جھکنے والوں نے راحتیں پائیں- ہم خودی کو بلند کرتے رہے

جھکنے والوں نے راحتیں پائیں- #ہم خودی کو بلند کرتے رہے ۔

چترال سے گلگت کا سفر کرنا ہو تو مستوج سے گزرتے ہوئے آپ 10 گھنٹے بعد وادی شندور پہنچتے ہیں جہاں جھیل کنارے دنیا کا بلند ترین پولو گراونڈ ہے ۔ مدتوں سے ہر سال گلگت اور چترال کی پولو ٹیموں کے درمیان جنگ و جدل کی طرح سالانہ مقابلے ہوتے تھے اور یہاں کا رواج تھا کہ فائنل میچ میں جو کھلاڑی جیت کا سبب بننے والا گول کر جاتا وادی کی سب سے خوبصورت لڑکی اس کو شادی کا پیغام بھیج دیتی اور وہ پولو میچ سے بھی بڑی تقریب بن جاتی ۔ 1986 کے بعد افغان مہاجرین نے پولو میچ کے ساتھ اس میں بزکشی جیسے مقابلوں کا اضافہ کرکے تہوار کو خونخوار کھیل میں بدل دیا ۔

جنرل ضیاالحق کی خواہش پر چترال اسکاوٹس کی ڈیوٹی لگی کہ شندور جھیل اور گراونڈ کی خوبصورتی کیلئے اس کے ساتھ ساتھ ہٹس تعمیر کیے جائیں اور پھر پولو مقابلوں کو ہو سال قومی تہوار کے طور پر منایا جائے ۔ ہم جیسے غیرشادی شدہ افسروں کی ڈیوٹی لگنے لگی کہ جاکر شندور بیٹھو اور کام کی نگرانی کرو ۔ پھر کیا تھا خوبصورت ہٹس اور آفیسر میس نے شندور کی رونقیں دوبالا کردیں۔

جنرل ضیا کے طیارہ حادثے کے بعد زرداری صاحب مرد اول بن گئے جو پولو کے شوق سے مالامال تھے اور 1988 میں شندور پولو تہوار میں اسلامی دنیا کی پہلی وزیراعظم بینظیر بھٹو کے ساتھ آ کر ہمارے مہمان بننے والے تھے ۔ تہوار میں ڈاکٹری کے علاوہ میس اور مہمانداری کے معاملات بھی میرے ذمے لگتے تھے ۔

چترال کا شاہی خاندان تو اپنے مفادات کی قید سے کبھی آزاد نہ ہوا مگر باقی ہر چترالی مرد و زن بینظیر بھٹو سے عشق کی حد تک وابستہ تھا اور اسکی ایک جھلک دیکھنے کی تیاریاں کمال عروج پر تھیں ۔ چترال ویلی میں اس دوران پیدا ہونے والی بچیوں کے نام بھی بینظیر بھٹو رکھے گئے ۔ میں لوگوں سے کہتا بینظیر تک تو ٹھیک ہے آپ ساتھ بھٹو کیوں لگاتے ہیں تو بس ہنس دیتے ۔

چترال اسکاوٹس نے شندور کو دلہن کی طرح سجا دیا تھا ۔ گلگت اور چترال سے پولو کے شوقین لوگوں نے گھر بار چھوڑ کر وادی شندور میں ڈیرے ڈال لیے ۔ پوری دنیا سے آئے پولو دیکھنے والوں کے رنگ برنگے ٹینٹ دور دور تک پھیل گئے ۔

ہمارے کمانڈنٹ کرنل مراد خان نیر پیدائشی طور پر پکے سچے سپاہی تھے اور خاکی وردی انکا اوڑھنا بچھونا تھا ۔ پچھلے دس سال سے چترال اسکاوٹس کمانڈ کر رہے تھے اور اس علاقے میں ہر چیز پر انکی گرفت بہت مضبوط تھی ۔

وزریراعظم بینظیر بھٹو ایک جم غفیر کے ساتھ پہنچیں ۔ لیفٹیننٹ کمانڈر شوکت شاہ انکے ADC تھے جو بعد میں پولیس میں چلے گئے اور سینیر رینک پر ریٹائر ہوئے ۔ اس سال چترالی ٹیم نے میچ جیت لیا ۔ لوگوں نے ناچ ناچ کر آسماں سر پر اٹھا رکھا تھا ۔ مرد اول جناب زرداری صاحب بھی جوش میں آئے اور پولو کھیلنے کی خواہش ظاہر کردی ۔ پولو ڈریس میں میدان میں گئے تو بھاگ دوڑ میں انہیں دو تین گول کرنے کے مواقع فراہم کئے گئے ۔ خوب تالیاں بجیں اور میدان میں صاحب گھوڑے سے خوب شان شوکت سے اترے ۔ انکا ایک پٹارین دوست جو SSG میں میجر تھا وردی میں بھاگتا ہوا میدان میں پہنچا اور جم غفیر کے سامنے ہی مرد اول کے پولو بوٹ اتارنے لگا ۔ کرنل مراد خان نیر کیلئے تو دین و دنیا ہی وردی تھی وہ چیخے کہ اس سے کہو اپنی نہیں تو وردی کی عزت کا خیال تو رکھے ۔ یہ بات بینظیر بھٹو نے بھی بہت ناگواری سے سنی مگر اعتزاز احسن اٹھ کر کرنل مراد کو ایک طرف لے گئے۔

اس سےاگلا سین اور بھی مزے کا ہوا ۔ زرداری صاحب چونکہ مجھے جانتے تھے جب وہ میدان سے اوپر ہٹ تک آئے تو مجھے سندھی میں کہا کہ میں نے ہاتھ دھونے ہیں ۔ میں نے میس حوالدار کو آواز دی کہ پانی ۔ صابن اور تولیہ لاو ۔ ایک میجر جنرل نے جو زرداری صاحب کے ساتھ فوٹو بنوانے کو مرے جا رہے تھے مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور حوالدار سے لوٹا پکڑ کر زرداری صاحب کے ہاتھ دلوانے لگے ۔ شکر ہے کرنل مراد یہ سین نہ دیکھ سکے ورنہ نہ جانے وہ کیا طوفان کھڑا کر دیتے ۔

پرائم منسٹر کے جانے کے بعد IGFC نے شاباش کے طور پر وقت سے ایک ماہ پہلے ہی مجھے میجر کا رینک لگا دیا اور میں نے گراونڈ میں یونٹ کے سب جوانوں کے ساتھ ڈانس کرکے خوب جشن منایا ۔

وہ پٹارین دوست میجر صاحب کسی پولیس آفیسر کا حق مار کر پرائم منسٹر کے آفیسر اسپیشل ڈیوٹی سیکیورٹی تعینات ہو گئے اور میجر جنرل صاحب ریٹائرمنٹ لیکر ایک مزیدار ملک کے سفیر چلے گئے جہاں زرداری صاحب چھٹیاں منانے جاتے تھے ۔ ایسے ہی نہیں کہا جاتا کہ زرداری صاحب دوستوں کے دوست ہیں ۔

بعد میں کرنل مراد خان نیر کو پرائم منسٹر کی کوئی بات نہ ماننے پر ہتک آمیز طریقے سے ریٹائر کرنے کے آرڈر ایشو ہوئے تو انہوں نے خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی مگر طاقتور لوگوں کے سامنے وردی میں ہوتے ہوئے نہ جھکنے کی رسم قائم رکھی ۔ میں کیا کرتا روتے دھوتے اچھی اور بری یادوں کی بھاری گٹھڑی اٹھائے چپ چاپ دروش سے نکل آیا۔

#برگیڈیربشیرآرائیں