سندھ میں شہری اور دیہی کوٹے پرملازمتوں کے معاملے میں قانونی اور غیر قانونی اقدامات پر سوشل میڈیا پر بحث تیز

سندھ میں شہری اور دیہی کوٹے پرملازمتوں کے معاملے میں قانونی اور غیر قانونی اقدامات پر سوشل میڈیا پر بحث تیز ہوگئی ہے ۔اس حوالے سے مختلف صارفین نے اپنے اپنے دلائل دیے ہیں اور مختلف حوالوں سے اپنی بات کو سچ ثابت کرنے

اور اس کے ساتھ دستاویزات بھی منسلک کر دیے ہیں جس پر نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے یہ بحث شروع کرنے والوں کا کہنا ہے کہ کوٹے کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور شہری ملازمتوں پر دیہی کوٹے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے

غیر قانونی طور پر کنٹرول حاصل کر رکھا ہے جس کی وجہ سے انصاف نہیں ہو رہا اور اس معاملے پر کھلی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو ں۔ اس نکتے پر بحث ہورہی ہے اور اس کی حمایت اور مخالفت میں دلائل اور تبصرہ آرہے ہیں ۔
اس معاملے پر اگر آپ بھی اپنی رائے دینا چاہیں تو آپ کی رائے اور نقطہ نظر کو جگہ دی جائے گی

———-
انڈیا میں پبلک سروس کمیشن کے اراکین ایک امیدوار سے انٹرویو کر رہے ہیں۔کس طرح سے میرٹ پر امیدوار سلیکٹ کر رہے ہیں۔ اسی طرح کی کاروائی پاکستان میں سی ایس ایس کے امیدوار سے بھی کم و بیش 85 فیصد اسی طرح میرٹ پر سلیکشن ہوتا ہے جس میں 15 سے 20 فیصد ڈنڈی ماری جاتی ہے۔جبکہ سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے جن امیدواروں سے انٹرویو ہوتا ہے اسے سن کر ہی پورے پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک جائیں گے۔وہاں امیدوار کی کامیابی ان کی قابلیت پر نہیں بلکہ 100 فیصد کمیشن کے اراکین پر ڈیپینڈ کرتی ہے۔ پہلے تو یہ کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کے 11 ممبران ہوتے تھے جس میں شہری اور دیہی کوٹے ہوتے تھے لیکن اب ان کے ممبروں کی تعداد 7 کر دی گئی ہے۔ اس میں 6 ممبرز دیہی علاقے کے اور ایک ممبر عبد العلیم جعفری واحد ممبر ہیں جنہیں شہری کوٹے پر بھیک کی طرح رکھا گیا ہے وہ صرف حاضری لگاتے ہیں باقی ان کی کوئی حیثیت و اوقات نہیں ہے۔رہی بات کمیشن میں سلیکشن کی تو وہ اس طرح ہوتا ہے کہ تم کہاں سے آئے ہو۔اگر کراچی کے ہیں تو صاف مسترد۔اگر سندھ سے ہیں تو ان میں سے ہی سلیکٹ ہوں گے۔باقی رہی شہری سیٹ پر تو وہ دو چار کو دے کر احسان کر دیتے ہیں۔ابھی حال ہی میں 151 امیدوار کامیاب ہوئے جس میں 4 شاید شہری جنہیں شاید چمک کے ذریعے منتخب کیا گیا ہے۔حال ہی میں اپوزیشن کے شیریار مہر نے سندھ اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اینٹی کرپشن کے محکمے کو شدید تنقید بنایا اس کے بعد سندھ پبلک سروس کمیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور وہاں سے سیلیکٹ ہونے والوں کو سفارشی اور چمک کا ذریعہ قرار دیا۔اب وقت آ گیا ہے کہ ایسی بدنام زمانہ سندھ پبلک سروس کمیشن کے اراکین اور انہیں ممبرز بنانے والوں کا بھی کڑا احتساب ہونا چاہیئے۔۔۔۔۔