سسکتی ہوئی ایک ننھی آواز

سسکتی ہوئی ایک ننھی آواز

 جون 2, 2020  
انور ساجدی
اس وقت دنیا میں جبر اور ناانصافیوں کے خلاف دوتحریکیں چل رہی ہیں امریکہ میں گھیراؤ جلاؤ ہورہا ہے اس تحریک کو سول لبرٹی یاشہری آزادی کی تحریک کہا جاسکتا ہے وہاں پر احتجاج گزشتہ ہفتہ ایک سیاہ فام شخص کی گوری پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں بہیمانہ تشدد سے ہلاکت کیخلاف شروع ہوا ہنوز جاری ہے تمام بڑے شہر تشدد اور گھیراؤ جلاؤ کی لپیٹ میں ہیں ایک احتجاج سانحہ کیچ کیخلاف ہورہا ہے دونوں واقعات کی نوعیت تقریباً ایک جیسی ہے لیکن کہاں امریکہ اور کہاں سانحہ ڈنک کوئی مقابل نہیں ہے لیکن دونوں واقعات میں کم مایہ یا نسلی امتیاز کے شکار شہری متاثر ہوئے ہیں بدقسمتی سے دنیا میں غلامی کاباضابطہ خاتمہ20ویں صدی میں ہوگیا تھالیکن باقاعدہ غلام کی جگہ ایک ایسے نظام نے لیا ہے جو بدترین ہے یہ اس وجہ سے بھی بدترین ہے کہ اسکے ذریعے ایک طرف ریاستیں آبادی کے ایک حصے کو برین واش اور احساس کمتری میں مبتلا کرکے اپنے مفادات کا تحفظ کررہی ہیں ان جدید غلاموں کوبار بار جتایا جاتا ہے کہ وہ تیسرے درجہ کے شہری ہیں ان پر تواتر کے ساتھ زور دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی اس کمتر حیثیت کو تسلیم کرکے ایک پابند زندگی گزاریں۔
انگریزوں نے برصغیر آکر غلامی کو ہولناک شکل دی اندازہ لگائیں کہ 8ہزار گوروں نے10کروڑ لوگوں کو باور کرایا کہ وہ غلام ہیں اور آقا کے احکامات کی بجا آوری ان کا اولین فرض ہے اس چھوٹی سی اقلیت نے ہزاروں ہندوستانیوں کو اپنی فوج میں بھی بھرتی کیا۔اور انہیں پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران دنیا کے مختلف محاذوں پر بھی لڑایا یہ غلام انگریزوں کے وضع کردہ قاعدہ قانون اور ڈسپلن کی سختی سے پابندی کرتے تھے جس کی ایک بڑی مثال جنگ عظیم اول کے دوران حجارمقدس میں سلطنت عثمانیہ کے خلاف جنگ تھی جس کے دوران ہندوستانی سپاہیوں نے خانہ کعبہ اور روضہ رسولؐ پر گولیاں چلانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی کیونکہ وہ انگریز کمانڈ کے تابع تھے دوسری مثال1948ء کی ہے جب ہندوستانی دستوں نے قبلہ اول پر گولیاں چلائیں اس جنگ کے نتیجے میں انگریزوں نے اسرائیل کی ریاست قائم کرکے دیا۔
انگریزوں نے لکھا ہے کہ ہم اپنے مفادات کیلئے قانون بناتے تھے اور اسی کے تحت احتجاج یا غلامی کو چیلنج کرنے والے افراد کویہ کہہ کر سزائیں دیتے تھے کہ انہوں نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔
پندرھویں، سولہویں اور ستھرہویں صدی میں انگریزوں نے براعظم امریکہ کے کروڑوں مقامی باشندے یعنی انڈین کو انہی نام نہاد قوانین کے تحت موت کے گھاٹ اتارا کیونکہ وہ اپنی سرزمین بیرونی قبضہ گیروں کے حوالے کرنا نہیں چاہتے تھے۔
ہندوستان میں برٹش راج کے دوران مقامی باشندے یا تو چھوٹے ملازم ہوئے یا اس نظام نے میرجعفر اور میرصادق جیسے غدار پیدا کئے۔یورپی آباد کاروں نے جب دنیا کے عظیم ترین منطقہ زمین یعنی امریکہ پر قبضہ مکمل کیا تو انہیں اپنے گھروں دفاتر اور کارخانوں میں بلامعاوضہ کام کیلئے افریقی غلاموں کی ضرورت پڑی چنانچہ سولہویں صدی کا سب سے بڑا کاروبار غلاموں کی تجارت تھی امریکہ ترقی کرکے دنیا کا سب سے بڑا ترقی یافتہ ملک بن گیا تب بھی غلامی برقرار رہی ابراہام لنکن کے قانون کے باوجود 1968ء تک غلامی برقرار رہی اسکے خاتمہ کے آخری ضابطہ پرصدرنکسن نے دستخط کئے۔
امریکہ میں غلامی کو ایک خاتون نے چیلنج کیا تھا اس نے مہاتما گاندھی کی تقلید کی تھی گاندھی جنوبی افریقہ میں رہتے تھے اور انگلستان سے بیرسٹر بن کر آئے تھے انہوں نے ریل کا فرسٹ کلاس ٹکٹ لیکر فرسٹ کلاس ڈبے میں بیٹھے تھے کہ گورے افسروں نے ان سے کہا کہ یہ کلاس صرف گوروں کیلئے مختص ہے گاندھی نے دلائل دیئے تو انہوں نے بالشت بھر گاندھی کوڈبے سے باہر پھینک دیا اس واقعہ نے انکے دل ودماغ کو بری طرح جھنجھوڑا اور انہوں نے ساؤتھ افریقہ میں غلامی کیخلاف تحریک شروع کردی بعد میں انہوں نے سوچا کہ غلامی کیخلاف جدوجہد کا اصل مقام ہندوستان ہے جو ان کا وطن ہے چنانچہ ہندوستان آکر انہوں نے اس بے نظیر تحریک کا آغاز کیا جو1947ء میں منطقی انجام پرپہنچا لیکن اس آزادی کے باوجود آج بھی انڈیا کے اچھوت ہریجن اور مسلمان اعلیٰ ذاتوں کی غلامی کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں بدقسمتی سے امریکہ میں بھی صدر ٹرمپ جیسے ناسمجھ شخص کی وجہ سے وائٹ سپرمیسی کا خیال دوبارہ لوٹ آیا ہے حالانکہ امریکہ اب اس کا متحمل نہیں ہوسکتا جب سے مارٹن لوتھرکنگ جونیئر نے شہری آزادیوں اور غلامی کیخلاف تحریک چلائی نہ صرف امریکہ بلکہ ساری دنیا پر اسکے اثرات مرتب ہوئے1960ء کی دہائی میں سیاہ فام خاتون کو یہ کہہ کر بس سے اتارا گیا تھاکہ صرف گورے نشستوں پر بیٹھ سکتے ہیں اس واقعہ کے بعد سیاہ فام آبادی نے گاندھی کے نقش قدم پر چل کر سول نافرمانی کی تحریک چلائی تھی اور بس اور ریلوں کابائیکاٹ کردیا تھا جب یہ تحریک عروج پر تھی تو مارٹن لوتھرکنگ نے اپنا شہرہ آفاق خطاب کیا تھا۔
میراایک خواب ہے
آزادی کے بعد ہندوستان کی جو صورتحال ہے وہ اپنی جگہ لیکن پاکستان میں بھی بنیادی حقوق شہری آزادیوں اور ملک کے تمام باشندوں کے درمیان یکساں سلوک یاانہیں برابر کاشہری سمجھنے کا اصول مفقود ہے بلکہ یہاں پر حکومتوں سے اختلاف کو ریاست کی مخالفت سے تعبیر کیا جاتا ہے اور آبادی کے ایک حصے کو ناپسندیدہ قرار دے کر ان پر غداری کا لیبل لگادیا جاتا ہے۔
اس سوچ کی ایک مثال میرے ساتھ پیش آنے والے ایک واقعہ کی ہے روزنامہ انتخاب کے اجرأ کے بعد جب میں اے بی سی اور اشتہارات کے سلسلے میں سیکریٹری اطلاعات سے ملا جس کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار اور اسکے دارالحکومت پٹنہ سے تھا موصوف نے کہا کہ آپ کا کام نہیں ہوگا میں نے کیا کیوں اس نے کہا کہ آپ کی حب الوطنی مشکوک ہے میں نے کہا کہ آپ کا تعلق ہندوستان سے ہے آپ محب الوطن ہے یہ میری سرزمین ہے میں اس کا وفادار نہیں وہ تو25سال پرانا واقعہ ہے لیکن حال ہی میں عمران خان کی حکومت کے دور میں جب ہمارے اشتہارات پرپابندی لگادی گئی تو پرنسپل انفارمیشن آفیسر نے کہا کہ آپ پہلے تین ماہ تک ایسے مضامین لکھیں جس سے آپ کی حب الوطنی ثابت ہو یعنی ریاست کے صدر مقام میں اس وقت سے اب تک کوئی تبدیلی نہیں آئی وہی ایک مائنڈ سینٹ کام کررہاہے
ایک مرتبہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے صدر آئی اے رحمن نے ایک ٹی وی انٹریو میں کہا کہ اس ملک میں جوفضیلت اور شرف پنجاب کوحاصل ہے اگر آپ وہ بلوچستان کے لوگوں کو دیدیں تو بلوچستان کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔
یعنی اوپر کی سطح پر یہ سوچ موجود ہے کہ ریاست کے بعض شہری برتر اور بعض کمتر ہیں جب تک یہ سوچ موجود ہے یہاں پر تمام شہریوں کو برابری کادرجہ حاصل نہیں ہوسکتا۔
ڈنک کا واقعہ بظاہر جرم کی ایک واردات ہے جو تربت جیسے علاقے میں پیش آیا جہاں رات کی تاریکی میں ڈکیتی کی اس طرح کی واردات اور خواتین بچوں کاقتل اس سے پہلے نہیں ہوا لیکن اگر اس واقعہ کیخلاف احتجاج زورپکڑتا ہے تو یقینا اسے بھی ایک اوررنگ دیاجائیگااگر سوشل میڈیا نہ ہوتا تو بلوچستان کے لوگ اس واقعہ سے بے خبر رہتے لیکن سوشل میڈیا کی وجہ سے اس واقعہ کی بازگشت پورے بلوچستان تک پہنچی اگرچہ ایسے واقعات کیخلاف احتجاج ملک بھر میں ہوتا ہے لیکن بلوچستان میں احتجاج ہوجائے تو اسے اور معنیٰ پہنائے جاتے ہیں حالانکہ ابتک صحیح معنوں میں کوئی احتجاج نہیں ہوا دوچار چھوٹے مظاہرے ہوئے جو پرامن تھے ریاست کا جو آئین ہے اس میں احتجاج کی پوری آزادی ہے لیکن سوشل میڈیا پر چلنے والی فہم پر غالباً اعتراض ہے کیونکہ زخمی بچی برمش کراچی کے اسپتال میں اپنی جاں بحق ماں کو آوازیں دیتی ہے اور ماں کو نہ پاکر اس پر دورے پڑتے ہیں۔کیا تضاد ہے ایک طرف کہاجاتا ہے کہ امریکہ میں قید ڈاکٹر عافیہ قوم کی بیٹی ہے حالانکہ عافیہ امریکی شہری ہے وہ قیام امریکہ کے دوران سی آئی اے کیلئے کام کرتی تھی اور پھر القاعدہ میں شامل ہوکر پاکستان آئی اسکے باوجود وہ قوم کی بیٹی ہے لیکن ننھی برمش قوم کی بیٹی نہیں ہے کیونکہ اس کا تعلق بلوچستان سے ہے۔سانحہ ڈنک کے احتجاج کوروکنے اور انصاف کی یقین دہانی کیلئے اسی علاقہ سے تعلق رکھنے والے وزیر میرظہور بلیدی وہاں پرپہنچے اور سوگوار خاندان سے ملاقات کی اچھی بات ہے لیکن انصاف ہوتا ہوا نظرآنا چاہئے۔
میری زندگی میں ظہور بلیدی سے کوئٹہ سیرینا میں کھڑے کھڑے ملاقات ہوئی تھی وہ میراہاتھ پکڑ کر ایک طرف لے گئے کہنے لگے کہ ڈمی اخبارات کو اشتہارات جاری نہیں ہونگے لیکن چند روز کے بعد انہوں نے روزنامہ انتخاب کے اشتہارات بند کردیئے۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ بہت گہرے شخص ہیں وہ کہتے کچھ ہیں کرتے اور ہیں کہاجاتا ہے کہ وہ اپنی بات کہتے ہیں لیکن دوسروں کی بات نہیں سنتے حالانکہ لارنس کالج میں ایسی تربیت نہیں ہوتی ہے وہ2018ء کے انتخابات کے بعد وزارت اعلیٰ کے مضبوط امیدوار تھے لیکن عین موقع میں جام صاحب کے حق میں فیصلہ دیدیا گیا ممکن ہے کہ آئندہ باری انکی ہو کیونکہ انہوں نے اپنی کارکردگی سے سب کو مطمئن کردیا ہے ان پر جو آزمائش ڈالی گئی تھی وہ اس پر پورے اترے ہیں البتہ یہ گارنٹی نہیں کہ وہ اگلے الیکشن میں بھی باپ پارٹی میں رہیں کیونکہ اتنی لمبی مدت تک خود باپ پارٹی کے قائم رہنے کی گارنٹی نہیں ہے