کویت نے نجی اداروں کو ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد تک تنخواہوں میں کمی کی اجازت

کویت نے نجی اداروں کو ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد تک تنخواہوں میں کمی کی اجازت
– قانون محنت میں ترمیم کا فیصلہ

کویت: کویتی جریدے الرای کے مطابق کویتی پارلیمنٹ نے بتایا ہے کہ نجی اداروں سے متعلق قانون محنت میں ترمیم کرکے ان کمپنیوں کو جو کورونا بحران سے متاثر ہوئی ہیں اس بات کی اجازت دی جائے گی کہ وہ ملازمین کے ساتھ یکجہتی پیدا کرکے بحران کے زمانے میں تنخواہیں 50 فیصد تک کم کرسکتی ہیں۔
حکومت کویت نے قانون محنت میں ترمیم کا مسودہ پارلیمنٹ کی مالیاتی کمیٹی کے حوالے کردیا۔ منظوری کے بعد ترمیم ریاست کے مقرر کردہ حفاظتی اقدامات کے وقفے پر موثر ہوگی جبکہ ترمیم پر عمل درآمد نئے کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے مقرر حفاظتی تدابیر کا دورانیہ ختم ہوتے ہی غیر موثر ہوجائے گی۔
کویتی جریدے نے قانون محنت میں ترمیم کے حوالے سے واضح کیا کہ قانون محنت کی پہلی دفعہ میں وزیر محنت کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ کورونا کی وبا سے بچاؤ کے لیے مقرر حفاظتی اقدامات و تدابیر کے باعث آجروں کو اجیروں کے محنتانے میں کمی کی اجازت دے دیں۔ دراصل حفاظتی تدابیر کے زمانے میں بعض کمپنیوں کا کام مکمل طور پر اور بعض کا جزوی طور پر معطل رہا۔

ترمیم کے بموجب نجی ادارے اپنے ملازمین کو معمولی محنتانے پر سپیشل چھٹی دینے کے مجاز ہوجائیں گے۔ کویتی کابینہ تنخواہوں میں کمی کے دورانیے کا تعین کرے گی۔آجروں کو اجیروں کے ساتھ یکجہتی پیدا کرکے زیادہ سے زیادہ پچاس فیصد تک تنخواہ کم کرنے کی اجازت ہوگی۔ یہ اجازت کمپنی کا کام بند ہونے کے وقفے تک محدود ہوگی۔ ترمیم میں تاکید کی گئی ہے کہ تنخواہوں میں کمی محنتانے کی معمولی حد سے کم نہیں کی جاسکتی البتہ ملازمین کے بقایاجات کا حساب کتاب تنخواہ میں کمی سے پہلےوالی تنخواہ کے حساب سے ہوگا۔
قانون محنت کی پہلی دفعہ میں یہ بات بھی واضح کردی گئی ہے کہ استثنائی احکام حفاظتی اقدامات کے وقفے تک محدود ہوں گے۔

کویتی حکومت نے توجہ دلائی ہے کہ قانون محنت میں ترمیم موجودہ حالات میں آجروں اور اجیروں کے تعلقات میں توازن پیدا کرنے کی عرض سے کی جارہی ہے۔