142

کراچی کو لینڈ مافیا کے چنگل سے آزاد نہیں کرایا جاسکا۔۔۔۔۔

رپورٹ نغمہ اقتدار

کراچی کو لینڈگریبرز کے چنگل سے آزاد نہ کرایا جاسکا قبضہ مافیاز نے شہر کے دیہی علاقوں کا رخ کرلیا اربوں روپے کی قیتمی سرکاری اراضی پر جعلی ہاؤسنگ سوساٹیز اور جعلی گوٹھوں کے نام پر سادہ لوح عوام کو لوٹنے کا بازار گرم ہے، سپریم کورٹ کے واضع احکامات کے باجود کراچی میں قبضہ مافیاز کو لگام نہ دیا جاسکا ملیر ایکسپریس وے منصوبہ شروع ہونے سے قبل ہی ملیر ندی ناجائز تعمیرات کی زد میں آگیا، تفصیلات کے مطابق ضلع کاؤنسل کراچی کے حدود ملیر ندی اور اطراف میں درجنوں جعلی گوٹھ اور جعلی ہاؤسنگ اسکیمز کے نام پر سرکاری اراضی پر قبضہ کرکے فروخت کرنے کا عمل زور و شور سے جاری ہے جس کے خلاف سول سوسائٹی کی جانب سے احتجاج کیا گیا تو چئیرمین ضلع کاؤنسل کراچی نے ڈپٹی کمشنر کراچی سمیت دیگر اداروں کو ایک خط لکھا جس میں لینڈ مافیاز کے خلاف سراپا احتجاج مقامی لوگوں کو قبضہ مافیاز ظاہر کیا گیا اس خط کے ضمن میں پولیس نے اولڈ شفیع گوٹھ پر چڑھائی کردی خواتین و بچوں سمیت درجنوں افراد کو حراست میں لینے کے بعد زدو کوب اور ڈرایا دھمکایا گیا۔ مقامی افراد کے مطابق زمینوں پر قبضہ کرنے والی مافیاز کو اہم شخصیات کی سرپرستی حاصل ہے اربوں روپے کی سینکڑوں ایکڑ سرکاری زمینیں جعلی کاغذات بنا کر فروخت کی جا چکی ہیں۔
جعلی کاغذات پر سرکاری زمین فروخت کرنے والوں نے اربوں روپے کما لئے۔
زرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ضلع ملیر میں کہیں بڑے قبضہ گروپ کام کر رہے ہیں جنہیں با اثر شخصیات کی مدد حاصل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں