سیاہ فام امریکی شہری کی ہلاکت، میکسیکو میں مظاہرین کا امریکی سفارت خانے پر حملہ

واشنگٹن: امریکہ میں سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے جاری ہیں جبکہ میکسیکو میں مظاہرین کا امریکی سفارت خانے پر حملہ کر دیا۔

مظاہرین نے امریکی سفارت خانے کا مرکزی گیٹ توڑنے کی کوشش بھی کی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی سیاہ فام جارج فلائیڈ کی پولیس حراست میں ہلاکت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ نیویارک کی سڑکوں پر بھی ہزاروں مظاہرین نے حکومت کے خلاف مظاہرے کیے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ: جلاؤگھیراؤ میں10افراد ہلاک، وائٹ ہاؤس پر تعینات فوج پیچھے ہٹ گئی

امریکی ریاست نیویارک کے شہر بفلو میں پولیس تشدد کے خلاف بھی احتجاج جاری ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پولیس اہل کار نے 75 سالہ معمر شخص کو دھکا دے کر زخمی کر دیا، بزرگ شخص کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔

اس واقعہ کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد 2 پولیس اہلکاروں کو برطرف کر دیا گیا جب کہ اہل کاروں کی برطرفی کے خلاف بفلو پولیس کے 57 اہل کار احتجاجاً مستعفی ہو گئے ہیں۔

گزشتہ روز امریکی شہروں لووا اور للی میں جھڑپوں کے دوران آنسو گیس کا استعمال کیا گیا جس سے متعدد افراد ہلاک ہو گئے جن میں تین افریقی امریکن بھی شامل ہیں۔

وائٹ ہاوس کی حفاظت پر تعینات فوجی دستے پیچھے ہٹ گئے تھے اور دار الحکومت واشنگٹن ڈی سی میں کرفیو ختم کردیا گیا تھا۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق نیشنل گارڈز اور پولیس کے دستے بھی پیچھے ہٹ گئے تھے اور واشنگٹن ڈی سی کی سڑکیں میٹرو پولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ کے دائرہ اختیار میں ہیں۔

حفاظتی اقدامات کے طور پر وائٹ ہاؤس کے باہر رکاوٹیں 10 جون تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تاہم وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے اردگرد تمام علاقے بند رکھنے کا اعلان کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ میں ہنگامے: گولی لگنے اور تیزدھار آلے کے وار سے دو پولیس اہلکار زخمی

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہیلی کاپٹرز شہر کی حفاظت کر رہے ہیں۔ مسئلہ مجرموں، لٹیروں اور انتشارپسندوں کا ہے جو ملک تباہ کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی ریاست میناپلیس میں جارج فلوئیڈ کی آخری رسومات میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی ہے