یادوں کے جھروکوں سے

یہ اپریل 1985 کے آخری ہفتہ کی کوئی تاریخ ہو گی جب ہم چارج لینے کے لیے پنڈ دادنخان روانہ ہوئے۔ اوکاڑہ سے پنڈ دادنخان تبادلہ پر ملے جلے جذبات تھے۔ بہرحال دوستوں کی مدد سے پنڈ دادنخان کی جغرافیائی پوزشین کا حتمی تعین کرنے اور بذریعہ روڈ روٹ طے کرنے کے بعد سیالکوٹ سے روانہ ہوئے۔ سیالکوٹ تا کھاریاں اور ہیڈ رسول سفر بڑا خوشگوار اور اپنائیت بھرا نظر آیا۔ دریائے جہلم کا پُل کراس کرتے ہوئے ماحول بڑا سحر انگیز اور دلفریب محسوس ہوا۔ مگر جونہی جلالپور شریف کے پہاڑوں کو کراس کرتے ہوئے سنگل روڈ جسکے دونوں طرف کافی بڑے بڑے کھڈے تھے اور سامنے سے ہر پانچ سات منٹ کے بعد لوڈڈ ٹرکوں کا ایک قافلہ نظر آتا۔ اور ہر مرتبہ بادل نخواستہ مستعار شدہ گاڑی کو پختہ سنگل روڈ سے نیچے اُتارنا پڑتا تو گاڑی کی کمانیوں سے جو آوازیں ابھرتیں وہ اپنے جسم و جان پر کافی گراں گزرتیں۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے جب ابھی بذریعہ موٹروے پنڈ دادنخان للہہ انٹرچینج کے ذریعہ ایک برق رفتار اور خوش کن سفر میں تبدیل نہیں ہوا تھا۔

بہرحال یہ مشکل سفر کٹا اور پنڈ دادنخان عدالتوں میں پہنچ گئے۔ یہ عدالتیں پنڈ دادنخان شہر جسے شہر کہنا مناسب نہ تھا سے باہر ہی واقع تھیں۔ عدالت میں پہنچ کر چارج رپورٹ کی تیاری کا مرحلہ جاری تھا کہ ناظر نے ایک خاکی رنگ کا لفافہ جو ہائی کورٹ سے جاری شدہ تھا لا کر آگے رکھ دیا۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے جب ہائی کورٹ کی طرف سے خاکی رنگ کے لفافہ کی نہ تو پوری طرح اہمیت کا اندازہ تھا نہ ہی خوف و حراس کا ادراک۔ بہرحال لفافہ کھولا تو خوش کن خبر یہ تھی کہ ہمیں درجہ دوئم سول جج کے اختیارات مل گئے تھے۔ گویا اوکاڑہ سے ٹرانسفر کے وقت ایک سول جج درجہ سوئم پنڈ دادنخان پہنچتے پہنچتے درجہ دوئم بن چکا تھا اور اللہ کا خصوصی کرم یہ تھا کہ پروبیشن پیریڈ بھی اختتام پذیر ہوچکا تھا۔ ہمارے ہاں سرکاری ملازم کا پروبیشن پیریڈ ایک نوبیاہتا دلہن کی طرح ہوتا ہے۔ جب اُسکے ہاں پہلے بچہ کی پیدائش ہوتی ہے تو اُسکے سُسرال میں قدم ٹکتے ہیں۔ اسی طرح سرکاری ملازم بھی پروبیشن پیریڈ ختم ہونے کے بعد ایک سُکھ اور آزادی کا سانس لیتا ہے۔ ورنہ اسکی تلوار سر پر لٹک رہی ہو تو یار لوگ ہر وقت ڈراتے رہتے ہیں۔

پنڈ دادنخان میں اُس وقت ایک ہی سول جج درجہ اوّل نواب الدین سہینگل جو بڑے پڑھے لکھے قسم کے جج تھے اور دلکش گفتگو اور قصہ گوئی میں یدّ طولٰی رکھتے تھے۔ وہاں ایگزیکٹیو مجسٹریٹ سعید اختر انصاری تھے جو سول ججی چھوڑ کر ایگزیکٹیو کی آن بان دیکھ کر وہاں اپنی پہلی پوسٹنگ پر تھے۔ وہ ایک نوجوان، پڑھے لکھے اور متحرک مجسٹریٹ تھے۔ بعد ازاں قصور کے ڈی۔سی۔او بھی رہے۔ اگرچہ سول جج اور مجسٹریٹ کے الگ الگ سرکاری گھر تھے مگر بلکل ملحقہ تھے۔ اسلیے ہم تینوں کا مشترکہ کھانا پکتا اور رات بھی صحن میں چارپائیاں ڈال کر سو جاتے کہ ابھی اے۔سی وغیرہ کی عیاشی کا دور شروع نہیں ہوا تھا۔ سرکاری گھروں سے ملحقہ ایک چھوٹا سا جوڈیشل لاک اپ تھا جس میں گرمی سے ستائے ہوئے قیدی رات کو جب اونچی آواز میں لوک گیت اور ماہیے گاتے تو کیا سحر انگیز منظر ہوتا۔ لہٰذا رات کو لان میں لیٹے ہوئے جب جوڈیشل لاک اپ کے قیدیوں کے سُریلے گیتوں کی آواز آتی اور ہم حسبِ حال کوئی لطیفہ سناتے تو تینوں کے فلک شگاف قہقہے قیدیوں کی مدہر بھری آوازوں کا حصہ بن کر فضاؤں میں بکھر جاتے۔ تاہم نواب دین سینہگل اور سعید اختر انصاری کے اکٹھے ہی تبادلہ کے بعد کچھ دن نہایت اُداسی، اضطراب اور بے چینی میں گزرے کہ اس ہو کے عالم میں تن تنہا وقت گزارنا ایک اذّیت ناک مرحلہ بن جاتا۔ بہرحال چند یوم بعد نہایت ہی اعلٰی اخلاق و اقدار کے مالک مہر محمود اختر مجسٹریٹ تشریف لے آئے جو طبعاً ایک نفیس اور وضع دار انسان ہیں شام ڈھلتے ہی ہمارے گھروں اور کچہریوں کے آس پاس ایک خوفناک سناٹا چھا جاتا۔ جب ہم اکھٹے ہوتے تو یہ احساس زیادہ نہ ہوتا مگر اکیلے میں یہ سناٹا جان کو کھانے آتا۔ اسلیے ہفتہ دس دن بعدکبھی چوا سیدن شاہ اور کلّر کہار کہ ٹھنڈے پانیوں کے چشموں اور لوکاٹ کے دلفریب باغوں کا نظارہ کرنے کے لیے ہم پہاڑوں کا رخ بھی کرتے کہ اُن دنوں یہ علاقے ابھی پنڈ دادنخان کا ہی حصہ تھے۔ جو ہمارے وہاں ہوتے یکم جولائی 1985 کو بننے والے نئے ضلع چکوال میں شامل کر دیے گئے۔ اسطرح چوا سیدن شاہ اور کلّر کہار کے پہاڑوں کی دلفریبی، خوبصورتی اور خوشحالی کے ساتھ ساتھ ان پہاڑوں کے نیچے قدرتی معدنیات کے ان گنت ذخیرے بھی چکوال کے حصہ میں آئے اور پنڈ دادنخان میں زیادہ تر شور زدہ اراضی اور میٹھے پانی سے محروم علاقے رہ گئے۔

پنڈ دادنخان ایک چھوٹا سا اُداس اُداس سا قصبہ تھا مگر ایک تاریخی حیثیت رکھتا تھا۔ البیرونی کا مشہور قلعہ سالٹ رینج کے اندر ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے اور اسی طرح سکندر اعظم کا دریائےجہلم اور پنڈ دادنخان کے پاس سے گزرنے کا اپنا ایک تاریخی مقام ہے۔ تحریکِ پاکستان کے نامور سپوت راجہ غضنفر علی خان کی یہ جنم بھومی بھی ہے۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ لوگ یہاں سے باہر شفٹ ہوتے گئے۔ ایک دفعہ ایک فوجی افسر سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ اس وقت یعنی 1985 میں صرف پنڈ دادنخان تحصیل کے تقریباً 20/22 حاضر سروس جرنیل فوج میں ہیں اور اُس سے چھوٹے رینک والوں کا کوئی حساب نہیں۔ شہر اور گردونواح میں پینے کا صاف پانی سب سے بڑا مسلہ تھا۔ ایشیا کی سب سے بڑی نمک کی کان جسے کھیوڑہ مائینز بھی کہتے ہیں وہ ہماری عدالتوں سے صرف چار کلو میٹر کے فاصلہ پر تھی اور اسکے ساتھ ایک نہایت جدید اور ہر طرح کی سہولتوں سے آراستہ ICI سوڈا فیکٹری بھی تھی جسکے اندر جانے کے بعد احساس ہوتا تھا کہ ہم پاکستان نہیں بلکہ کسی یورپی ملک میں سیر کر رہے ہیں۔ اُنکا آفیسرز کلب اور کالونی ایک الگ ہی دنیا تھی جسکا بیرونی دنیا سے نہ کوئی ربط اور نہ تقابل ہی ممکن تھا۔

پنڈ دادنخان میں اس وقت تقریباً پندرہ سولہ وکیل بار میں ہونگے مگر سبھی نہایت وضع دار اور اعلیٰ روایات کے امین۔ سب سے بزرگ راجہ محمّد اسلم تھے۔ پھر دانشور وکیل جو سابقہ ایم۔این۔اے بھی رہ چکے تھے میاں مسعود الحسن بھٹی مرحوم۔ بڑے ہی مرنجامرنج، شگفتہ مزاج اور زیرک جناب چوہدری ظفر حسین مرحوم تھے جو بعد ازاں سیشن جج اوکاڑہ کے طور پر ریٹائر ہوئے اور چند سال پہلے ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔ وہ اُس وقت صدر بار بھی تھے۔ اور بہت ہی خلیق اور دھیمے مزاج کے چوہدری نذر حسین گوندل جو بعد ازاں دو تین مرتبہ ایم۔پی۔اے بھی منتخب ہوئے وضع داری کی اعلٰی مثال تھے۔ پھر ایک خوبصورت، جوان و رعنا، ذہین اور محنتی خواجہ امتیاز احمد بھی تھے جو بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدہ جلیلہ سے ریٹائر ہوئے۔ خواجہ صاحب کے والد گرامی خواجہ مشتاق احمد ایڈوکیٹ وہاں کے بڑے سینئر وکیل تھے اور بوجہ علالت عدالتوں میں کم ہی آتے تھے۔ اسلیے خواجہ صاحب کے پاس کافی کام تھا اور وہ محنت بھی کرتے تھے۔ یہ تینوں بڑے گہرے دوست بھی تھے۔ وکالت میں اس طرح کی بے مثل دوستی نہ پہلے دیکھی نہ بعد میں نظر آئی۔ بقیہ لوگوں میں جو نام یاد رہ گیا وہ ایک بڑے ہی خوش اخلاق، متوازن اور مثبت سوچ کے حامل سیّد سخاوت حسین شاہ صاحب تھے۔ سروس کے ان سالوں میں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ بار میں اُس زمانے میں مثبت اور متوازن سوچ والے وکلاء اکثریت میں ہوتے تھے۔ بار اور بنچ کا تنازع کہیں خال خال ہی نظر آتا تھا کہ دونوں طرف دلوں میں کشادگی، درگذر اور بنچ اور بار کی تقدیس ایک نمایاں حیثت رکھتے تھے۔

جہلم جو نسبتاً ایک چھوٹا ضلع اور اس ملک میں عساکرِ پاکستان میں بے شمار شہیدوں اور غازیوں کی سر زمین ہونے کے ساتھ ساتھ اس لحاظ سے بھی مردم خیز خطہ ہے کہ ہماری ملازمت کے دوران تین قابل احترام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اس ضلع سے تعینات ہوئے جن میں جناب خواجہ امتیاز احمد کے علاوہ جناب چوہدری افتخار حیسن مرحوم اور جناب محمّد انوارالحق بھی شامل ہیں۔ یہ منفرد اعزاز لاہور کے باہر شاید ہی کسی چھوٹے ضلع کے نصیب میں آیا ہو۔

بار کا ماحول بڑا پُر امن اور گھریلو سا تھا۔ جو ضلع کی تقسیم کے بعد اور ظاہراً خوشحال علاقے تحصیل سے نکل جانے کے بعد بھی نہ بدلا۔ بلکہ وکلاء اُسی سابقہ خندہ پیشانی اور وضع داری کا مظاہرہ کرتے نظر آئے۔ اگر سول جج چار دن چھٹی گزار کے آئے تو بار میں اُسکی دعوت جو عموماً پکوڑا پارٹی یا مینگو پارٹی ہوتی وہ روایات کا حصہ تھی۔ ٹائمنگ اور یونیفارم کی وہاں کوئی پابندی نہ تھی کہ گزشتہ دس سالوں میں کسی بھی سیشن جج نے پنڈ دادنخان کا دورہ نہ کیا تھا۔ بہرحال ہمارے زمانے میں بڑے دبنگ سیشن جج جو ہر لحاظ سے اپنے ماتحتوں کو protect کرتے تھے۔ جناب راؤ محمّد حیات صاحب پنڈ دادنخان تشریف لائےاور جاتی دفعہ میرے کان میں کہا کہ یار آپ نے یہ نہیں بتایا تھا کہ راستہ اتنا خراب ہے ورنہ میں کبھی نہ آتا۔ میں نے کہا کہ سر گزشتہ دس سالوں میں اسی لیے کسی سیشن جج نے یہاں وزٹ نہ کیا۔ مسکرا دیے۔

پنڈ دادنخان پوسٹنگ کا ایک ایمان افروز واقعہ ضرور بیان کرنا چاہتا ہوں۔ میرے لیے یہ ایمان افروز بھی ہے اور معجزہ بھی۔ کچھ کے لیے ممکن ہے یہ روٹین کی بات ہو لیکن میں چونکہ اُس وقت ایک خاص کیفیت سے گزرا اسلیے میں اسے ایمان افروز سمجھتا ہوں۔ ہوا یوں کہ ایک حق شفع کے دعویٰ میں شہادت مدعالیہ قلمبند ہو رہی تھی۔ چوہدری ظفر حسین مرحوم گواہ پیش کر رہے تھے۔ میں نے DW1 کا بیان قلمبند کر لیا۔ DW2 اندر آیا۔ میں نے اُسی کاغذ کی بیک سائیڈ پر اُسکا نام نور محمّد لکھا۔ ولدیت بولنے سے پہلے چوہدری ظفر حسین نے کہا کہ انہیں اسکا بیان قلمبند نہ کروانا ہے اور منشی کو کہا کہ اگلا گواہ بلاؤ۔ میں یہ بات پوری ایمانداری سے لکھ رہا ہوں کہ ایک دم میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اب یہ نور محمّد کاٹنا نہ پڑے کہ اس میں محمّد کا نام شامل ہے۔ ایسا نہ ہی ہو تو بہتر ہے۔ یہ کیفیت صرف بیس تیس سیکنڈ تک رہی۔ اس دوران اگلا گواہ اندر آگیا۔ اُسکا نام پوچھا تو اُس نے کہا “نور محمّد”۔ واہ میرے مولا قربان جاؤں کہ میری اس قلبی کیفیت کو اتنی تیزی سے بھانپا اور محمّد کا نام قلمزن کرنے کی نوبت ہی نہ آنے دی۔ یہ واقعہ میں نے اپنے کسی مذہبی تشخّص کو ابھارنے کے لیے نہیں لکھا، نہ ہی زاتی کوتاہیوں کو چھپانے کے لیے کبھی مذہب کا تڑکا لگایا۔ نہ ہی اپنا اس قسم کا مزاج ہے۔ یار لوگ سبھی جانتے ہیں۔ بس ایک قلبی کیفیت کا اظہار کیا ہے۔ اللہ تعالٰی ہمیں محمّد عربی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے سچے غلاموں میں شامل کر دے۔ اس سے بڑی خوش بختی کیا ہو گی۔ اوائل سروس میں ہی اس بات کا بخوبی ادراک ہو گیا تھا کہ ہماری عبادات خالصتاً ہمارا ذاتی فعل ہے اور یہ اللہ اور بندہ کے درمیان معاملہ ہے البتہ اگر ان عبادات کا کوئی مثبت عکس ہمارے اخلاقی اور معاشرتی رویوں پر نظر آئے تو یہ سراسر رحمتِ خداوندی ہے۔

پنڈ دادنخان کی پوسٹنگ کے دوران ہی سول جج درجہ اول کے اختیارات غالباً نومبر 1985 میں مل گئے۔ اسطرح ہمارا بڑا خوش قسمت batch تھا جسے تقریباً سوا تین سال میں درجہ اول کے اختیارات مل گئے۔ پنڈ دادنخان کی اُداسیوں کو کم کرنے کے لیے ہم نے وہاں پر قائم ایک خوبصورت سے آفیسر کلب کو ایک نہایت شریف الانفس اسسٹنٹ کمشنر ملک ضیااللہ مرحوم کی کاوشوں سے دوبارہ آباد کیا۔ کیا آباد کیا کہ پنڈ دادنخان کی ساری رونقیں شام کو اس کلب میں لوٹ آئیں۔ ایگزیکٹو، پولیس، عدلیہ، ممبران بار، ہسپتال کے ڈاکٹر سبھی شام کو یہاں موجود ہوتے۔ بڑی اعلٰی پایہ کی بیڈمنٹن۔ گپ شپ، ہنسی مزاق غرض ایک الگ دنیا آباد ہو گئی۔ میں تقریباً ایک سال تک یہاں تعینات رہا۔

بہرحال پنڈ دادنخان میں گزارا ہوا ایک سال بے پناہ خوبصورت یادیں لیے اور بار کی طرف سے ڈھیروں محبتیں اور چاہتیں کہ انکا شمار ممکن نہ ہے۔ اور پھر سب سے بڑھ کر ایک سال کے اندر سول جج درجہ سوئم سے درجہ اوّل کی مشکل سیڑھی اتنی آسانی سے سر کرنے کے بعد اگلا پڑاؤ کھاریاں تھا۔