کراچی میں مٹی کا طوفان، تین جاں بحق، 15 زخمی

کراچی میں مٹی کا طوفان، تین جاں بحق، 15 زخمی

شہر قائد کے مختلف علاقوں میں آنے والے مٹی کے طوفان کے بعد مختلف حادثات پیش آئے جس کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق جبکہ 15 سے زاید لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

کراچی کے مختلف علاقوں میں شام ڈھلتے ہی تیز ہواؤں کے ساتھ مٹی کا طوفان آیا،چیف میٹرولوجسٹ سرفرازنے تصدیق کی کہ کراچی کےمختلف علاقوں میں آنے والا طوفان ایک گھنٹے تک جاری رہا ہے۔

سرجانی ٹاؤن کے سیکٹر گیارہ میں واقع بھینس کالونی میں ایک مکان پر بجلی گرنے سے مکان میں آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 12 شدید زخمی ہوئے،وقوعہ کے بعد علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت گھر میں لگنے والی آگ کو بجھانے کی کوشش کی جبکہ زخمیوں کو مکان سے نکال کر اسپتال منتقل کروایا۔

بعد ازاں کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر اسد اللہ خان نے بجلی گرنے سے لگنے والی آگ کا نوٹس لیتے ہوئے ٹیموں کو جائے وقوعہ پر روانہ کیا اور ہائیڈرنٹس کو دیگر ٹینکر سے فوری طور پر خالی کرانے کی ہدایت کی ہے۔

کراچی میں طوفان کے بعد کھمبے اور درخت بھی اکھڑ گئے، جس کے نتیجے میں ہونے والے مختلف حادثات میں اب تک خاتون سمیت تین افراد جاں بحق جبکہ 15 سے زائد زخمی ہوئے۔

کراچی کے علاقے سعدی ٹاؤن میں مکان کی دیوارگرنےسےخاتون جاں بحق ہوئیں جبکہ سرجانی کے علاقے تیسرٹاؤن چھت گرنےسےایک شخص جاں بحق اور گلشن معمارمیں گھرکی چھت گرنےسےایک شخص جاں بحق جبکہ دو زخمی ہوئے، جمالی پل پر درخت گرنےسے دو افراد زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔

دوسری جانب آندھی کے بعد شہر کا نصف حصہ بجلی منقطع ہونے کی وجہ سے تاریکی میں ڈوب گیا، ملیرہالٹ،معین آباد،طارق بن زیادسوسائٹی،ماڈل کالونی، گلستان جوہر، گلشن اقبال، محمودآباد، قیوم آباد، لیاقت آباد سمیت دیگر علاقوں میں بجلی کے تار تیز ہوا کا زور برداشت نہ کرسکے اور ٹوٹ گئے جس کی وجہ سے بجلی منقطع ہوگئی۔

علاوہ ازیں کراچی کے علاقے جنجال گوٹھ میں آندھی اور تیز ہواؤں کی وجہ سے مکان کی چھت اڑ گئی جس کے نتیجے میں بچے سمیت 8 افراد زخمی ہوئے جن میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

طوفان کے بعد حد نگاہ 6 کلومیٹر سے کم ہوکر صرف 500 میٹر رہ گئی، غیر متوقع آندھی کی وجہ سے ایئرپورٹ پر ہنگامی اقدامات کیے گئے اور ایئرپورٹ کے تمام گراؤنڈ عملے کو الرٹ کردیا گیا۔

ذرائع کے مطابق تیز ہوا کی وجہ سے چھوٹے طیاروں کی حفاظتی مقامات پر فوری منتقلی کا کام شروع کیا گیا جبکہ سول ایوی ایشن نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے رات گیارہ بجے کراچی ایئرپورٹ آنے والی ایئرلائن کی پرواز کا رخ موڑنے کا فیصلہ بھی کیا۔