یہ دنیا عظیم لوگوں سے بھری پڑی ہے، جہاں بُہت سے لوگ بیٹیوں کی پیدائش کو اچھا شگون نہیں سمجھتے وہیں راجھستان کے ایک گاؤں ” پیپل انتری” میں لوگ بچی کی پیدائش کو ایک سو گیارہ(111) درخت لگا کر مناتے ہیں

یہ دنیا عظیم لوگوں سے بھری پڑی ہے، جہاں بُہت سے لوگ بیٹیوں کی پیدائش کو اچھا شگون نہیں سمجھتے وہیں راجھستان کے ایک گاؤں ” پیپل انتری” میں لوگ بچی کی پیدائش کو ایک سو گیارہ(111) درخت لگا کر مناتے ہیں۔
جی ہر بچی کی پیدائش کو ایک سو گیارہ درخت لگا کر مناتے ہیں۔

یہ روایت گاؤں کے ایک کسان شیام سُندر پلوال نے تب شروع کی جب اسکی بیٹی چھوٹی سی عمر میں فوت ہوگئی تھی۔ اس وقت کے بعد سے اس رسم کو پورے گاؤں میں اپنا لیا گیا گو پلوال اب گاؤں کا سر پنچ نہیں رہا مگر یہ رسم پورے گاؤں میں منائی جاتی ہے۔اس رسم کے تحت پچھلے چھ سالوں میں پانچ لاکھ درخت لگائے جا چُکے ہیں
جب بھی کوی بچی پیدا ہوتی ہے تو اس بچی کے نام پہ ایک ٹرسٹ شروع کی جاتی ہے جس میں سب سے پہلے والدین کُل رقم کا تین چوتھائی تقریبا اکتیس سو ہندوستانی روپے دیتے ہیں جو کہ بچی کے مستقبل واسطے محفوظ کر لیتے ہیں گو یہ ایک چھوٹی سی رقم ہے لیکن یہ اس بات کی یقین دہانی ہے کہ یہ بچی کسی پر بھی بُوجھ نہیں ہے،اسکے بعد والدین ایک اشٹام پہ دستخط کرتے ہیں جس میں اس بات کا اقرار ہوتا ہے کہ وہ اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے بچی کی شادی نہیں کریں گے۔اور اسکو مکمل تعلیم فراہم کریں گے۔اس اشٹام میں ایک سو گیارہ درختوں کی مکمل دیکھ بھال کو بھی اقرار نامہ ہوتا ہے۔
اس رسم کے نتیجے میں جہاں کلیوں جیسی بیٹیاں ایک محفوظ مُستقبل کی طرف جاتی ہیں وہیں گاؤں اور دنیا کو تازہ ہوا کا جھونکا بھی ملاتا ہے اور ءیہ رسم بذات خود تازہ ہوا کا ایک جھونکا ہے۔انڈیا جیسے گُھٹن زدہ ماحول میں جہاں بیٹیوں کو بُوجھ سمجھا جاتا ہے وہاں سے ہوا کا یہ محبت بھرا جھونکا قابل تحسین ہے۔
منقول