پی سی بی کا ملازمین کی برطرفی کا فیصلہ واپس لینا خوش آئند ہے، اعجاز فاروقی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق رکن گورننگ بورڈ اور کراچی ریجن کے سابق سربراہ پروفیسر اعجاز فاروقی نے بورڈ کی جانب سے 55 ملازمین کی برخاستگی کا نوٹس واپس لئے جانے کا خیر مقدم کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کو ویڈ 19 کے اس مشکل وقت میں بورڈ نے فہم و فراست کا ثبوت دیتے ہوئے بروقت ایک مثبت قدم اٹھایا ہے، جسے قابل تحسین کہا جانا بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بورڈ کی اپنی پالیسیاں ہوتی ہیں، جس کے تناظر میں بعض اوقات مشکل اور بڑے فیصلے کرنا پڑتے ہیں، تاہم دانشمندی کا تقاضہ یہی ہوتا ہے کہ حالات اور واقعات کے مطابق فیصلے ترتیب دیئے جائیں، اکثر اوقات آپ کو اپنے کیے گئے فیصلوں پر نظر ثانی کرنا پڑتی ہے اور بورڈ کا ملازمین کی برخاستگی کے حوالے سے فیصلہ واپس لینا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جسے وہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

پروفیسر اعجاز فاروقی نے کہا کہ بورڈ سابق کرکٹرز کو پینشن کی مد میں ادائیگی کرتا ہے، کوویڈ 19میں چئیرمین احسان مانی نے ایک کروڑ 35 لاکھ روپے جمع کرائے، عیدالفطر سے پہلے سابق فرسٹ کلاس کرکٹرز، میچ آفیشلز کے لئے ایک پیکج کا اعلان کیا، جو بلاشبہ بورڈ کے عمدہ کام کہےجاسکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملازمین کے حوالے سے بورڈ کو ایک میکنزم بنانے کی ضرورت ہے، وہ خود ماضی میں بورڈ کی مختلف کمیٹیوں کا حصہ رہے، لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ کم تنخواہوں پر کام کرنے والے ہوں یا بڑی تنخواہ لینے والے ان کے لئے کارکردگی کا ایک پیمانہ ترتیب دینے کی ضرورت ہے، جس کی بنیاد پر ادارے کو کسی کی نوکری جاری رکھنے یا ختم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہونا چاہیے، تاکہ شفافیت کے تقاضے پورے ہوں اور یہ بحث ہی ختم ہوجائے