پاکستان فارما سوٹیکل مینو فیکچر ایسوسی ایشن نے ادویات کی قلت پیدا ہونے سے متعلق خطرے کی گھنٹی بجا دی

پاکستان فارما سوٹیکل مینو فیکچر ایسوسی ایشن نے ادویات کی قلت پیدا ہونے سے متعلق خطرے کی گھنٹی بجا دی، بھارت سے خام مال کی درآمد پر پابندی سے بہت سی ادویات کا سٹاک ختم ہوجائے گا، جس کی ذمہ داری فیصلہ ساز اداروں پر ہوگی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان فارما سوٹیکل مینو فیکچر ایسوسی ایشن(پی پی ایم اے) کا کہنا ہے کہ بھارت سے ادویات کی درآمد پر پابندی عائد کردی گئی ہے لیکن اس کے متبادل ذرائع کو بھی استعمال نہیں کیا گیا، کہ ان ادویات کی کمی کو کس طرح اور کن ذرائع سے درآمد کرکے پورا کیا جائے گا۔
فیصلہ ساز اداروں کو مطلع کرتے ہیں کہ ملک میں ادویات کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ کیونکہ سٹاک میں موجود خام مال ختم ہونے سے دواؤں کی تیاری بند ہونے والی ہے۔

جس کے باعث ملک میں بہت ساری ادویات کی قلت پیدا ہوجائے گی۔ ہمارا کام فیصلہ سازوں کو بروقت مطلع کرنا ہے تاکہ بروقت اقدامات کیے جاسکیں۔ اگر ادویات کی قلت کو دور کرنے کیلئے اقدامات نہ کیے گئے تو اس کی ذمہ داری ہمارے اوپر نہیں ہوگی۔
واضح رہے وزیراعظم عمران خان نے جان بچانے والی ادویات کی آڑ میں بھارت سے معمول کی ادویات اور وٹامنز کی درآمد کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ بھارت سے معمول کی ادویات اور وٹامنز کی درآمد کا انکشاف کابینہ کے گزشتہ اجلاس میں اٴْس وقت ہوا جب بھارت سے مزید 429 ادویات درآمد کرنے کی سمری پیش ہوئی، سمری میں لائف سیونگ اور ملٹی وٹامن ادویات درآمد کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔
وزیراعظم سمیت کابینہ ارکان نے بھارت سے معمول کی ادویات اور وٹامنز کی درآمد پر سوالات اٹھائے جبکہ کابینہ ارکان نے استفسار کیا کہ بھارت سے درآمد ادویات کونسی ہیں کیا تمام ادویات جان بچانے والی ہیں؟ وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت نے مؤقف اختیار کیا کہ فہرست کی تیاری میرے علم میں نہیں۔ جس پر وزیراعظم نے شہزاد اکبر کو بھارتی ادویات کی درآمد پرحقائق سامنے لانے کی ہدایت کی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے بھارت سے لائف سیونگ کے سوا مزید ادویات درآمد کرنے کی سمری مسترد کردی-اسلام آباد ( مدار نیوز ٹی وی )