انوار احمد زئی ۔ با کمال انسان تھے۔ اچانک نظروں سے اوجھل ہو گئے۔

سہیل دانش
————
اچانک وہ نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ہمیشہ ہمیشہ کے لئے! اب وہ نہیں آئیں گے۔ اب انکی باتیں اور یادیں ہیں۔ محبت سے معطر کتنی یادیں سمیٹوں۔ یادیں اتنی کہ ایک کے پیچھے دوسری طلوع ہو جاتی ہیں۔ سچ مچ ان کے پاس ایسا جادو ضرور تھا کہ جو ملتا ان کا گرویدہ ہو جاتا۔ میرے خیال میں شاید ان کی بے ساختہ اور غیر مشروط محبت بانٹنے کی عادت تھی۔

ان کا خلاء آج سے ہی محسوس ہو رہا ہے وہ تو ہر جگہ ہوتے تھے۔ محفلوں کی جان تھے۔ خوبصورت باتیں کوئی ان سے سیکھے۔ بس اچانک ہی غائب ہو گئے۔کوئی پیارا اٹھ جائے سب کچھ کیسا بے رنگ لگتا ہے۔ آج احساس ہو رہا ہے۔ جانے والا بس خوشگوار یادیں چھوڑ جاتا ہے،یہ بھی نہ ہوتیں تو کیا ہو تا۔
سب سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ ایسا ہی چلتا رہے گا۔کچھ تبدیل نہیں ہو گا اور زندگی یونہی ہنستے مسکراتے گزرتی رہے گی۔
ایسا نہیں ہوتا۔ یادیں کہاں پیچھا چھوڑتی ہیں۔زندگی کی یادگار اور شاہکار ہستیاں چلی جاتی ہیں۔
برادرم انوار احمد زئی میرے لئے ایسی ہی شخصیت تھے۔ تعلق کی یہ ڈور کئی دھائیوں پر محیط ہے۔اتنی یادیں کہ انہیں آسانی سے چن نہیں سکتا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب میں کالج میں پڑھتا تھا اور انوار احمد زئی مسلم اسکول لطیف آباد میں استاد تھے۔ یہ اسکول انکی فیملی کی ملکیت تھا۔ لطیف آباد نمبر7میں واقع جماعت اسلامی کی لائبریری میں ہم دونوں اخبارات و رسائل پڑھنے آیا کرتے تھے۔ یہیں ان سے شناسائی ہوئی اور پھر یہ رشتہ محبت اورارادت میں بدل گیا۔اب قریب میں واقع ایرانی ہوٹل میں چائے پینا ہمارا معمول بن گیا۔ اس وقت 5آنے میں ایک سیپرٹ چائے ملتی تھی۔ جس میں دو کپ با آسانی بن جاتے تھے۔پھر ویٹر بھی جاننے والا تھا اس لئے دوبارہ دودھ اور چائے کی ری فلنگ کی سہولت بھی میسر ہوتی۔ اس چائے کا بل عموماً زئی صاحب ہی دیا کرتے تھے۔ انہیں بے شمار شعر یاد تھے۔ ہمارے درمیان ذیادہ تر گفتگو ادب، تاریخ اور حالات ِ حاضرہ پر ہوتی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ان کی نثر میں شعر کا ذائقہ اور شاعری میں نثر کا چسکہ تھا۔ میں ان سے عموماً کہتا کہ کچھ نازل ہوا۔ پھر وہ دلکش انداز میں کچھ نہ کچھ ضرور سناتے۔ عموماً کہا کرتے نثر ہو با شاعری۔ اگر اس میں کچھ ہوا تو یہ خود لوگوں تک پہنچ جائے گی اور لوگ اس تک اگر اس میں کچھ نہ ہوا تو پھر دنیا کے سارے دانشور اس کی تعریف میں لہو اپنا سارا ہنر صرف کر دیں تو بھی اسے زندہ نہیں رکھ سکتے۔
مجھے زمانہ طالب علمی سے بڑے لوگوں کی زندگیاں، انکی کامیابی کے راز، دلچسپیاں اور پسند و ناپسند پڑھنے اور جمع کرنے کا شوق تھا اور میں ملکی و غیر ملکی اخبارات و رسائل کے ایسے حصے کاٹ لیتا ہوں۔ جس میں ایسی معلومات ہوتی ہیں۔ میں برادر انوار احمد زئی کو سناتا تو وہ بڑی داد دیتے۔ ہنستے ہوئے کہتے کسی پر اپنی علمی دھاک بٹھانے کے لئے تمہارے پاس یہ اچھا ٹونکا ہے۔
محترم زئی صاحب سے دوستی کا یہ رشتہ اور ذیادہ پختہ ہو گیا جب ہم ہر جمعرات اور جمعہ کو حضرت ڈاکٹر غلام مصطفےٰ خان کی امامت میں عصر اور مغرب کی نماز ادا کرنے لگے۔ ڈاکٹر صاحب سے ان کی عقیدت قابل رشک تھی۔ وہ انکی زندگی میں کئی معاملات پر ان سے رہنمائی حاصل کرتے۔ڈاکٹر غلام مصطفےٰ خان صاحب سے ہم نے یہ سیکھا کہ اللہ سے دوستی کا رشتہ کیسے استوار کیا جاتا ہے۔زئی صاحب ان کی محفلوں میں پابندی سے آیا کرتے تھے۔پھر کراچی آ گئے تو یہاں اپنی سرکاری ذمہ داریوں کے سبب ان سے کبھ کبھی ملاقات رہتی تو حیدر آباد میں گزرے ہوئے دنوں کا ذکر رہتا۔ تعلیمی بورڈ کے چیئرمین رہے، کئی اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔ انتہائی نفیس اور رکھ رکھاؤ والے انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں آنکھیں بھی دے رکھی تھیں اور دماغ بھی۔میڈیا سے وابسطہ ہر شخص ان کا دوست بھی تھااور گرویدہ بھی۔ کیونکہ رشتوں میں محبت کی کیمسٹری سے وہ واقف تھے۔ زئی صاحب کی ادبی اور تعلیمی خدمات اور انکی شخصیات کے مختلف پہلوؤں پر کبھی تفصیل سے لکھونگا۔ وہ ایک با کمال انسان تھے۔
جب بھی ان سے دریافت کرتا کہ آخر ہماری منزل کیا ہے؟ تو وہ بلا تذبذب کہتے کہ تم دیکھ لینا قدرت ہمیں اصلاح کا ایک موقع ضرور دے گی۔ہم سنبھل گئے تو ہماری اولادیں ایک خوشحال پاکستان دیکھیں گی۔ ان کا فلسفہ یہ تھا کہ کوئی شخص تمام دکھوں، اذیتوں اور مسائل کے با وجود خوش و خرم، مطمئن اور مسرور رہ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زئی صاحب کو جاذب طرز تکلم اور بے پایاں علم سے نوازا تھا۔ جب بھی دفتر میں کوئی ایسا کارڈ موصول ہوتا جس تقریب میں مہمان خصوصی زئی صاحب ہوتے ہیں، ضرور پہنچ جاتا۔اس بہانے ملاقات بھی ہو جاتی اور ان کی خوبصورت باتیں بھی سننے کو ملتی۔ کبھی کبھی ان کے آفس میں ملاقات رہتی۔ ان کی خوبی یہ تھی کہ ان کے ہر دوست کا دعویٰ یہ ہوتا تھا کہ وہ صرف اسے چاہتے ہیں، اس سے محبت کرتے ہیں، اس پر توجہ دیتے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ قیامت کے دن نبی برحق رسالت مآب ﷺان کی اس بات پر شفاعت فرما دینگے کہ وہ عاشق رسول ﷺ اور ولی کامل حضرت ڈاکٹر غلام مصطفےٰ خان کے شیدائی تھے۔ خود بھی عاشق رسولﷺ تھے۔ سرکار ﷺکا ذکر ہوتا تو آنکھیں نم ہو جاتیں۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ محبت بانٹنے والے ایسے شاندار انسان کے ساتھ اپنے رحم و کرم کا معاملہ فرمائے۔آمین