ادویات کی قلت نہ ہونے دیں

میڈیکل کے شعبے کا انسانی زندگی سے جو تعلق ہے وہ محتاجِ وضاحت نہیں، اس ضمن میں یہ بات بڑی حوصلہ افزا ہے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں پاکستان اس شعبے میں دوسروں سے پیچھے نہیں۔ قیامِ پاکستان کے وقت

چند ادویہ مقامی سطح پر تیار ہوتی تھیں جبکہ آج ایک وسیع و عریض فارما سوٹیکل انڈسٹری ملک میں ادویات کی 90فیصد ضروریات پوری کر رہی ہے لیکن شومیٔ قسمت کہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کثیر زرِ مبادلہ خرچ کرکے ادویات سازی کے لیے خام مال درآمد کرنا پڑتا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان فارما سوٹیکل مینو فیکچرنگ ایسوسی ایشن نے بھارت سے جان بچانے والی ادویات کے خام مال کی درآمد پر پا بندی کے باعث ملک بھر میں ادویات کی قلت پیدا ہونے کا جو خدشہ ظاہر کیا ہے وہ فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ یہ صورتحال کیونکر پیدا ہوئی یا اس ضمن میں کوئی ناگزیر پالیسی کارفرما ہے اس سے قطع نظر حکومت کے لیے ضروری ہوگا کہ خام مال کے حصول کا فوری طور پر متبادل انتظام کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق متذکرہ صورتحال میں جن ادویات کی مینو فیکچرنگ متاثر ہو سکتی ہے ان میں اینٹی ریبیز ، اینٹی سنیک، ٹائیفائیڈ سمیت 35فیصد میڈیسن شامل ہیں۔ خام مال کی عالمی انڈسٹری میں چین، امریکہ ،جرمنی، سوئٹزر لینڈوغیرہ سرفہرست ہیں تاہم پاکستان کے عوام کی اکثریت اس قدر غربت کا شکار ہے کہ مہنگے داموں بننے والی ادویات خریدنے کی سکت نہیں رکھتی۔ صرف متذکرہ ممالک ہر سال 300ارب ڈالر سے زیادہ کا خام مال برآمد کرتے ہیں جبکہ پاکستان قدرتی اور غیر قدرتی طور پر ادویات کے خام مال کی تیاری کے لیے نہایت موزوں ہے۔ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں گریجویٹ اور اسکالرز فارغ التحصیل ہوتے ہیں جو فارمیسی کی ترقی و ترویج میں مصروفِ عمل ہیں۔ اس کے باوجود ان کی ایک بڑی تعداد بیروزگار ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ مستقبل کے تناظر میں عوام کو سستے علاج معالجہ کی فراہمی کیلئے متذکرہ انسانی اور قدرتی تمام تر وسائل بروئے کار لائے
jang-editorial-