میر شکیل الرحمٰن کو سرعام دھمکیاں بھی دی جاتی رہیں۔

جیو اور جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری پر پاکستان کیساتھ ساتھ عالمی سطح پر جو ردعمل سامنے آیا ہے، اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس گرفتاری کی مذمت کرنے والی شخصیات، ادارے اور تنظیمیں اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ میر شکیل الرحمٰن کے خلاف حکومت کی کارروائی جائز اور قانونی نہیں ہے اور بادی النظر میں اس کارروائی کا مقصد انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا ہے۔ اس سے میڈیا کے باقی اداروں کو بھی یہ پیغام جارہا ہے کہ اگر پاکستان کے ایک بڑے میڈیا گروپ کے مالک کو گرفتار کیا جا سکتا ہے تو پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس گروپ کی مذمت کرنے والے تمام افراد، ادارے اور تنظیمیں یہ سمجھتے ہیں کہ


حکومت کا یہ اقدام پاکستان میں آزادیٔ صحافت اور آزادیٔ اظہارِ رائے پر قدغن لگانے کی ایک مبینہ کوشش ہے۔ 34سال پرانے جس کیس میں میر شکیل الرحمٰن کو گرفتار کیا گیا ہے، ہم اس کیس کی قانونی خوبیوں اور خامیوں پر بات نہیں کر رہے۔ ہم صرف حکومت کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ جو افراد، ادارے یا تنظیمیں میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری پر ردعمل ظاہر کر رہے ہیں، ان کا اپنا بھی ایک وقار اور اعتماد ہے۔ وہ صرف اس لئے اپنے وقار اور اپنی ساکھ کو دائو پر نہیں لگائیں گے کہ میر شکیل الرحمٰن کا تعلق ایک بڑے میڈیا گروپ سے ہے۔ وہ ان کی گرفتاری کی اس لئے مذمت کر رہے ہیں کہ اس گرفتاری سے پہلے کے حالات ان کے سامنے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جنگ؍ جیو میڈیا گروپ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے اور ان پالیسیوں سے اختلاف کرنے والوں کو ایک آزادانہ پلیٹ فارم مہیا کرتا رہا اور حکومت کے ذمہ داروں کی طرف سے میر شکیل الرحمٰن کو سرعام دھمکیاں بھی دی جاتی رہیں۔

اگلے روز یورپی یونین کی ترجمان برائے خارجہ امور نے میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پاکستانی حکام پر زور دیا کہ وہ میر شکیل کو فیئر ٹرائل کا موقع فراہم کریں اور پاکستان ان بین الاقوامی کنونشنز کی پاسداری کرے جن پر اس نے دستخط کیے ہیں۔ صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی (سی پی جے) اور رپورٹرز ود آئوٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نامی عالمی تنظیموں نے بھی میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ آر ایس ایف ایشیا بحرالکاہل کے ڈائریکٹر نے اپنے بیان میں یہ بھی واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔ اگلے روز صحافی تنظیموں کی طرف سے بھی سندھ اسمبلی میں میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا گیا، جس میں سندھ حکومت کے وزرا نے بھی شرکت کی۔ یہ تازہ ترین ردعمل کے چند واقعات ہیں۔ ویسے تو روزانہ کی بنیاد پر پاکستان کے اندر اور پاکستان کے باہر میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے۔ یہ احتجاج ملکی اور بین الاقوامی صحافتی تنظیموں کے علاوہ انسانی حقوق کی تنظیموں، سیاسی جماعتوں، منتخب ایوانوں اور سماجی تنظیموں کے ساتھ ساتھ اہم شخصیات کی طرف سے بھی ہو رہا ہے۔ حکومت نے جس ماحول میں اور جس طرح کا کیس بنا کر میر شکیل کو گرفتار کیا ہے، اس میں لوگ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ کوئی جائز قانونی کارروائی کی ہے اور نہ ہی حکومت لوگوں کو اس بات پر قائل کر سکی ہے۔ ایک تو مقدمہ 34سال پرانا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ تفتیش کے ابتدائی مراحل میں گرفتاری خود پاکستانی قوانین خصوصاً نیب آرڈیننس کے تناظر میں ایک قانونی سوال ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ گرفتاری کا قانونی جواز فراہم کرنے میں تاخیر اور کیس کو مزید بنیاد فراہم کرنے والے شواہد کی کمی نے بھی لوگوں کو دوسری طرف سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ چوتھی بات یہ ہے کہ گرفتاری سے قبل حکومت کے ذمہ داران کے میر شکیل الرحمٰن سے متعلق بیانات ریکارڈ پر ہیں۔

ہم آج جس عہد میں رہتے ہیں، وہ اپنے ماضی قریب سے بہت مختلف ہیں۔ آج کے دور میں حقائق کی پردہ پوشی ناممکن ہے اور نہ ہی پہلے کی طرح لوگوں کی ذہن سازی کی جاسکتی ہے۔ رپورٹر ود آئوٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے 2020ء کے لیے جو ورلڈ فریڈم انڈیکس جاری کیا ہے، اس کے مطابق پاکستان 180ملکوں میں سے 145ویں نمبر پر ہے۔ موجودہ حکومت کے دور میں پاکستان کی رینکنگ مزید خراب ہوئی ہے۔ اگر آج کوئی سمجھتا ہے کہ لوگوں کو پتا نہیں ہوتا تو اسے خود کو کچھ پتا نہیں ہے۔

وزیراعظم عمران خان ملک سے کرپشن کے خاتمے کا مینڈیٹ لے کر آئے ہیں لیکن ان کے مشیر ان کی حکومت میں جو کام ان سے کرا رہے ہیں، ان سے دنیا میں یہ رائے بن رہی ہے کہ تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کے دور میں اختلافِ رائے اور آزادیٔ اظہارِ کی گنجائش پاکستان میں پہلے کی نسبت کم ہو گئی ہے اور کرپشن کے خاتمے یا احتساب کے نام پر جو کارروائیاں ہو رہی ہیں، وہ مخالفین کی آواز کو دبانے کے لیے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس تاثر کو زائل کرے۔ اس سے نہ صرف حکومت اور ملک کا امیج متاثر ہورہا ہے بلکہ یہ بات پاکستان میں جمہوری اور منصفانہ معاشرے کے قیام کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے حکومت کو چاہئے کہ وہ میر شکیل الرحمٰن کو فیئر ٹرائل کا موقع اور قانونی دستاویزات فراہم کرکے اپنے کام کا آغاز کرے، جیسا کہ پوری دنیا مطالبہ کر رہی ہے اور پھر اس کام کا دائرہ دیگر سیاسی مخالفین اور ناقدین تک بڑھائے۔ ملک میں سیاسی، طبقاتی اور سماجی پولرائزیشن (تقسیم) ماضی کی آمرانہ حکومت کے دور میں بھی زیادہ ہوگئی ہے، جو جمہوری حکومت کے لیے خطرناک ہے۔


Abbas-Mehkri-Jang