یوگنڈا کے صدر کی حالیہ تقریر کا ترجمہ ہےجو انہوں نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوءے کرونا وائرس کے سلسلے میں ان کے غیر ذمہ دارانہ رویے پہ تنبیہہ کرتے ہوئے کی

یہ یوگنڈا کے صدر کی حالیہ تقریر کا ترجمہ ہےجو انہوں نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوءے کرونا وائرس کے سلسلے میں ان کے غیر ذمہ دارانہ رویے پہ تنبیہہ کرتے ہوئے کی ؛

” خدا کو بہت سے کام کرنے ہوتے ہیں۔۔اسے پوری دنیا کا نظام دیکھنا ہوتا ہے۔اس کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ صرف یہاں یوگنڈا میں بیٹھ کر احمقوں کی نگہداشت کرے”۔۔
جنگ کے زمانے میں کوئی کسی سےنہیں کہتا کہ گھروں میں بند ہوجائیں۔۔آپ برضا ورغبت گھروں میں مقید ہوجاتے ہیں۔بلکہ اگر آپ کے پاس بیسمنٹ ہو تو آپ حالات بہتر ہونے تک خود کووہیں تک محدود کرلیتے ہیں۔۔جنگ کے دنوں میں آپ آزادی کا مطالبہ نہیں کرتے۔آپ اپنی زندگی کی خاطر اپنی آزادی قربان کردیتے ہیں۔دوران جنگ آپ “بھوک” کا شکوہ نہیں کرتے۔۔آپ اس امید پہ بھوکا رہنا گوارہ کرتے ہیں کہ زندگی رہی تو پھر باہر نکل کر کھالیں گے ۔
جنگ کےدوران آپ اپنا کاروبار کھولنے کا مطالبہ نہیں کرتے۔۔آپ اپنی دوکان بند کردیتے ہیں۔ اگر اس کا بھی وقت ملے تو۔اور یہ دعا کرتے ہیں کہ جنگ سے بچ جائیں اور واپس آکر کاروبار دوبارہ شروع کرلیں۔۔بشرطیکہ اس دوران میں دوکان لوٹ نہ لی گئی ہو۔یا مارٹر کےگولوں سے تباہ نہ ہو گئی ہو۔
دوران جنگ آپ ہر نئے دن پہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ایک اور دن آپ کو زندہ رکھا۔۔دوران جنگ آپ اس بات پہ قطعاً پریشان نہیں ہوتے کہ آپ کے بچے اسکول نہیں جارہے۔۔آپ یہ دعا مانگتے ہیں کہ حکومت ان کی جبری بھرتی کرکے اسی اسکول کی حدود میں ۔ جو اب فوجی ڈپو بنادیا گیا ہے ۔عسکری تربیت کے لیے نہ بلالے ۔۔
دنیا اس وقت حالت جنگ میں ہے۔۔ایسی جنگ جو بندوقوں اور گولیوں کے بغیر لڑی جارہی ہے۔۔ایسی جنگ جس میں جنگی سپاہی نہیں ہیں۔۔ایسی جنگ جس کی کوئی سرحد نہیں۔۔ایسی جنگ جس میں کسی جنگ بندی کے معاہدے کی کوئی امید نہیں۔۔ایسی جنگ جس میں جنگی منصوبہ بندی کے لیے کوئی “وار روم” نہیں ہے۔۔

اس جنگ میں لڑنے والی فوج بے رحم ہے۔۔اس میں انسانی ہمدردی کا کوئی عنصر قطعاً نہیں پایا جاتا۔۔اس کے دل میں بچوں، عورتوں یا عبادت گاہوں کی کوئی وقعت نہیں۔۔یہ فوج جنگ کی تباہ کاریوں سے لاتعلق ہے۔اسے حکومت یا نظام حکومت بدلنے سے کوئی دلچسپی نہیں۔۔اسے زیر زمیں دستیاب معدنی وسائل سے کوئی دلچسپی نہیں۔۔بلکہ اسے مذہب، فرقے یا کسی خاص نظریاتی تسلط سے قطعاًکوئی دلچسپی نہیں۔ کسی خاص نسل کی برتری اس کا مقصد نہیں۔۔ یہ نادیدہ۔اور ظالمانہ حد تک موثر فوج ہے۔۔
اس کا مقصد صرف اور صرف “موت” ہے۔۔ اس کی شکم سیری ساری دنیا کو موت کا میدان بنانے سے ہی ہوگی۔۔اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اس کی صلاحیت شک و شبہ سے بالا ہے۔زمین پہ کسی خاص جگہ پہ بنیاد۔۔یا کسی جاسوسی کےنظام کے بغیر یہ دنیا کے تقریباً ہر ملک میں موجود ہے۔اس کی نقل و حرکت کسی جنگی قواعد کے ماتحت نہیں۔۔مختصراً یہ اپنی ذات میں خود “قانون” ہے۔۔اسے COVID-19 بھی کہا جاتا ہے۔۔کیونکہ اس نے اپنی تباہ کاریوں کا آغاز ۲۰۱۹ میں کیا ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ اس فوج کی کچھ کمزوریاں ہیں۔۔اور اسے شکست دی جاسکتی ہے۔۔اس کے لیے ہمارے اجتماعی اقدامات ۔تنظیم اور روادری کی ضرورت ہے۔ COVID-19 سماجی فاصلوں میں زندہ نہیں رہ سکتا۔یہ صرف اسی صورت میں پنپ سکتا ہے اگر آپ اس سے رابطے میں آئیں اور اس سے محاذآرائی کریں۔یہ محاذ آرائی کو پسند کرتا ہے۔یہ اجتماعی طور پہ سماجی اور جسمانی دوری کی صورت میں ہتھیار ڈال دیتا ہے۔یہ حفظان صحت کے اصولوں کے سامنے سرنگوں رہتا ہے۔یہ بالکل معذور ہوجاتا ہے۔۔جب آپ اپنی قسمت اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں اور انہیں حتی الامکان “سینیٹائز” کرتے رہتے ہیں۔
یہ ضدی بچوں کی طرح روٹی مکھن کے لیےرونے پیٹنے کا وقت نہیں ہے۔۔ہم جانتے ہیں کہ مقدس کتاب میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ انسان صرف روٹی پہ ہی زندہ نہیں رہ سکتا۔توآئیے۔۔ہم اطاعت گذار بنیں اور خالق کی ہدایات پہ عمل پیرا ہوں۔آئیے کہ ہم COVID-19 کی قوس کو چپٹا کریں۔ صبر کا مظاہرہ کریں۔بہت جلد ہم اپنی آزادی۔سماجی و کاروباری زندگی دوبارہ حاصل کرلیں گے ۔۔
ایمرجنسی کےدوران۔۔ہم دوسروں کی خدمت اور دوسروں سے محبت کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔۔اور اس پہ عمل پیرا ہوتے ہیں۔
اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔۔
کرونا وائرس کے بارے میں اتنی جامع اور دانشورانہ تقریر کسی نے نہیں کی۔۔اس عظیم لیڈر کو سلام۔
———–
عابد حسین قریشی