قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ ایک بار جب وہ پنجاب میں ضلع جھنگ کے ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر فائز ہوئے تو——

👇
Qudrat Ullah Shahab (The Bribe of Half Rupee)

قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ ایک بار جب وہ پنجاب میں ضلع جھنگ کے ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر فائز ہوئے تو ان سے ایک بوڑھی لاجار بیوہ خاتون ملنے آئی۔۔ بہت مفلوک الحال،تھی دوپٹہ جگہ جگہ سے پھٹا ہوا رو رو کر شکایت کی کہ اس کے پاس زمیں کا ایک ٹکڑا ہے جسے اس کے نام منتقل کیا جانا ہے لیکن پٹواری ( پاکستان میں ایک عہدیدار جو زرعی اراضی کا دورہ کرتا ہے اور ان کی ملکیت کا ریکارڈ برقرار اور قائم رکھتا ہے ) رشوت میں ایک بڑی رقم مانگ رہا ہے جب کہ اس کے پاس ایک پیسہ بھی نہیں ہے۔۔۔ وہ مختلف دفاتر میں ماری ماری پھرتی رہی ہے مگر اس کی کسی نے نہیں سنی مجبور ہوکر ان کے پاس آئی ہے۔۔۔

اس کے تکلیف دہ کہانی کو سن کر ، قدرت اللہ شہاب نے اسے اپنی گاڑی میں بٹھایا اور لےکر اس کے گاؤں پٹواری سے ملنے گئے جس کا دفتر تقریبا 60 میل دور واقع تھا۔ اپنے ہی گاؤں میں ڈپٹی کمشنر کو دیکھ کر لوگوں کا ہجوم ان کے آس پاس جمع ہوگیا۔ پٹواری نے سب کے سامنے قسم کھائی کہ بوڑھی عورت بدقماش اور جھوٹی ہے اور اسے غلط باتوں کے بارے میں شکایت کرنے کی عادت ہے۔ اپنی حلف برداری کو ثابت کرنے کے لئے ، پٹواری تیزی سے اندر گیا اور ایک کتاب لی جو کپڑے میں لپیٹی گئی تھی۔ پٹواری نے پھر وہ کتاب اپنے سر پر رکھ دی اور کہا ، “سر دیکھو میں اس مقدس قرآن کی قسم کھاتا ہوں”

اس پر ، ایک نوجوان دیہاتی نے ڈپٹی کمشنر سے کہا کہ سر اس بیگ کو کھلوا کر تو دیکھیں اس میں کیا ہے قدرت اللہ شہاب نے اپنے لوگوں سے بیگ کھولنے کو کہا۔ قرآن کریم کی بجائے اس کے اپنے ہی دفتر کے کچھ رجسٹر تھے۔ ذلیل و خوار ہونے کے بعد ، پٹواری نے ڈپٹی کمشنر کے حکم پر ایک رجسٹر لے کر آئے اور اطاعت کے ساتھ اس بوڑھی خاتون کے نام پر زمین منتقل کردی۔ قدرت اللہ نے بوڑھی عورت سے کہا کہ اس کا کام ہوچکا ہے اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ، اس نے اس کی تصدیق اس کے اپنے ہی گاؤں کے کئی ایک اشرافیہ سے کروائی پھر اس کو تسلی ہوئی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے۔ لیکن ان آنسوؤں میں کتنا تشکر تھا اس کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا تھا بوڑھی نے مظبوطی سے ہاتھ پکڑکر شہاب صاحب کو چار پائی پر بٹھا دیا پھر اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے میلے کچیلے اور پھٹے دوپٹے کے پلو کی گرہ کھول کر اس میں سے آٹھ آنے ( آدھا روپے کا سکہ) نکالا اور چپکے سے ڈپٹئ کمشنر کی جیب میں ڈال دیا تاکہ کوئی اور نہ دیکھ سکے ​​

۔اس کی بے گناہی اور بے بسی کے اس فعل نے ڈپٹی کمشنر کو رلا دیا۔ کچھ دوسرے دیہاتیوں کی آنکھوں میں بھی آنسو بھر آئے تھے۔ قدرت اللہ شہاب کہتے ہیں کہ وہ آٹھ آنے ان کی واحد رشوت تھیں جو انہوں نے اپنے پورے کیریئر میں قبول کی ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے گھر جاکر بیوی سے کہا کہ میری تدفین کے وقت میرے کفن میں یاد کرکے یہ آتھ آنے رکھ دینا ۔

———–
محمد منشاء ( دبئی )