واشنگٹن میں ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور پر کیا بیتی

گزشتہ ماہ 17 مئی رات 9 بجے کا وقت تھا۔ اور جائے وقوعہ تھا ریاستہائے متحدہ امریکہ کے دارالخلافہ واشنگٹن ڈی سی کا یونین اسٹیشن۔ جہاں سواری کے انتظار میں 48 سالہ پاکستانی امریکن ڈرائیور عثمان اپنی ٹیکسی کے ہمراہ کافی دیر سے لمبی لائن میں لگا ہوا تھا۔ لائن اس کے آگے سے گھٹتے گھٹتے کم ہوتی گئی اور اس کی گاڑی کے پیچھے بڑھتی رہی۔ اب صرف دو ٹیکسیاں لائن میں اس سے آگے رہ گئی تھیں۔ اور اس کا نمبر تیسرا تھا۔

واشنگٹن ڈی سی کا یونین اسٹیشن مسافروں کے آنے جانے کے لیے مصروف ترین مقام ہے۔ ایسے ہی جیسے نیویارک کا گرینڈ سنٹرل ٹرمینل ٹرین اسٹیشن۔

واشنگٹن کے یونین اسٹیشن پر زیر زمین ایم ٹریک ٹرین چلتی ہے اور اوپر شہر میں آنے جانے کے لیے بسیں چلتی ہیں۔ یوں ہمہ وقت اس جگہ مسافروں کا رش لگا رہتا ہے۔ اندرون واشنگٹن، ورجینیا اور میری لینڈ جانے والے مسافر کثرت سے اس اسٹیشن کا رخ کرتے ہیں۔ ٹیکسی ڈرائیوروں کا یہ پسندیدہ سپاٹ ہے۔ جہاں رش والے اوقات کے علاوہ بھی ہر وقت پچاس سے سو ٹیکسیاں کھڑی نظر آتی ہیں۔ اور اس کے علاوہ فارغ اوقات میں ٹیکسی ڈرائیور حضرات کے آپس میں ملنے ملانے اور فون پر گپ شپ لگانے کا بھی یہ ایک اچھا سپاٹ ہے۔

عثمان کے بقول 17 مئی کی رات وہ یونین اسٹیشن کے قریب اپنی گاڑی سے باہر نکل کر فون پر کسی سے بات کر رہا تھا۔ جب اس اثناء میں منہ پر ماسک لگائے اور ہوڈی نما جیکٹ پہنے ایک سیاہ فام لڑکا، جس کی عمر کوئی انیس بیس سال کے قریب ہو گی۔ اس کے پاس آ کر رکا۔ اور درخواست کی کہ ”اگلے دو ٹیکسی ڈرائیوروں نے اسے نہیں بٹھایا۔ اس کے پاس چونکہ اپنا فون نہیں ہے۔ اور وہ ٹیکسی میں بیٹھنے سے پہلے فون پر اپنے والدین سے کوئی ضروری بات کرنی چاہتا ہے۔ آپ مہربانی کر کے مجھے اپنا فون دیں“ ۔

عثمان نے بتایا کہ اس نے مدد کرنے کے جذبے کے تحت اپنا فون اس لڑکے کو دے دیا۔ لڑکے نے وہیں اس کے پاس کھڑے کھڑے چند منٹ کی دو کالیں کیں۔ اور بجائے فون اسے واپس کرنے کے، اس نے فون سمیت ایک طرف کو تیز تیز چلنا شروع کر دیا۔

لڑکے کے اس اقدام پر اب ہکا بکا کھڑے عثمان کو فوراً خطرے کا احساس ہو گیا۔ اور وہ اپنا فون واپس حاصل کرنے کے لیے لڑکے کے پیچھے بھاگا اور تھوڑی دور جاکر بھاگتے ہوئے اسے پکڑ لیا۔ اور اور فون اس کے ہاتھ سے چھیننے لگا۔ اس اثناء میں لڑکے نے اپنی جیب سے چھری نما کوئی تیز دھار کٹر نکال کر اس سے عثمان پر حملہ کر دیا۔ تاہم اسی دوران عثمان اپنا فون چھین کر واپس لینے میں کامیاب ہو گیا۔

فون واپس جاتے دیکھ کر لڑکا بپھر گیا اور عثمان پر پے در پے حملے کرتا رہا۔ عثمان کی گردن پر تین ٹھوڑی کے نیچے دو اور ہاتھ کے ساتھ کلائی پر تین گہرے زخم لگے۔ سب سے زیادہ گہرا کٹ بازو کے ساتھ ریسٹ پر لگا جس سے انگوٹھے کے پیچھے سے رگیں کٹ گئیں۔ جن سے تیزی سے خون بہنے لگا۔ گتھم گتھا ہوئے عثمان نے اپنے فون سے پولیس ایمرجنسی نمبر 911 پر کال ملانے کی کوشش کی۔ جو کنیکٹ نہ ہو سکی۔ اس دوران جب ساہ فام لڑکا اس پر مسلسل اٹیک کر رہا تھا عثمان نے اپنا فون کھنچ کر اس پر جوابی وار کیا۔ فون لڑکے کو لگ کر تھوڑا دور جا گرا۔ جو اب بھاگتے ہوئے نہ لڑکے کے ہاتھ لگا اور نہ ہی فوری طور عثمان کو مل سکا۔ اور وہ اسی رات وہاں کسی اور راہ گیر کے ہاتھ لگ گیا۔

قریب سے گزرتے کسی نے یہ واقعہ دیکھ کر پولیس کو فون کر دیا تھا۔ عثمان کے بقول اس کی کلائی کی پانچ رگیں کٹنے اور کافی زیادہ خون بہہ جانے کے باعث اسے چکر آنے لگے۔ اور وہ وہیں زمین پر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد پولیس بمعہ ایمبولینس موقع پر پہنچ گئی۔ تاہم پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی سیاہ فام لڑکا موقع واردات سے فرار ہو گیا۔

پولیس نے مجھ سے موقف لے کر جائے وقوعہ کی رپورٹ بنائی اور مجھے فرسٹ ایڈ دے کر ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ جہاں اس کی گردن تھوڑی اور کلائی کے زخموں پر کئی ٹانکے لگے۔ عثمان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کے بقول اس کے بازو اور اور کلائی کو مکمل طور پر ٹھیک ہونے میں چھ ماہ لگیں گے اور اس عرصے کے دوران اسے مسلسل تھراپی کروانی پڑے گی۔

عثمان کے مطابق جس جگہ واقعہ ہوا وہ ایریا واشنگٹن کی پولیس کی بجائے ایم ٹریک پولیس کے تحت آتا ہے اور وہی اس واقعے کی تحقیق کر رہی ہے۔ انہوں نے ارد گرد لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد بھی لی ہے اور چند دن پہلے پولیس نے اسے کچھ مشتبہ افراد کی تصاویر بھی دکھائی تھیں۔ اندھیرا اور چہرے پر ماسک ہونے کے باعث اسے ملزم پہچاننے میں دقت پیش آ رہی ہے۔

تاہم عثمان کا کہنا ہے کہ وہ پولیس کی تحقیقات سے فی الوقت مطمئن ہے۔ اور پولیس نے اسے یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ وہ جلد ملزم تک پہنچ جائے گی۔ میرے فون سے ملزم نے جن نمبروں پر کالیں کی تھیں۔ ان کی مدد سے پولیس اگر چاہے تو ملزم کو جلد ٹریس کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک واضح اور کلیئر کٹ ثبوت ہے۔ جس کے متعلق میں نے پولیس کو آگاہ کر دیا ہے۔

عثمان نے واشنگٹن ڈی سی سے فون پر مجھے بتایا کہ ”اس واقعے کے بعد اس نے اپنے فون کی بازیابی کے لئے کوششیں جاری رکھیں۔ فون جائے واردات سے کسی تیسرے شخص کے ہاتھ لگ گیا تھا۔ متعدد بار کالیں کرنے کے بعد تیسرے دن کسی شخص نے فون اٹھایا۔ تو میں نے اسے فون کے مالک کے طور پر اپنا تعارف کرایا اور ساتھ ہی اسے فون واپسی کے لیے تیس ڈالر کا انعام دینے کا وعدہ کیا۔ اس طرح فون بڑی خستہ حالت میں ریوارڈ دے کر تو مجھے واپس مل گیا۔ تاہم انسانی ہمدردی کے ناتے مدد کرنے کا سودا اسے بڑا مہنگا پڑا“ ۔

عثمان، جس کا تعلق پاکستان کے ضلع گجرات کی تحصیل کھاریاں کے گاؤں گلیانہ سے ہے۔ وہ 30 سال پہلے امریکہ آیا تھا۔ اور آج کل واشنگٹن ڈی سی سے ملحقہ ریاست میری لینڈ کے علاقے گیتھسز برگ میں اپنی فیملی کے ساتھ مقیم ہے۔ اس کے دو بچے، ایک پندرہ سالہ بیٹا اور ایک 12 سال کی بیٹی ہے۔

عثمان کا کہنا ہے کہ ”وہ گزشتہ کئی سال سے“ ڈی سی کنیکٹ ”نامی کیب کمپنی کے ساتھ بطور کیب ڈرائیور ڈرائیور کام کرتا چلا آ رہا ہے۔ اس طرح کے ماضی میں اور کئی لوگوں کے ساتھ بھی واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔ ایک اور پاکستانی کیب ڈرائیور جمیل کے ساتھ بھی ایک واقعہ کوئی ڈیڑھ دو سال پہلے پیش آیا تھا۔ جب تین چار سیاہ فام اس کی گاڑی میں سوار ہوئے۔ اور منزل مقصود پر پہنچنے کے بعد جب ڈرائیور نے کرایہ مانگا۔ تو کرایہ دینے کی بجائے سب نے مل کر اسے خوب زد و کوب کیا۔ وہ اس واقعے سے اتنا خوفزدہ ہوا کہ ڈر کے مارے ٹیکسی کا کام ہی چھوڑ گیا۔ امریکہ میں ٹیکسی ڈرائیوروں کے ساتھ اس طرح کے واقعات معمول کا حصہ ہیں“ ۔

عثمان نے بتایا کہ ”بعض اوقات نفرت انگیز جرائم کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ تین سال پہلے ایک 46 سالہ پاکستانی امریکن خاتون جو ایک سرکاری محکمے میں ملازمت کرتی ہیں کو بھی ایسے ہی ہیٹ کرائم کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ وہ خاتون اپنی جاب پر جاتے ہوئے حجاب اوڑھے ہوئے تھیں جب راہ چلتے ہوئے ایک سیاہ فام نے اس پر بوتل سے حملہ کیا۔ بوتل اس کی ناک پر لگی۔ جس سے وہ شدید زخمی ہو گئیں تھیں“ ۔
عثمان کے مطابق ”وہ سمجھتے ہیں کہ کرونا کی وجہ سے موجودہ تبدیل ہوئے حالات میں بطور ٹیکسی ڈرائیور کام کرنا مزید دشوار ہو جائے گا۔

———
طاہر محمود چوہدری