ماحولیاتی آلودگی انسانی زندگیوں ، معیشت سے کھیل رہی ہے

ماحولیاتی آلودگی انسانی زندگیوں ، معیشت سے کھیل رہی ہے ۔

ماحول کی تباہی کو مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے ۔

وفاقی و صوبائی بجٹ میں ماحولیاتی امور کے لئے فنڈنگ بڑھائی جائے: میاں زاہد حسین
( 05جون2020)


ایف پی سی سی آئی بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئرمین ،پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی عوام اور معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہے اور اب اس معاملہ کو مزید نظر انداز کرنا ناممکن ہو گیا ہے ورنہ اسکی بھاری قیمت ادا کرنا ہو گی ۔ وفاقی وصوبائی حکومتیں آمدہ بجٹ میں اس اہم شعبہ کے لئے فنڈنگ بڑھائےں تاکہ آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے ۔ میاں زاہد حسین نے عالمی یوم ماحولیات پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے ذمہ دار ترقی یافتہ ممالک ہیں جبکہ سزا ترقی پذیر ممالک بھگت رہے ہیں ۔ ہم نے بہت سے اقسام کے جانوروں ، پرندوں ،کیڑے مکوڑوں اور پودوں کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا ہے جس کے منفی اثرات دنیا بھگت رہی ہے ۔ اربوں افراد زراعت جبکہ کروڑوں جنگلات اور دریاءوں پر انحصار کرتے ہیں مگر کسی کو انکی پرواہ نہیں ۔ پیداوار پر غیر ضروری فوکس کا نتیجہ اب ماحولیاتی تبدیلی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے اور دنیا کو صنعت، زراعت اور انسانی صحت کی مد میں سالانہ کھربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے تاہم ماحولیات کے ماہرین کی وارننگز سالہا سال سے نظر انداز ہوتی رہی ہیں جس سے ماحولیاتی مسئلہ بڑھتا چلا گیاہے ۔ اہم ممالک کے مابین پیداوار اور جی ڈی پی بڑھانے کی دوڑ کی وجہ عالمی معاشی نظام ہے جو منفی اور کمزور بنیادوں پر استوار ہے ۔ دھواں دیتی گاڑیاں ، صنعتیں ، دھاتیں ، ناءٹریٹ، پلاسٹک اور انتہائی زہریلے فاسد مادے و کیمیائی اجزاء ،تیل کا اخراج، تیزاب، بے وقت بارش اور شہری و صنعتی فضلہ آلودگی میں مسلسل اضافے کا باعث بن رہے ہیں جبکہ مٹی کی آلودگی اسے ضروری نباتات سے محروم رکھ رہی ہے ۔ فضا ء میں آلودگی صنعتوں اور کارخانوں سے نکلنے والی مختلف گیسوں ، زہریلے مواد اور سلگتے ایندھن کی وجہ سے ہے ۔ فصلوں میں ناءٹروجن کھاد کا استعمال بھی آلودگی کا سبب بن رہا ہے ۔ کوئلے اور تیل کا استعمال گرین ہاءوس گیسز کے اخراج کا سبب بن رہا ہے،جو کہ ماحولیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کا ذمہ دار ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر کئی ممالک توانائی کے قابل تجدید ذراءع مثلاًسولر انرجی، ونڈ انرجی، بائیو گیس اور جیو تھرمل انرجی کی طرف منتقل ہونے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ ایسے میں کوئلہ اور تیل استعمال کرنے والے ڈھانچے کی لاگت میں کمی اور ان کے بہتر استعمال پر بھی غور کیا جانا چاہئے ۔ چنانچہ یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ ان قدرتی وسائل کو کسی منصوبہ بندی کے تحت استعمال میں لایا جائے تاکہ مستقبل کیلئے بھی انہیں محفوظ کیا جاسکے ۔ زمین کا 30فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق ہرسال 18 ملین ایکڑ رقبے پر پھیلے جنگلات کاٹ دیے جاتے ہیں ۔ جنگلات کا خاتمہ ماحول کے آلودہ ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے کیونکہ درختوں کا اہم کام کاربن گیس جذب کرنا ہے ۔ سائنس وٹیکنالوجی کی ترقی، مشینوں کا استعمال اور جنگلات کے کٹاءو کے سبب زمین کے گرد موجود حفاظتی تہہ (اوزون) میں شگاف پڑ گیا ہے ۔ اگر جنگلات کے بے دریغ کٹاءوکو نہ روکا گیا تو دنیا میں بسنے والے تمام لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑجائیں گی ۔ دنیا اس وقت شدید خطرات سے دوچار ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کی بقاء مشکل نظر آ رہی ہے ۔ اگر آلودگی کو آج اور اسی وقت صفر کردیا جائے تو بھی فضا، پانی اور مٹی میں پائی جانے والی آلودگی سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے سینکڑوں سال درکار ہوں گے ۔ کرونا وائرس کی وجہ سے ساری دنیا کے لوگ اور معیشت متاثر ہوئی ہے مگر اس سے ماحول میں جو بہتری آئی ہے وہ تمام اداروں کی سالہا سال کی کوششوں سے زیادہ ہے ۔
— —