریق اتنی زیادہ ہے کہ امیر علاقوں میں رہنے والوں کے ساتھ پولیس بھی اچھا برتا ئوکرتی ہے ، غریب علاقوں میں مقیم بیشتر افریقیوں کے ساتھ اچھا برتا ئونہیں کیا جاتا۔ نیویارک کے علاقے بفلو میں ہنگامی ریسپانس ٹیم کے 55 پولیس افسران نے 2 ساتھیوں کے معطلی کے بعد احتجاجاً استعفیٰ دے دیا، دو اہلکاروں نے معمر شخص کو دھکا دیکر گرا دیا تھا، مستعفی افسر ان نے کہا وہ صرف احکامات پر عمل کر رہے تھے ، اپنی مرضی سے مظاہرین کو نہیں دھکیلا۔ جب مظاہرین کو دھکیلنے کی ویڈیو سامنے آئی تو 2 پولیس اہلکاروں کو بغیر تنخواہ معطل کردیا گیا ۔کینیڈا میں نسل پرستی کیخلاف ریلی میں وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے شرکت کی اور 3 مرتبہ گھٹنے ٹیک کر شرکا کو خراج تحسین پیش کیا، ٹروڈو نے ریلی سے خطاب نہیں کیا، میکسیکو میں مظاہرین نے امریکی سفارت خانے پر حملہ کردیا اور مرکزی گیٹ توڑنے کی کوشش کرڈالی ، ایشیا کے کئی ممالک اور آسٹریلیا میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے ، میلبورن، ایڈیلیڈ، سڈنی اور برسبین میں بڑی ریلیاں نکالی گئیں ، سیؤل اور ٹوکیو میں ’’بلیک لائیوز میٹر‘‘ کے مظاہرے کئے گئے ، بنکاک میں پابندیوں کے تناظر میں لوگوں نے آن لائن احتجاج کیا، یورپ میں بھی کئی مقامات مظاہرے کئے گئے ، جرمنی، برطانیہ، فرانس، سپین، ہالینڈ، بیلجیم اور ہنگری میں ریلیاں نکالی گئیں۔ واشنگٹن ڈی سی کی خاتون میئر نے صدر ٹرمپ کی مذمت کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے باہر پلازہ کا نام تبدیل کرکے ’بلیک لائیوز میٹر پلازہ‘ رکھ دیا، پینٹنگ کا افتتاح کیا جس پر ’’بلیک لائیوز میٹر‘‘ درج تھا۔ واشنگٹن( ندیم منظور سلہری سے ) امریکی ریاستوں میں احتجاجی مظاہروں کے دوران دکانیں لوٹنے کا عمل جاری ہے دوسری ریاستوں کی طرح شکاگو میں بھی کاروباری مراکز کے شیشے توڑ کر قیمتی سامان چُرا لیا گیا، امریکہ میں مقیم چھوٹا پاکستانی کاروباری طبقہ بھی بُری طرح متاثر ہوا ہے ، مظاہرین نے اہم شاہراہوں کو بند کر کے مظاہرے کیے ، مقررین کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے شہریوں پر بے جا تشدد اور نسل پرستی امریکی روایات کو دفن کر رہی ہے ،مظاہرین پولیس ڈیپارٹمنٹ پر نسل پرستی کو ہوا دینے کے الزامات عائد کرتے رہے ۔ نیویارک میں فسادی گروہوں سے بڑے اور معروف کاروباری اداروں کو بچانے کے لئے پلائی ووڈ نایاب ہوگئی ۔نیویارک سٹیٹ کے گورنر کومو کے ساتھ سنگین اختلافات کے بعد نیویارک سٹی کے میئر بل ڈی بلازیو کی سٹی کے دوسرے بڑے عہدیدار پبلک ایڈووکیٹ ولیم جمانے کے ساتھ بھی ٹھن گئی ، ولیم نے مظاہروں سے نمٹنے کے طریقے کار پر تنقید کی اور میئر سے کہا وہ اب اپنی سیاہ فام بیوی اور بچوں کی مزید آڑ نہیں لے سکتے ۔وہ اپنی دو نسلی خاندان کو سیاسی ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں ۔

Courtesy Roznama 92 urdu