ہیرو پائلٹ بمقابلہ آئٹم گرل

ملک بھر میں یہ بحث جاری ہے کہ بھارت کا طیارہ گرانے والے پاکستانی ہیرو پائلٹ کو23مارچ پر ایوارڈ ملنا چاہیے تھا یا نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بحث بھی ہو رہی ہے کہ کیا پائلٹ سے زیادہ حق ایک آئٹم گرل کا تھا جسے اداکاری پر ایوارڈ دے دیا گیا اور پائلٹ کو نظرانداز کردیا گیا۔ اگر دونوں کا مقابلہ نہیں بنتا تب بھی پائلٹ کو ایوارڈ تو دیا جانا چاہیے تھا۔ سوشل میڈیا میں بھی اس معاملے پر زور دار بحث جاری ہے۔ دنیا بھر سے لوگ اس معاملے پر کمنٹس کر رہے ہیں کچھ لوگوں نے اداکارہ کا دفاع بھی کیا ہے لیکن اس بات پر سب حیران ہیں کہ آخر میں پاکستانی ہیرو پائلٹ کو ایوارڈ کے قابل کیوں نہیں سمجھا گیا ۔سوشل میڈیا پر ایوارڈ یافتگان کے حوالے سے بحث جاری ہے سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ مہوش حیات کو بنایا گیا ہے اور سوال بھی جا رہا ہے کہ ان کی پاکستان کے لئے ایسی کون سی خدمات ہے ۔ان کے نام کی سفارش حکمران جماعت کے اہم شخصیت نے کی تھی۔ سوشل میڈیا پر سکینہ سمو جیسی اداکارہ کا نام بھی لیا جا رہا ہے ان کی بہترین اداکاری آج بھی لوگوں کے دلوں میں نقش ہے لیکن ان کو ایوارڈ کے قابل نہیں سمجھا گیا۔ لوگوں نے یہ تبصرہ بھی کیا ہیں کہ اگر ناچ گانے اور ٹھمکے لگانے پرایوارڈ دینا تھا تو اسٹیج پر ناچ گانے والیوں کو بھی ایوارڈ دینا چاہیے تھا پہلا حق ان کا بنتا تھا یہ تو سری بھی کیے گئے کہ نرگس اور دیدار کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں