20 سال پہلے حکومت سندھ کا محکمہ تعلیم کیسے کام کرتا تھا ؟ ریکارڈ بولتا ہے۔

سنہ ۲۰۰۰ میں اساتذہ اور مدارس کی کاکردگی امتحانی نتائج سے بھی حاصل کی جاتی تھی ـ

محکمہ تعلیم کے فیصلوں پر ایک گلوکار اتنا حاوی کیسے ہو گیا ؟

آج محکمہ تعلیم حکومت سندھ میں یہ شکایت عام ہے کے اساتذہ کی کارکردگی اور ان کا معیار ماضی کی نسبت نیچے آ گیا ہے اس کی وجوہات پر تفصیلی بحث کی جاسکتی ہے ۔مختلف ادوار میں آنے والے صوبائی وزرائے تعلیم اور سیکرٹری تعلیم نے اپنے اپنے طور پر سسٹم میں بہتری اور اچھائی پیدا کرنے کے لئے دعوے تو بہت کئے ۔اقدامات بھی کیے گئے اربوں روپے کے فنڈ بھی خرچ ہوئے ہر سال بجٹ میں رقم بڑھائی جاتی رہی اسکولوں کی حالت زار کو بہتر کرنے کے دعوے بھی کیے گئے نیا فرنیچر اور رنگ روغن بھی کیا گیا مفت کتابیں تقسیم کرنے کے نام پر اربوں روپے فراہم کئے گئے اربوں روپے کی ٹیکسٹ بک بورڈ کے ذریعے کتابیں چھاپ پر تقسیم کرنے کا عمل بھی دیکھا گیا ۔لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔

ماہرین نے تعلیم کا کہنا ہے کہ محکمہ تعلیم کے تمام مالی معاملات کا آزادانہ اور غیرجانبدارانہ آڈٹ ہونا چاہیے۔اربوں روپے کی نئی اسکیموں پر کب کب کہاں کہاں کس کس نے خرچ کیے اس کی تفصیلات سامنے آنی چاہیے ۔ٹیچرز کب کیسے کہاں بھرتی ہوئے ان کا معیار کیا تھا اور ان کا معیار بڑھانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ۔درسگاہوں میں کلاسیس کیوں نہیں ہوتی بچے کلاسوں میں کیوں نہیں آتے ان کی پڑھائی کیوں آگے نہیں بڑھتی ۔جہاں بچے آتے ہیں وہاں اساتذہ نہیں ہوتے جہاں اساتذہ ہیں وہاں بچے نہیں ہیں ۔کتنے ہزار اسکول بلاوجہ بنائے گئے اور بند پڑے ہیں ۔اگر انہیں اسکولوں کی صحیح معنوں میں ضرورت تھی تو پھر ان کو فعال کیوں نہیں بنایا گیا ۔یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ اب این جی اوز کو سکول گود لے کر کیا حکومت اپنی ذمہ داری سے پیچھے ہٹ رہی ہے ۔کیا تعلیم دینا پرائیویٹ سیکٹر کا کام رہ گیا ہے۔پیچس کی سرکاری نوکریوں کو جس بے دریغ طریقے سے سیاسی مقاصد اور دولت جمع کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے وہ انتہائی قابل افسوس شرمناک عمل تھا ۔لیکن کس کو سزا ہوئی اینٹی کرپشن اور نیب خاموش رہا اور اگر ایکشن بھی لیا تو لوگوں کو مطمئن نہیں کر سکے ۔
محکمہ تعلیم میں ایک اوپن ہارٹ سرجری کی ضرورت ہے کیا یہ کام وزیر تعلیم سردار شاہ حیا وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کرنے میں سنجیدہ ہیں بظاہر تو ایک گلوکار ہی محکمہ تعلیم کے فیصلوں پر حاوی اور اثر انداز نظر آتا ہے۔



اپنا تبصرہ بھیجیں