غیر قانونی ڈومیسائل کی تحقیقات اور ان کا دوسرا پہلو

غیر قانونی ڈومیسائل کی تحقیقات اور ان کا دوسرا پہلو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس 👆 اس پوسٹ کے بعد متعدّد افراد نے اس پوسٹ کے مندرجات کیساتھ کئی پوسٹیں سوشل میڈیا پر وائرل کردیں ۔ ان پوسٹوں میں یہ گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا گیا ہے کہ 1971 ء کے PRC (پرمننٹ ریزیڈینشل سرٹیفیکٹ) رولز کے تحت “سندھ میں پی آر سی کا مستحق صرف وہ باشندہ ہوگا جس کے والد کی پیدائش بھی سندھ کی ہوگی” ۔ اس پوسٹ کے وائرل ہونے پر سندھ کے وہ باشندے پریشانی کا شکار ہوگئے جنہیں سندھ کے مختلف اضلاع سے پی آرسی جاری کی گئیں اور جنکی بنیاد پر انہوں نے سندھ کے تعلیمی اداروں میں داخلے اور سرکاری ملازمتیں حاصل کیں مگر ان کے والد کی پیدائش سندھ کی نہیں تھیں ۔ میں تو یہ سمجھنے پر مجبور ہوگیا کہ ہمارے سندھی بھائیوں کی جانب سے کئے گئے اس ہوشربا انکشاف کے بعد شاید ملک میں اب کوئی “آئینی بحران” جنم لینے والا ہے کیونکہ صدر پاکستان جناب عارف علوی ، جن کا ڈومیسائل اور پی آر سی کراچی ضلع جنوبی سے جاری ہوا ، اب اس بنیاد پر منسوخ کردیا جائیگا کہ ان کے والد سندھ میں پیدا نہیں ہوئے تھے چنانچہ ان کا ڈومیسائل اور پی آر سی غیر قانونی قرار پائیگا جس کے نتیجے میں انہیں صدارت سے ہاتھ دھونے پڑینگے ۔ جب ان پریشان حال باشندوں نے جن کے پی آر سی اس بنیاد پر منسوخ ہوجانے کا خوف پیدا ہوگیا تھا ،جن کے والد سندھ میں پیدا نہیں ہوئے تھے ، مذکورہ رولز سندھ پی آر سی رولز 1971 (جو ذیل میں دئیے جارہے ہیں )، کامطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ رولز میں ایسی کوئی شرط سرے سے ہے ہی نہیں کہ جس باشندے کے والد کی پیدائش سندھ میں نا ہوئی ہو اس کو سندھ کے کسی ضلع کا پی آر سی جاری نہیں کیا جاسکتا بلکہ کچھ ایسے حقائق سامنے آگئے جو ایم کیوایم کے خواجہ اظہار کی اس آئینی درخواست ، جو انہوں نے سندھ میں دیہی اضلاع کے باشندوں کو شہری اضلاع کے ڈومیسائل اور پی آر سی جاری کرنے اور انکی بنیاد پر سندھ کے دیہی اضلاع کے باشندوں کی شہری اضلاع کے لئے مختص کوٹے پر تعلیمی اداروں میں داخلوں اور سرکاری ملازمتوں کے حصول کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں زیرسماعت ہے ، کیلئے مفید ثابت ہوسکتے ہیں ۔ دوسری جانب دیہی سندھ کے کچھ حلقوں کی جانب سے دیگر صوبوں کے باشندوں کو سندھ کے ڈومیسائل پر تعلیمی اداروں میں داخلے اور سرکاری ملازمتیں دئیے جانے کی شدید مخالفت اور تحقیقات کے مطالبے پر چیف سیکریٹری سندھ کیجانب سے ایک تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو اس امر کی تحقیق کریگی کہ سندھ کے مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے ڈومیسائل اور پی آر سی کے مروجہ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کس کس کو غیر قانونی ڈومیسائل اور پی آر سی جاری کئے گئے ۔ مذکورہ انکوائری کمیٹی کے سامنے یقینا” ایسے کیسیز آئینگے جن میں خلاف قانون ڈومیسائل اور پی آر سی جاری کئے گئے ہونگے چنانچہ کمیٹی اپنی رپورٹ میں ایسے ڈومیسائلز اور پی آر سیز کی نشاندھی کرتے ہوئے جو رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جاری ہوئے ہونگے ۔ حکومت سندھ کو ایسے ڈومیسائلز اور پی آر سیز منسوخ بھی کرنے ہونگے جس کی بناء پر کمیٹی کی جانب سے نشاندھی کئے جانے والے غیر قانونی ڈومیسائلز اور پی آر سیز کے حامل افراد کو انکے تعلیمی اداروں سے بیدخل کرنا پڑیگا جن میں انہوں نے ان غیرقانونی ڈومیسائلز اور پی آر سی پر داخلے حاصل کئے تھے اسی طرح سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے والوں کو بھی انکی ملازمتوں سے برخاست کرنا پڑیگا ۔ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ اور اس پر اگر حکومت سندھ کی جانب سے کوئی کاروائی کی گئی تو وہ خواجہ اظہار کیس میں بہت اہم کردار ادا کریگی ، کیونکہ جن شکایات پرانکوائری کمیٹی کی تحقیقات ہونگی وہی شکایات خواجہ اظہار نے اپنی آئینی درخواست میں کی ہیں اس طرح انکوائری کمیٹی کی جانب سے ایک بھی ڈومیسائل کو خلاف ضابطہ قرار دینا خواجہ اظہار کیس کی مضبوط ترین دلیل بن جائیگی جسے عدالت کو تسلیم کرنا ہوگا یہ نہیں ہوسکتا کہ جن قانونی بنیادوں پر سرکاری انکوائری کمیٹی کسی باشندے کو جاری شدہ ڈومیسائل اور پی آر سی کو غیر قانونی قرار دے کر حکومت سے اس کی منسوخی کی سفارش کرے ، ہائیکورٹ ان ہی بنیادوں(خلافِ قانون ڈومیسائل اور پی آر سی کا اجراء) پر کی جانے والی آئینی پٹیشن کو مسترد کرے اور یوں انکوائری کمیٹی کی جانب سے پچاس یا سو ڈومیسائل اور پی آر سی کی منسوخی کی سفارش دراصل ہائیکورٹ کی جانب سے خواجہ اظہار کیس میں چیلنچ مبیّنہ طور پر چودہ ہزار سے زائد ایسے ڈومیسائلز اور پی آر سیز کی منسوخی کی بنیاد بن سکتی ہے جس کے نتیجے میں چودہ ہزار افراد کے تعلیمی اداروں میں داخلے منسوخ اور سرکاری ملازمتیں ختم کی جاسکتی ہیں ۔ اب یہ نہیں معلوم کہ مذکورہ بالا پوسٹ وائرل کرنے والوں کی نادانی تھی یا وہ ان چودہ ہزار سندھ دیہی کے باشندوں کے خلاف کسی سازش میں شریک تھے ، جنکے ڈومیسائل اور پی آر سی انکی وائرل کردہ پوسٹ کے نتیجے میں تعلیمی اداروں میں داخلوں اور سرکاری ملازمتوں سے محروم ہوسکتے ہیں