ہمیں اپنی پرانی طرز زندگی کو اپنانا ہوگا جو سینکڑوں سالوں سے جاری تھی

ایک نہایت ضروری اعلان

اگلے اعلان اور قانون کا انتظار نہ کریں محفوظ زندگی گزارنے کے لئے تیار رہیں

حکومت صرف ایک مخصوص مدت کے لئے لاک ڈاؤن رکھ سکتی ہے ، آہستہ آہستہ لاک ڈاؤن ختم ھو رھا ھے ، حکومت بھی مسلسل سختی نہیں دکھائے گی

کیونکہ حکومت نے آپ کو کورونا بیماری ، احتیاط، ہاتھوں کی صفائی، حفظان صحت اور اپنی دیکھ بھال کرنے کے بارے میں مکمل معلومات سے آگاہ کر دیا ہے۔
بیماری کے بعد ، آپ ملک اور دنیا کے حالات کو بھی دیکھ رہے ہیں۔

اب سمجھداروں کو اپنے روزمرہ کے معمولات کو سمجھنا چاہئے اور اپنی بساط کے مطابق اسے تبدیل کرنا چاہئے
حکومت 24 گھنٹے 365 دن آپ کی حفاظت نہیں کرسکے گی
    اپنی اور کنبہ کی صحت کے لئیے اسباب کے تحت احتیاط کی کوشش آپ نے خود کرنی ھے اور نتیجہ اللّٰہ رب العزت کے حوالے ھے
لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد ، سوچیں اور کام پر جائیں اور قواعد کے مطابق اپنا کام کریں۔

“کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ وبا اچانک چلی جائے گی؟ اور کیا اچانک ہم پہلے کی طرح زندگی گزارنے لگ جائیں گے”؟

نہیں بالکل بھی نہیں

افراط و تفریط کا شکار نہ ھوں اس وقت ھر قسم کی خبریں گردش کر رھی ھیں
اور کوئی سرے سے اس بیماری ھی کا منکر ھے اور لوگوں کو گمراہ کر رھا ھے جس سے لوگ بالکل بد احتیاطی میں مبتلا ھیں اور کوئی اس بیماری کو دنیا کی سب سے بڑی بیماری قرار دے کر لوگوں کو حد سے زیادہ خوف میں مبتلا کر کے کئی خاندانوں کا سکون تباہ کر رھا ھے

موٹا سا اصول ھے اپنے اعتماد کے معالج سے رابطہ کریں اور اسکی بتائی ھوئی احتیاط اور پرہیز پر عمل کریں نتیجہ انشاء اللّٰہ اچھا ھی نکلے گا

بازاروں اور گلیوں میں جانوروں کی طرح آوارہ گردی کسی بھی مہذب قوم اور زمانے میں اچھا نہیں سمجھا جاتا رھا یہ حرکتیں ہماری اسی صدی کی پیدا وار ھیں اس پر توجہ دیں اور بلا اشد ضرورت بازاروں سے پرہیز کریں

یہ وائرس اب ہمارے ملک اور دنیا میں جڑ پکڑ چکا ہے ، ہمیں اس کے ساتھ رہنا سیکھنا ہوگا۔

حکومت کب تک لاک ڈاؤن برقرار رکھے گی؟
کب تک باہر جانے پر پابندی ہوگی؟

ضروریات کے لئیے لاک ڈاؤن کے بعد ، آپ کو باہر جانا پڑے گا ، اس لئیے آپ کو اپنی طرز زندگی کو تبدیل کرنا ہوگا ، اپنے دفاعی نظام کو مستحکم کرنا ہوگا اور خود کو وائرس کے لئیے مضبوط اور دلیر کرنا ہوگا

لیکن یہ دلیری وائرس کے خوف سے نہیں بلکہ اللّٰہ پر مضبوط یقین اور ایمان سے آئے گی

ہمیں اپنی پرانی طرز زندگی کو اپنانا ہوگا جو سینکڑوں سالوں سے جاری تھی

سبزی خور بنیں اور گوشت کا استعمال کم کریں، برائیلر سے جان چھڑوایں اور دیسی پرورش شدہ پرندے اور جانور کا گوشت استعمال کریں، خالص مصالحہ کھائیں
آپ کو آملہ ، دھنیا ، پودینہ، لونگ ، دارچینی ، ادرک ، ہلدی وغیرہ کا استعمال کرکے اینٹی بائیوٹک کے استعمال کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔
آپ کو اپنے کھانے میں متناسب غذائیت کی مقدار میں اضافہ کرنے ، فاسٹ فوڈ ، پیزا ، برگر ، کولڈ ڈرنک کو بھول جانے کی ضرورت ہے۔

آپ کو اپنے برتنوں کو تبدیل کرنا چاہئے ، ایلومینیم ، اسٹیل ، پلاسٹک کی بجائے ، آپ کو پیتل ، تانبے ، لکڑی اور مٹی کے برتن استعمال کرنا چاہیے جو بیشتر جراثیموں کو قدرتی طور پر ہلاک کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ھیں۔
اپنی غذا میں بکری، گائے کے دودھ ، دہی اور گھی کی مقدار میں اضافہ کریں۔
چسکوری ،ذائقہ دار ، مصالحہ دار تلی ہوئے کھانوں ، ہوٹل کے پکوانوں کو فراموش کرنا پڑے گا
زندہ رہنے کے لئیے کھائیں نہ کہ کھانے کے لئیے زندہ رھیں!
کم کھائیں تا کہ دماغ کام کرتا رھے

      ورزش ، یوگا باقاعدگی سے کریں

کم از کم اگلے 1 سے 2 سال تک ایسا کرنے کی ضرورت ہے
تب ہی ہم صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں ورنہ جو تبدیل نہیں ہوگا وہ ختم ہوجائے گا

ہوشیار اور عملی بنیں اور اس سچائی کو قبول کریں اور اس پر عمل درآمد شروع کریں۔
آپ کی زندگی اللّٰہ کی قیمتی نعمت ہے لہذا آپ کو خود فیصلہ لینا ہوگا

اللہ تعالیٰ کی عبادت میں زیادہ سے زیادہ مصروف رہیں۔۔۔دعائیں کریں۔۔ اللّٰہ سے دعائیں مصیبت اور پریشانی حتیٰ کہ تقدیر تک بدل دیتی ھیں

رمضان کی طرح عبادتوں میں مصروف رہنے کا عزم کریں۔۔۔ اللہ تعالیٰ سبکو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔۔۔ آمین


افضال احمد ( راولپنڈی )