محنت وہ ہے جو میں کرتا ہوں‘‘۔’’وہ کیسے؟‘‘

سید عدیل رضانے سندھ پولیس کا سر فخر سے بلندکردیا

٭ اوورسیز پاکستانی والنٹیئر گروپ کی کور ٹیم کے ممبر اور سندھ کے انچارج فیض الحسن نے بتایا کہ مجھے فواز ( ممبر اوورسیز پاکستانی والنٹیئر گروپ کی کور ٹیم ) نے فون کیا اور کہا کہ ایمرجنسی میں ایک انجکشن کا بندوبست کریں جوکہ کرونا کے مریض کو لگے گا۔ فواز نے بتایا کہ انہوں نے تقریباً پورے پنجاب میں ڈھونڈ لیا لیکن یہ انجکشن کہیں نہیں مل رہا۔ کراچی میں کافی محنت کے بعد آخر کار وہ انجکشن ایک نجی فارماسوٹیکل کمپنی سے مل گیا لیکن پھر ایک پریشانی کھڑی ہوگئی کہ 24 گھنٹے کے اندر اس انجکشن کو لاہور کیسے پہنچایا جائے لہٰذا تمام کوریئر کمپنیز کو کال کی گئی لیکن کہیں ایمرجنسی سروس رسپانس نہیں ملا پھر میں نے ایک دوست سے بات شیئر کی کہ ایک انجکشن ایمرجنسی میں لاہور بھیجنا ہے ان دوست کا نام سید عدیل رضا ہے جوکہ سندھ پولیس کے ایک ایماندار افسر ہیں۔ عدیل رضا نے فوری طور پر کہا کہ کوئی مسئلہ نہیں آپ کا کام ہوجائے گا۔ فوری طور پر انہوں نے گاڑی اور ڈرائیور کا بندوبست کیا جس پر OPVG نے سندھ پولیس کے آفیسر سید عدیل رضا کا شکریہ ادا کیا ، سید عدیل رضا کی اس کاوش کے بعد پنجاب میں سندھ پولیس کے امیج کو قابل فخر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ سید عدیل رضا ہی کی کاوش سے انجکشن 24 گھنٹے کے اندر لاہور پہنچا اور مریض کو بروقت انجکشن مہیا کردیاگیا جس پر فواز نے فون کال کرکے شکریہ ادا کیا ۔

٭ ہماری تحریر کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ سندھ پولیس میں اس طرح کے قابل اور ایماندار افسران موجود ہیں جوکہ انسانیت کی خدمت میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔ ایسے کرداروں سے ہی عوام اور پولیس میں دوریوں کا خاتمہ ممکن ہے۔