اب صرف ڈرنا ہے

بھابی کی حالت سوچتی ہوں تو دل دکھ سے بھر جاتا ہے جس کا بڑا بیٹا گھر کے دوسرے پورشن اور خاوند اسپتال میں کورونا سے نبرد آزما ہیں۔ وہ دن میں کئی بار پندرہ سے زیادہ سیڑھیاں چڑھ کر اپنے ایم فل کے طالبعلم بیٹے کے کمرے کے باہر کبھی کھانا رکھتی ہے، کچھ گرم چائے اور پانی، کبھی یونہی گھبرا کر اس کی آہٹ سننے کیلئے اوپر والی سیڑھی پر کھڑی کئی لمحے چپ چاپ کھڑی رہتی ہے، پہلی آواز پر جواب نہ دے تو اسے سویا ہوا جان کر واپس لوٹ جاتی ہے، کبھی دروازے کے باہر کھڑے ہوکر اس سے باتیں کرتی ہے، اس کا حال پوچھتی ہے، اس کا حوصلہ بڑھاتی ہے حالانکہ اس کا اپنا حوصلہ کئی بار ڈانواں ڈول ہوتا ہے جب وہ اپنے ہی گھر کے ایک کمرے میں داخل نہ ہو سکنے کی اذیت سے گزرتی ہے۔ اس کے بس میں ہو تو وہ تمام تر احتیاط کو بالائے طاق رکھ کر اپنے جگر گوشے کے پاس جائے، اس کا ماتھا چومے، اس کا بخار چیک کرے۔ اپنے ہاتھوں سے دوا کھلائے لیکن بیٹا اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ دن بھر وہ اپنے دوسرے بیٹے سے قوتِ مدافعت بڑھانے والے پھل، میوے، سبزیاں اور قہوے منگواتی ہے۔ دعائوں کی آنچ پر کھانے بناتی ہے۔ فون پر شوہر کی ڈھارس بندھاتی ہے۔ باپ بیٹے کے صدقے دیتی ہے۔ جو وقت بچ جائے اس میں وظیفے کرتی ہے۔ اس کا بڑا خاندان، میکہ اور سسرال صرف فون پر اس کی خیریت دریافت کرنے اور مشورے دینے تک محدود ہیں۔ یہی وہ عالم ہے جو خوف، وہم اور بے بسی کی اذیت سے دوچار کرتا ہے۔ کبھی سوچا نہیں تھا کہ ایسی حالت سے بھی دوچار ہونا پڑے گا۔ نئے دور کی نئی ترقیاں، نئی بیماریاں اور نئی وبائیں امتحان بن کر آتی رہی ہیں اور آتی رہیں گی۔

تنہائی کا شکار ہونا زیادہ بڑا کرب ہے ورنہ بیماریاں تو زندگی کے شجر پر منڈلانے والے وہ سائے ہیں جن سے ہمارا اکثر و بیشتر سامنا رہتا ہے۔ ہم زندگی بھر مختلف قسم کی بیماریوں سے لڑتے اور کامیاب ہوتے ہیں لیکن اس وقت ڈاکٹر اور دواؤں کے ساتھ ساتھ اپنوں کی ڈھارس زیادہ کام کرتی ہے۔ ان کا لمس ہمیں زندہ رہنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے، بیماری سے لڑنے کی طاقت دیتا ہے اور اپنائیت کی فضا درد کی شدت کو کم کر دیتی ہے۔ ہر مادہ اپنے بچوں پر آنے والی آفت کے سامنے ڈٹ جاتی ہے۔ انھیں اپنے سائے اور گود میں چھپا لیتی ہے مگر وبا میں ایسا ممکن نہیں۔ اس نے جنم دینے والی ماں کو بھی اولاد سے دور رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔

سرکار نے پابندیوں میں ذرا نرمی اس لئے کی تھی کہ زندگی کا پہیہ چلتا رہے، لوگوں کو ضروریاتِ زندگی کی خرید میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ کم آمدنی والے لوگوں کو بھی چھوٹا موٹا روزگار مہیا ہوتا رہے مگر سختی اور حکم کی زبان سمجھنے والوں نے نرمی کو مادر پدر آزادی سمجھ لیا اور شروع کے دنوں والی احتیاط بھی دھری کی دھری رہ گئی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب کوئی بھی محفوظ نہیں رہا۔ ہر چوتھا بندہ اس کا شکار ہو چکا ہے۔ بہت سے سخت جان لوگوں میں علامتیں ظاہر نہیں ہوتیں اور کچھ میں کافی دنوں بعد ظاہر ہوتی ہیں۔ جو تمام احتیاطیں کرتے ہیں وہ بھی شکار ہو رہے ہیں، اس لئے کہ ہاتھوں پر سینی ٹائزر لگا لیا۔ ماسک پہن لیا مگر کئی ہاتھوں کے پسینے میں بھیگے نوٹ حرکت میں رہتے ہیں۔ نوٹ، شاپنگ بیگ اور لفافے بھی وائرس پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں۔ ہمارے غیر ذمہ دار رویے کے باعث اس وبا نے پورے ملک میں مضبوطی سے اپنے پنجے گاڑ لیے ہیں۔ اگرچہ مختلف حکومتی شخصیات کے مطابق ابھی تک پاکستان میں تخمینے سے کم اموات ہوئی ہیں مگر پھر بھی جس خوف نے ہمارے گھروں اور سوچ میں ڈیرے ڈال دیے ہیں وہ بذات خود جان لیوا ہے۔ ہر آنے والا دن ہمیں مزید تنہا کرتا جا رہا ہے۔ دنیا کے حالات بھی مایوس کن ہیں۔ امریکہ میں لوگوں کی بڑی تعداد کا احتجاج کرنا صرف انسانی حقوق کے لئے آواز بلند کرنا نہیں بلکہ اس تنہائی سے نکلنے اور کتھارسس کا بھی بہانہ ہے جس نے سب کو کچھ زیادہ حساس کر دیا ہے۔

جہاں لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کرکے شعور کا مظاہرہ کر رہے ہیں وہاں تو اسکول بھی کھل گئے ہیں مگر ایسے صرف دو چار ہی ممالک ہیں۔ باقی پوری دنیا ایک ہی ڈگر پر رواں ہے۔ کبھی ڈر کر گھروں میں قید ہو جانے والی اور کبھی تمام زنجیریں توڑ کر جلسے جلوسوں میں شامل ہو کر شدید لاپروائی کا مظاہرہ کرنے والی۔ شنید ہے کہ آنے والے دنوں میں پھر سخت پابندیاں ہماری منتظر ہیں۔ وائرس اور ٹڈی دل آزاد ہیں اور انسان صرف تخیل کی پرواز تک محدود۔ مگر دل غمزدہ ہو، فکر ملول ہو، ماحول اداس ہو تو تخیل کی پرواز بھی کمرے کی چھت سے آگے جانے کی صلاحیت کھو دیتی ہے۔ سو لڑنے اور مرنے والے نعرے دفن ہوئے اب ڈرنے کا موسم ٹھہر گیا ہے۔ نجانے دل کو کب تک خوف کے ساتھ سمجھوتا کرنا پڑے گا کیونکہ سیاسی جماعتوں کو پوائنٹ اسکورنگ سے فرصت نہیں اس لئے ہمیں ڈرنا اپنا معمول بنا لینا چاہیے

ڈاکٹر صغرا صدف