غیر قانونی طریقے سے حاصل کیے گئے دستاویز کا مقدمہ پر کیا اثر پڑے گا۔-جسٹس فائز کیس میں نئی حکومتی دستاویز اور نئے سوالات

سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر سماعت کے دوران وفاقی حکومت نے نو ماہ بعد لندن میں جائیداد کی رجسٹری کی نئی دستاویز جمع کرائی جس پر عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کیخلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر سماعت شروع ہوئی تو آغاز سے ہی تو وفاقی حکومت کے وکیل ایڈووکیٹ فروغ نسیم کو سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا ۔

ایڈووکیٹ فروغ نسیم اس سے قبل بھی وزارت قانون کے عہدے سے استعفیٰ دیکر مد ت ملازمت کے مقدمے میں آرمی چیف کے وکیل رہ چکے ہیں ۔آرمی چیف مدت ملازمت کیس کی سماعت کے دوران حکومت نے ایک ایسے قانون میں بھی ترمیم کر دی تھی جو غیر متعلقہ تھا ۔

سپریم کورٹ بار بار وفاقی حکومت کے وکیل فروغ نسیم سے مقدمے کے حقائق پر دلائل دینے کا کہتی رہی لیکن فروغ نسیم کا فوکس جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری شوکاذ نوٹس پر رہا ۔فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ شوکاذ نوٹس جاری ہونے کے بعد جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا ۔

ایک موقع پر تو ایڈووکیٹ فروغ نسیم کو یہ کہنا پڑا عدالتی کارروائی کب تک چلے گی اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’ہم دو ماہ بعد سماعت کر رہے ہیں ،ہم مکمل تحمل کے ساتھ آپ کو سنیں گے۔‘

وفاقی حکومت کے وکیل فروغ نسیم نے بتایا کہ دس اپریل 2019 کو اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو وحید ڈوگر نے شکایت دی گئی، شکایت کے ساتھ ایک دستاویز جمع کرایا گیا، وہ دستاویز ہم نے جمع کرایا ہے۔

جسٹس مقبول باقر نے پوچھا کیا یہ دستاویز پہلے ریکارڈ کا حصہ ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک جو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ویڈیو لنک پر موجود تھے بولے ہم بار بار پوچھتے رہے شکایت ساتھ ایک کوئی ثبوت لگایا گیا وہ دکھائیں، ہمارے بار بار پو چھتے رہے نام نہاد دستاویز دکھائیں۔

فروغ نسیم نے فورا ملبہ سابق اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور پر ڈالتے ہوئے کہا سابق اٹارنی جنرل کے دفتر نے اس دستاویز کو نظر انداز کیا۔جسٹس سجاد علی شاہ بولے منیر اے ملک دو دن پوچھتے رہے دستاویز کہاں ہے،بار بار پوچھا گیا مقدمہ کیسے بنایا گیا۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے فروغ نسیم مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ بھی دو دن کمرہ عدالت میں موجود تھے جب دستاویز کا پوچھا جارہا تھا۔فروغ نسیم نے کہا میں ان دو دنوں میں یہاں نہیں تھا، سابق اٹارنی جنرل کے دفتر کی غفلت سے ایسے ہوا۔جسٹس سجا د علی شاہ نے کہا دستاویز ظاہر نہ کرنا حکومت کی غلطی ہے۔

ایڈووکیٹ فروغ نسیم نے کہا جائیداد کی ملکیت سے انکار نہیں کیا گیا۔جسٹس سجاد علی شاہ بولے سوال یہ نہیں ہے۔جسٹس مقبول باقر نے کہا تاخیر سے دستاویز دائر کرنے کے نتائج نکلیں گے۔جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا ہم نے دس مرتبہ پوچھا ہمیں دستاویز نہیں ملا۔

جسٹس سجاد علی شاہ بولے ایسے وقت میں کاغذ پیش کرنے پر مزید سوالات پیدا ہو گئے ہیں، بیوی بچوں پر جائیداد بنانے کا الزام تھا تو ایک دم چھلانگ لگا کر جج کے خلاف انکوائری کیوں شروع کی گئی، اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو ہی شکایت کیوں بھیجی گئی، صدر اور جوڈیشل کونسل کے فورم کی موجودگی میں اثاثہ جات ریکوری یونٹ کا چناؤ کیوں کیا گیا، شکایت جوڈیشل کونسل یا صدر کو کیوں نہیں بھیجی گئی۔

جسٹس قاضی امین نے پوچھا کہ حکومت کو ججز کی جائیداد سے کیا مسئلہ ہے؟

جسٹس عمر عطا نے کہا اثاثہ جات ریکوری یونٹ کون ہے۔جسٹس مقبول باقر نے کہا غیر قانونی طریقے سے حاصل کیے گئے دستاویز کا مقدمہ پر کیا اثر پڑے گا۔

عدالت نے ایڈووکیٹ فروغ نسیم کو سوالات کے جواب کیلئے وقت فراہم کرتے ہوئے سماعت کل دن ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی ۔
Pakistan24.tv -report