کوئی جو کہہ دے برا تو مسکراتے جایئے

کوئی جو کہہ دے برا تو مسکراتے جایئے
اپنے دل کے حوصلوں کو آزماتے جایئے

زندگی کی ٹھوکروں سے گر گیا کوئی اگر
آگے بڑھ کر راہ سے اس کو اٹھاتے جایئے

گر گئے ہوں جو گناھوں کی اتھاہ گہرائی میں
نیکیوں کے راستے ان کو دکھاتے جایئے

سوچئیے مت کس کے ذمے کیا ہیں ذمہ داریاں
اپنے حصے کے فرائض کو نبھاتے جایئے

ہمتیں رکھیئےجواں انصاف پانے کے لیئے
ظالموں سے بے گناہوں کو بچاتے جایئے

زندگی کے راستے آراستہ ہو جایئں گے
چن کے کے شہر میں اور دشمنی کے زہر میں
چاہتوں کو بانٹیئے امرت پلاتے جایئے

افضل شافی