جسٹس قاضی فائز عیسی کیس اج کی کاروائی کا حال

11 بج کر 33 منٹ پر سب سے پہلے بغیر ماسک پہنے جسٹس قاضی محمد امین احمد کورٹ روم نمبر ون میں داخل ہوئے اور ان کے پیچھے دس رکنی فل کورٹ کے بقیہ نو ججز کمرہ عدالت میں داخل ہوئے۔ جسٹس فیصل عرب نے بھی آج سادہ ماسک پہن رکھا تھا۔ فل کورٹ کے سامنے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان، بیرسٹر فروغ نسیم، عرفان قادر، خالد رانجھا فرنٹ لائن میں اور ان سے پچھلی لائن میں ایسٹ ریکوری یونٹ کے سربراہ مرزا شہزاد اکبر اور حکومتی جماعت تحریک انصاف کی ایم این اے ملیکا بخاری بیٹھی تھیں۔

بیرسٹر فروغ نسیم نے حسب روایت دلائل کا آغاز ججز کی تعریف کرتے ہوئے کیا کہ میں بینچ کا شکر گزار ہوں کہ میری بہت رہنمائی کی اور آپ کی رہنمائی سے 27 نکات بنا کر لایا ہوں جو آج ابھی پڑھوں گا۔ فل کورٹ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے بیرسٹر فروغ نسیم کی تصحیح کی کہ 27 پہلو ہوں گے، نکات نہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے بیرسٹر فروغ نسیم کو مزید ہدایت کی کہ میرے بھائی ججوں نے آپ سے بدنیتی اور ایسٹ ریکوری یونٹ پر سوالات پوچھے تھے، براہِ مہربانی ان کے جواب دے دیں آج۔
27 نکات کی تحریری کاپی تمام ججز کے سامنے عملے نے رکھ دی تو بیرسٹر فروغ نسیم نے صدر کیسے ریفرنس کے مواد پر سوچ بچار کرتا ہے والا نکتہ بیان کرنا شروع کر دیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے بیرسٹر فروغ نسیم کو ٹوک کر کہا کہ ریفرنس کا معاملہ اے آر یو سے شروع ہوتا ہے، پہلے اس کا بتائیں تاکہ واقعات کا تسلسل قائم رہے۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ مائی لارڈ وہ چوتھے نمبر پر ہے۔ جسٹس مقبول باقر نے سوال پوچھا کہ کیا صدر نے سوچ بچار اور ذہن استعمال کر کے نتیجے پر پہنچنے کے لئے کیسے فیصلہ کیا کہ یہ اہل اور قابل بھروسہ معلومات ہیں؟
جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ اگر وزیر اعظم کسی باڈی کا سربراہ کسی کو تعینات کرتے ہیں تو ایک پورا پراسیس ہوتا ہے، وہ کیا تھا؟ بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ رولز آف بزنس وزیر اعظم کو اختیار دیتے ہیں کہ وہ وقت کے ساتھ ساتھ اپنے اختیارات کا مرضی کے مطابق استعمال کر سکیں۔ اس موقع پر بیرسٹر فروغ نسیم نے جسٹس منصور علی شاہ کی 2013 میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک فیصلہ کا بھی حوالہ دیا کہ انہوں نے بھی رولز آف بزنس کو لاگو کرنا لازم قرار دیا تھا۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے فل کورٹ کو آگاہ کیا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ کابینہ ڈویژن کے ماتحت آتا ہے اور یہ ایک مکمل قانونی کارروائی ہے، اس میں کچھ بھی غیرقانونی نہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ایسٹ ریکوری یونٹ جیسی کوئی بھی باڈی کسی شہری کو نہیں چھو سکتی جب تک اس کو کسی قانون کے تحت نہ بنایا گیا ہو۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ صرف حکومتی تحقیقاتی ایجنسیوں میں تعاون کا کام کرتا ہے، شہریوں کو کچھ نہیں کہتا۔ جسٹس مقبول باقر نے جواب دیا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ نے بیرون ملک ایک ایجنسی کی خدمات حاصل کیں۔ وہ کس قانون کے تحت ایسا کرسکتا ہے؟ جسٹس فیصل عرب نے سوال پوچھا کہ اگر اے آر یو نہ ہوتا اور یہ شکایت صدر کے پاس آتی تو کیا وہ دیگر ایجنسیوں کی خدمات لیتے؟
بیرسٹر فروغ نسیم نے اثبات میں جواب دیا تو جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ قانونی ایجنسیوں ایف بی آر اور ایف آئی اے کے ہوتے ہوئے ایگزیکٹو کی جانب سے باڈی حرکت میں لائی گئی۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے جسٹس منصور علی شاہ کی بات آگے بڑھاتے ہوئے سوال اٹھایا کہ وزارت داخلہ کے ماتحت ایف آئی اے آتی ہے اور ایف آئی اے کے مینڈیٹ میں کرپشن بھی آتی ہے تو ایف آئی کی خدمات لے لیتے۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ ایف آئی جج کے معاملات کو نہیں دیکھ سکتی۔ جسٹس مقبول باقر نے چونک کر پوچھا تو کیا ایسٹ ریکوری یونٹ دیکھ سکتا ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے اس موقع پر وضاحت کی کہ کوئی بھی جج قانون سے بالاتر نہیں ہے لیکن تحقیقات قانون کے تحت قیام میں لائے گئے ایف آئی اے اور ایف بی آر جیسے ادارے ہی کر سکتے ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے اس موقع پر مسکراتے ہوئے طنز کیا کہ وہ ایک ہلکی پھلکی بات کہنا چاہتے ہیں کہ بیرسٹر فروغ نسیم ہمارے سوالات سے بہت لطف اٹھاتے ہیں اور ججز کو سراہتے رہتے ہیں۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے جھینپ کر کہا کہ میرا مقصد بے جا تعریف نہیں ہوتا۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے اے آر یو کا مینڈیٹ پڑھتے ہوئے سوال کیا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ کے ٹرمز آف ریفرنس کی شق 4 کہتی ہے کہ اگر اس کو ٹیکس چوری سے متعلق کوئی معلومات ملتی ہیں تو وہ ایف بی آر کو آگاہ کرے گا۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ سر میں آپ کو سمجھا دیتا ہوں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ کوئی قانون ایسٹ ریکوری یونٹ کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ کسی شہری کے متعلق معلومات اکٹھی کرے۔
اس موقع پر جسٹس منیب اختر نے ایک بہت ہی اہم نکتہ اٹھایا جس نے آج کی حد تک کم از کم پورے حکومتی ریفرنس کو وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا ہے۔ جسٹس منیب اختر نے سوال اٹھایا کہ آپ کہتے ہیں ایسٹ ریکوری یونٹ صرف کوآرڈینیٹ کرتا ہے اور ڈوگر نے اے آر یو کے سربراہ کا دروازہ کھٹکٹایا اور انہوں نے ڈوگر کا پس منظر جانے بغیر تحقیقات شروع کر دیں۔ جسٹس منیب اختر کا مزید کہنا تھا کہ اے آر یو کو جب یہ پتہ چل بھی گیا کہ یہ ایک ٹیکس کی خلاف ورزی کا معاملہ تھا تو پھر کس نے فیصلہ کیا کہ یہ تو مس کنڈکٹ ہے؟ وہ عقلمند کون تھا جس کو یہ شاندار خیال سوجھا کہ یہ ریفرنس بنتا ہے؟
بیرسٹر فروغ نسیم بولے کہ یہ فیصلہ ایسٹ ریکوری یونٹ نے نہیں کیا۔ جسٹس مقبول باقر نے انہیں فوری خبردار کیا کہ بیرسٹر فروغ نسیم، آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے قانونی نتائج ہوں گے۔
جسٹس منیب اختر دوبارہ بولے۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر یہ جائیداد 2013 میں خریدی گئی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آمدن سے جائیداد خریدی گئی وہ 2013 سے پہلے کی ہوگی اور کرپشن کا الزام نہیں تو وہ جائز آمدن ہوگی اور 2013 سے پہلے بیرون ملک بھیجی گئی ہوگی؟
بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ جی بالکل ایسا ہی ہے۔ جسٹس منیب اختر نے ایک دستاویز ہوا میں لہرا کر ریمارکس دیے کہ میرے ہاتھ میں اینٹی منی لانڈرنگ قانون ہے جو 2016 میں بنا ہے تو اس کا مطلب ہے یہ 2013 میں موجود نہیں تھا، جب یہ جائیداد خریدی گئی تو اس وقت یہ جرم بھی نہیں تھا۔
جسٹس منیب اختر نے دوبارہ سوال پوچھا کہ وہ عقلمند بتائیں جس کے ذہن میں ریفرنس بنانے کا اچھوتا خیال آیا؟ منیب اختر نے اس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں بہت ہی نرم لفظوں کا استعمال کرتے ہوئے کہوں گا کہ یہاں فیصلہ کرنے میں بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے۔ جواب میں بیرسٹر فروغ نسیم واضح طور پر گھبرائے ہوئے نظر آئے اور ان سے اگر مگر سے زیادہ جواب نہیں بن پا رہا تھا۔
فل کورٹ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال جو جسٹس منیب اختر کے بیرسٹر فروغ نسیم کے ساتھ مکالمے کے دوران قریباً ہنسنا شروع ہو گئے تھے، انہوں نے بیرسٹر فروغ نسیم سے پوچھا کہ وہ جاننا چاہتے ہیں آخر یہ شاندار دماغ کس کے پاس ہے، جس نے یہ نہیں سوچا کہ معاملہ ایف بی آر یا ایف آئی اے یا نیب کو نہیں بھیجنا بلکہ ریفرنس بنانا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے وضاحت کی کہ منیر اے ملک سمیت ہم سب متفق ہیں کہ ججز بھی قابلِ احتساب ہیں لیکن احتساب کیا اس انداز میں کیا جائے گا؟ یہ آئیڈیا کس کا تھا؟
جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ آخر یہ کون ہے جس نے کریز سے باہر نکل کر شاٹ کھیلی ہے؟ بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ آرٹیکل 209 کے تحت حکومت صرف معلومات دیکھ کر اپنی رائے کے ساتھ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج دیتی ہے، فیصلہ تو وہاں ہونا ہوتا ہے۔ جسٹس مقبول باقر نے آبزرویشن دی کہ صدر نے رائے بھی قانون کے دائرے میں رہ کر ہی قائم کرنی ہوتی ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہم صرف یہ دیکھ رہے ہیں کہ آپ کی بدنیتی تھی یا نہیں؟
جسٹس عمر عطا بندیال نے ایک بار پھر ریمارکس دیے کہ یہ کس روشن خیال کا فیصلہ تھا کہ جج کے خلاف ٹیکس کا معاملہ نہیں کھولنا بلکہ ریفرنس دائر کرنا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے آبزرویشن دی کہ سپریم کورٹ کے جج کا عوام میں اعتماد ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے مزید سوال اٹھایا کہ جب ٹیکس امور فوجداری جرائم میں نہیں آتے تو آخر آپ نے اس کو کرمنل کیسے سمجھ لیا؟
بیرسٹر فروغ نسیم اب مکمل طور پر گھبرا چکے تھے۔ انہوں نے پہلو بدلتے ہوئے ججز سے استدعا کی کہ میں تو آپ کے ایسٹ ریکوری یونٹ پر سوال کا جواب دیا تھا، آپ اس طرف آ گئے ہیں جس کی ابھی تیاری نہیں کی میں نے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے طنز کیا کہ لیکن ایسٹ ریکوری یونٹ پر بھی جو پوچھا تھا، اس کا بھی آپ اب تک جواب نہیں دے سکے کہ کس اختیار کے تحت ایسٹ ریکوری یونٹ نے یہ کارروائی کی؟
جسٹس سجاد علی شاہ نے تقریباً جھنجھلا کر ریمارکس دیے کہ ایسٹ ریکوری یونٹ کا کام تو بیرون ملک سے جائیدادیں واپس لانا تھا اور جب جج کہتا ہے کہ میرا ان جائیدادوں سے کوئی تعلق نہیں تو ایسٹ ریکوری یونٹ جائیداد واپس لاتا نہ کہ جج کے پیچھے چلا جاتا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے بیرسٹر فروغ نسیم پر طنز کیا کہ آپ نے آج کے تو چھوڑیے، کل کے سوال کا جواب بھی نہیں دیا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ نے اب تک عام شہریوں کی شکایات پر کتنی کارروائیاں کی ہیں۔
بیرسٹر فروغ نسیم کی حالت دیکھ کر دس رکنی فل کورٹ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے سماعت سوموار دن ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کر دی اور انہیں تمام سوالوں کی تیاری کر کے آنے کی ہدایت کی
(منقول