زمین کتنی ظرف والی ہے

زمین کتنی ظرف والی ہے نہ خود پر کیا کچھ نہیں سہتی, کیسے کیسے لوگ بستے ہیں اس زمین پر, کتنے درخت , کتنے پتھر ,کتنے انسان ,کتنے جانور ,اللہ پاک نے کیا کیا بنایا ہے اس زمین پر .
اور پھر قدرت کی بنائی ہوئی مخلوق  کے بعد انسان کے  بنائے ہوئے کیا کیا شہکار  ہیں اس زمیں پر  ,کتنی فلک بوس عمارتیں ہیں ,کتنی سڑکیں ہیں اور پھر سڑکوں پر چلنے والی کتنی قسم کی گاڑیاں ہیں…کتنے لوگ بار بار ایک ہی جگہ پر  روزانہ چلتے ہیں کتنے دریا بہتے ہیں ,کتنا پانی ٹھہرا ہوا ہے ,اور اس  ٹھہرے ہوے پانی پر کتنی قسم کی کشتیاں اور جہاز چلتے ہیں ….
اور اب زمین کے سینے کو چیر کر دیکھتے ہیں کہ یہ اپنے اندر کتنا کچھ سمُو لیتی ہے  …
ایک انسان جب زندہ ہوتا ہے تو وہ اپنی اکڑ میں اس زمین پر بہت غرور سے چلتا ہے اور پھر مرنے کے بعد صرف ایک زمین ہی ہے جو انسان کو اپنے اندر جذب کر لیتی ہے, ایک مرے ہوے انسان کی بُو کو خود میں جذب کرنے کا ہنر صرف اور صرف زمین میں ہی ہے , یہ سب برداشت کرنے کے بعد بھی زمین انسان کو کتنا کچھ دے جاتی ہے ,
 رنگ ہی رنگ 🌸🍁🌺
انسان بھی تو اسی زمین پر رہتے  ہیں نا ,اللہ جل شان ہو نے انسان کو اشرف مخلوقات بنایا ہے ,ہم انسان اور زمین کا ایک دوسرے کے ساتھ  موازنہ نہیں کر رہے بلکہ ہم یہ چاھتے ہہیں کہ ہم لوگ زمیں سے کچھ سیکھیں…..
 اگر زمین اتنی اعلٰی ظرف ہے تو پھر انسان کیوں نہیں ؟
کیوں انسان اپنی اوقات بار بار بھول جاتا ؟؟
کیوں مٹی سی بنے لوگ احساس سے عاری ہیں ؟
 یہ جانتے ہوے کے ایک دن اسی مٹی میں مل جانا ہے ؟؟
عاجزی کیوں نہیں ہے ؟
نفرتوں کے پیڑ کیوں پروان چھڑ رہے ہیں ؟
کیوں اس پاک سرزمین پر ایک انسان ہی دوسرے انسان کو  ڈسنے کی فراق میں دکھائی دیتا ہے ؟
کیوں آخر کیوں ھمارے پاس اپنے ہی سوالات کے جوابات نہیں ہوتے ؟
کیوں جب ہم خوش ہوتے ہیں تو خوشی دینے والے کو بھول جاتے ہیں اور دکھ کے عالم میں ہمیں خدا یاد آ جاتا ہے ؟
ہم سب اِسی مٹی سے بنے ہیں اور ایک مقرر دن پر ہم نے اِسی مٹی میں مل جانا ہے تو کیوں نہ ایسا کیا جاے کے اس مٹی کی قدر کی جاے عاجزی اور انکساری کے ساتھ اس زمیں پر چلا جاے ,تکبر اور غرور کو اپنی شخصیت سے نکال دیا جاے , نفرتوں کے پروان چھڑتے ہوے پیڑ کو جڑ سے نکال پھنکا جاے اور مبحتوں کے نۓ پودے اُگاے جاہیں .۔۔۔
کیوں نا نارضگیوں کو ختم کیا جاۓ اور دوستی کا ہاتھ بڑھایا جاے …
کیوں نا دوسروں کی زندگی میں مشکلات پیدا کرنے کے بجاے آسانیاں پیدا کی  جایں .
کیوں نا اپنے اندر ظرف پیدا کیا جاے .
ذرا سوچیے ـ۔۔!
حنا بٹ .

Haveli Farwad Kahuta AJK