کچھ لوگ کہتے ہیں سندھ میں گورنر راج لگاؤ،کیا تمہارے باپ کی حکومت ہے

کراچی(اسٹاف رپورٹر)
کورونا کی صورتحال پر غور کے لئے بلائے گئے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے ارکان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے حکومت سندھ کے لاک ڈاؤن کے بیانیہ کو جان بوجھ کر بگاڑا گیا، عید پر نئے کپڑوں کا نتیجہ اب کفن کی صورت میں سامنے آرہا ہے، عوام کرونا سے مررہے ہیں اور وزیر اعظم نتھیاگلی کی سیر پر ہیں۔ اپوزیشن ارکان نے کہا کہ ملک میں کرونا کی وباءنے ہر کسی کو متاثر کیا لیکن حیرت ہے کہ سندھ حکومت کی کرپشن پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا، کرونا کے دوران سندھ حکومت نے راشن نہیں صر ف بھاشن دیا جس سے کسی کا پیٹ نہیں بھر سکتا۔ کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بحث میں حصہ لیتے ہوئیایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ پوری دنیا کو پتہ ہے کورنا کا علاج نہیں جہاں جہاں کورنا ہے وہاں کی حکومتوں نے اپنی عقل و دانش کے مطابق اقدامات کئے تاہم وزیر صحت کی تقریر سے ایسا لگا کہ وہ الیکشن مہم میں تقریر کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاق کو الزام دینے سے آپ بری الذمہ نہیں ہو سکتیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر صحت سے کہا کہ آپ کا بوجھ دو سال کا ہے بارہ سال کا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ شروع میں سی ایم اور مرتضیٰ وہاب کو سنا لگا کہ بہت اچھے اقدامات ہونے جا رہے ہیں ہم سب نے آپ کو سپورٹ کیا۔ خواجہ اظہار نے کہا کہ اس شہر میں تین کروڑ لوگ رہتے ہیں یہاں لاک ڈاؤن کیسے ہو گا؟دوکمروں کے مکان میں رہنے والے لوگوں پر لاک ڈاوں کیسے ہو گا۔ کرونا کے زمانے میں پریس کانفرنس پر زور زیادہ رہا ہے ایک پریس کانفرنس وفاق کرتی اور دوسری صوبائی حکومت کرتی ہے،لیکن اس کا نقصان شہریوں کو ہوا۔انہوں نے کہا کہ تاجر برادری نے ماسک باہر بھیجنا شروع کیے لیکن حکومت نے نہیں روکا۔آٹے کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی رہی لیکن کسی نہیں روکا۔خواجہ اظہار نے کہا کہ ڈپٹی کمشنرز نے کے زریعے پیسے بانٹے گئے جو پیسے بانٹے گئے وہ عوام سے ہی لئے گئے آپ نے کیا کیا؟یہاں کہا گیا کہ لاڑکانہ کے اسپتال میں باہر سے لوگ علاج کے لئے آرہے ہیں میں اپنے لوگوں کو وہاں علاج کے لیے کبھی نہ بھیجوں۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران پولیس نے گاڑیوں کی ہوا نکالی،لاک ڈاؤن میں کسی بھی طبقے کا شخص مطمئن نہیں ہوا۔خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ آن لائن تعلیم کا فیصلہ کس نے کیا،کیا پورے صوبے کے بچوں ْ کو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی سہولیات دی گئیں۔شہر میں کچرا ہر جگہ پھیلا ہوا ہے گٹر بند ہیں۔ جو اسپتال یہ کہ رہے ہیں کہ پیسے لے لیں اور مریض کو کورنا ڈ کلئیر کریں۔سی ایم سے گذارش ہے کہ وہ اس بات کی تحقیق کریں کیونکہ اس سے بدنامی ہو رہی ہے۔پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے اپنی تقریر میں کہا کہ کرونا کی وبا کے دوران سندھ کے وزیر حلقے میں نہیں جاتے تھے اور وہ ڈر کر گھروں میں بیٹھے رہے جبکہ اپوزیشن کے ارکان نے عوام کو تنہا نہیں چھوڑا اور وہ اپنے حلقوں میں لوگوں کے ساتھ رہے۔انہوں نے سندھ حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ کہتے ہیں کہ کرونا اسمبلی سے آتاہے،روزانہ رونا دھونا بلیٹن چلتاہے،آبادی کے بڑے حصے کو دو وقت کی روٹی نہیں ملتی۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ہمیں کہا گیاکہ ہم بیس لاکھ افراد کو گھر پر راشن دینگے۔حکومت نے کہا کہ ہم نے ایمبولینس سروس فعال کردی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے دعوے ایسے تھے کہ ووہان (چین) والوں کو جیسے کوئی کہے کہ ہمارے سندھ کے لیڈر تم لے لو وہ بڑے قابل ہیں۔انہوں نے کہا کہ بتایا گیاکہ راشن ایسے دیا کہ کسی کو پتہ نہیں چلا، جس پرمیں نے پوچھا کہ جس کو راشن دیا کیااس کو بھی پتہ چلا؟حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ حکومت نے کسی کوراشن تو نہ دیاالبتہ بھاشن ضرور دیا لیکن بھاشن سے کسی کا پیٹ نہیں بھرتا۔ انہوں نے نشاندہی کی اس خطرناک وبا کے دوران پولیس موبائل اور لاک اپ میں قیدیوں اور پولیس والوں کو بغیر ایس او پی کے رکھاگیا۔کیا کرونا وہاں نہیں لگتا؟انہوں نے کہا کہ ستائیس فروری سے صرف اجلاس اور نوٹیفکیشن پر کام ہوا۔زمینی حقائق یہ ہیں کہ کام کچھ نہیں ہوا۔سندھ کے اسپتالوں کی حالت خراب ہے۔ حلیم عال شیخ نے کہا کہ جو لوگ یہ پوچھتے ہیں کی وفاقی حکومت نے کیا دیا ان کی اطلاع کے لئے عرج ہے کہ سندھ کے لوگوں کو میرے کپتان نے35ارب روپے دئیے ہیں۔
ایم کیو ایم پپاکستان کے راشد خلجی نے کرونا صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیوایم نے روز اول سے نیک نیتی سے حکومتی اقدامات کی سپورٹ کی۔انہوں نے شکایت کی کہ حیدرآباد میں راشن بیگز میں غیر معیاری سامان دیاگیا اور حکومت نے حقائق کے برعکس اعدادوشمار عوام کے سامنے پیش کئے۔انہوں نے بتایا کہ ایم کیوایم نے جس حد تک ممکن ہوسکا حیدرآباد میں لوگوں کو راشن پہنچایا لیکن افسوس کہ سرکاری سطح پر راشن بیگ کی تقسیم نہ ہوسکی۔انہوں نے کہا کہ مساجد میں نمازیوں پر مظالم ہوئے لیکن کسی نے اس پر کارروائی نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ کرونا سے حیدرآباد میں لاکھوں لوگ متاثر ہیں۔پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی شرجیل انعام میمن نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کرونا پر کم از کم سیاست نہیں ہونی چاہیے تھی مگر ایسا نہ ہوسکا،پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کیا جائے۔شرجیل میمن نے کورونا کے خلاف جہاد کرنے والے طبی عملے کو سلام پیش کیا۔ان کی درخواست پر پورے ایوان نے ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو کھڑے ہوکر سلام پیش کیا۔ رکن اسمبلی نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے غلط نتائج نکلے،وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور انکی ٹیم نے زبردست کام کیا۔مخالفین نے بھی وزیراعلیٰ کے اقدامات کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ تمام جماعتوں نے مشکل گھڑی میں حسب توفیق راشن تقسیم کیاپیپلزپارٹی کے ارکان اسمبلی اور وزرائنے اپنی جیب سے بھی راشن تقسیم کئے۔انہوں نے کہا کہ وفاق نے کچھ نہیں کیاصرف ایک کام کیا اور وہ بے نظیر بھٹو اِنکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کیا۔شرجیل نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت

پیسے تقسیم کرکے تصاویر بنوائی گئیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جو سندھ حکومت ٹیکس جمع کرکے دیتی ہے آپ نے وہ دیا کوئی احسان نہیں کیا۔انہوں نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف کہتے ہیں کہ لاک ڈاؤن میں لوگوں کو بے روزگار نہیں کرناچاہتے مگردوسری طرف اسٹیل ملز کے سینکڑوں ملازمین کو بے روزگار کررہے ہیں۔شرجیل میمن نے کہا کہ کورونا وبائتیزی سے پھیل رہی ہے۔خدانخواستہ کہیں ایسے حالات نہ ہوں کہ سندھ اسمبلی کی 100 سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہوں۔اللہ سب کو اپنی پناہ میں رکھے۔جی ڈی اے کی خاتون رکن اسمبلی نصرت سحر عباسی نے اپنی تقریر میں کہا کہ کورونا وائرس کے دوران ہم وزیر صحت سندھ کو ڈھونڈتے رہے،پانچ ارب روپے کس کے پیٹ اور اکاونٹس میں گئے؟صابن کی تقسیم پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے۔وزیر اعلیٰ عملی اقدامات سے زیادہ روزانہ حساب کتاب بتاتے رہے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز نے سندھ میں اسپتالوں کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیاہے۔کیا وجہ ہے کہ ڈاکٹرز احتجاج کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر صحت فرماتی ہیں کہ سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں بہترین نظام ہے۔کیا وجہ ہے کہ آصف زرداری سہراب سرکی مرتضی بلوچ نجی اسپتال میں زیر علاج رہے۔سرکاری اسپتالوں میں غریب کو م رنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ غریب مرجائے تو لاش نہیں دی جاتی اورامیر مرجائے تو جنازے میں ہزاروں لوگوں کو اجازت ہوتی ہے۔اسی طرح غریب مرجائے تو اسکے رشتے داروں کو شکل دیکھنے نہیں دیتے۔نصرت سھر عباسی نے کہا کہ سرکاری اسپتال اس قابل نہیں تو نجی اسپتالوں کو فنڈز کیوں دیتے۔انہوں نے کہا کہ اکثرسرکاری اسپتالوں میں وینٹی لیٹر آئی سی یو نہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا سندھ حکومت نے صوبے میں کوئی ایک ایسا اسپتال بھی یسی نہیں بنایا جہاں آصف زرداری کا علاج ہوسکے۔پیپلز پارٹی کی خاتون رکن ہیر اسماعیل سوہو نے کرونا کے سلسلے میں پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی شاندار حکمت عملی پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں سندھ میں گورنر راج لگاؤ،کیا تمہارے باپ کی حکومت ہے۔ہیرسوہو نے کہا کہ پنجاب کے وزیراعلی کو نیند سے اٹھا کر بتانا پڑتا ہے کہ آپ وزیراعلی ہیں۔خاتون رکن اسمبلی نے کہا کہ گورنر عمران اسماعیل نے کہا سندھ کے لوگ جاہل ہیں۔ ایوان سے خطاب کرتے ہوئے جی ڈی اے کے رکن اسمبلی شہر یار مہرنے حکومت سندھ کو مشورہ دیا کہ وہ جھوٹ بولنا چھوڑ دے اور عوام کو سچ بئایئاگر سندھ حکومت نے ایسا کرلیا تو صوبہ بہتر ہونا شروع ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ ایک یونین کونسل میں 125راشن بیگ بانٹ کر عوام سے مذاق کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کرونا کی وبا نے سب کو بہت نقصان پہنچایا لیکن سندھ حکومت کی کرپشن پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔ انہوں نے صحت کے عملے کے لئے خصوصی الاؤنس کا بھی مطالبہ کیا۔پی ٹی آئی کی رابعہ اظفر نے کہا کہ اگر اسکولوں کو جلد نہ کھولا گیا تو سماجی مسائل میں اضافہ ہوگا حکومت سندھ تعلیم پر خصوصی توجہ دے اور آئندہ بجٹ میں اس شعبے کو نظر انداز نہ کیا جائے۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ نئے صوبائی بجٹ میں نجی اسکولوں کو سہارا دیا جائے۔پی ٹی آئی کی خاتون رکن ڈاکٹر سیما ضیا نے کہا کہ سندھ حکومت نے کرونا کے دوران بھی عوام کی کوئی خدمت نہیں کی، وزیر صحت نے کسی اسپتال کا دورہ نہیں کیا بلکہ تمام اسپتال بند کرادئے۔امراض قلب اور دیگر امراض میں مبتلا مریض در بدر کی ٹھوکریں کھاتے رہے۔ پیپلز پارٹی کی خاتون رکن شمیم ممتاز نے کہا کہ عید پر کپڑون کا نتیجہ اب کفن کی صورت میں نظر آرہا ہے، غریب عوام مشکل میں ہیں اور وزیر اعظم نتھیا گلی کی سیر میں مصروف ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج فلمسٹار ننھا اور رنگیلا اسمبلی کا مسخرہ پن دیکھتے تو خودکشی کرلیتے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بھوک سے کسی کو مرتے نہیں دیکھا لیکن کرونا کی وبا سے لوگوں کی جانیں ضرور جارہی ہیں۔احساس پروگرام کے نام پر پیسے سے زیادہ وائرس بانٹا گیا۔ صوبائی وزیر برائے ترقی نسواں شہلا رضا نے کہا کہ اس وباء کو یہ خطرناک نہیں سمجھتے،کہتے ہیں کہ کورونا وائرس C کیٹیگری کا ہے اصل میں یہ خود C ہیں۔این ڈی ایم اے نے 26 وینٹی لیٹر ایک ہفتے میں دینے کا کہا ہے،حیدرآباد میں بھی پلازمہ تھراپی کررہے ہیں،ہم غافل نہیں کام کررہے ہیں لیکن ایک نیم حکیم نے کہا یہ صرف فلو ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے لاک ڈاؤن کے بیانیے بگاڑا گیا۔بھوک سے ابھی تک کون مرا؟ وباء سے لوگ مررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو پیٹرول نہیں مل رہا ایک ہفتے میں مزید مہنگائی بڑھ گئی ہے۔وفاقی حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ اتنے ماسک دیں جو لوگوں کو میڈیکل اسٹور پر مفت ملیں۔پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی سید زوالفقار علی شاہ نے کہا کہ سعید غنی نے بچوں کی زندگیوں کے تحفظ کے لئے اچھا قدم اٹھایا۔وفاقی حکومت کو آئینہ دکھانا ضروری ہے۔تافتان بارڈر پر لوگوں کو دشمنوں کی طرح رکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ تافتان بارڈر سے لوگ بھاگے ہیں سندھ حکومت نے انہیں سکھر قرنطینہ سینٹر پہنچایااپوزیشن کا کوئی ایک رکن دکھا دیں جو سکھر قرنطینہ سیبٹر میں مریضوں کو دیکھنے گیا ہو۔ تحریک لبیل کے یونس سومرو نے کہا کہ لیاری میں کسی کو راشن نہیں ملا حالانکہ لاک ڈاؤن سے ہر کوئی متاثر ہوا تھا۔
صوبائی وزیر شبیر بجارانی نے کہا کہ کوروناسے ہم لڑنہیں سکتے۔متحد ہوکر کورونا کیمرض سینجات ہونے کی کوشش کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شاید لوگوں کو اندازہ نہیں کہ کورونا کتنا پھیل چکاہے۔لوگ پبلک ٹرانسپورٹ میں ایس اوپیز پر عمل کییبغیرسفر کررہے ہیں
کراچی ایئرپورٹ پر سندھ حکومت کی ٹیم کورونا ٹیسٹ کررہی ہے۔ایک دوسرے پر تنقید کرکے ہم لوگوں کی جانوں کو ضائع کرینگے۔ پی ٹی آئی کے ڈاکر عمران شاہ نے تجویز پیش کی کہ ہر ضلع میں کرونا کے اسپتال قائم کئے جائیں۔انہوں نے اس بات پر دکھ کا اظہار کیا کہ سول اسپتال مٰں ڈاکٹرز کے پاس حفاظتی کٹس تک موجود نہیں۔