وقاریونس کو کرکٹ کے رنگ پھیکے پڑنے کا رنج

پاکستان کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ وقار یونس کا کہنا ہے کہ کوویڈ 19 کی وجہ سے ہر کھیل کا اثر پڑ رہا ہے، کھیل اور کھلاڑیوں پر ہی نہیں بلکہ شائقین کھیل پر بھی اس کے منفی اثرات پڑ رہے ہیں، کیونکہ عوام کھیلوں کے لائیو مقابلے صبح و شام دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں اور اب جب انہیں دیکھنے کو کچھ نہیں مل رہا تووہ پریشانیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

‏ سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ اگر کھلاڑی اور کوچ کی حیثیت سے بات کروں تو میں سمجھتا ہوں کہ سب سے متاثر کھیل کرکٹ ہو گا، کیونکہ اس میں بال ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ جاتی ہے، کھلاڑی تھوک اور پسینے سے گیند کو چمکاتے ہیں، جبکہ ایسی ہی چیزوں سے کورونا وائرس کے پھیلنے کا خدشہ سب سے زیادہ ظاہر کیا جاتا ہے، اسی لیے میں کہتا ہوں، کورونا وائرس کی وجہ سے کرکٹ کے اصل رنگ پھیکے پڑ جائیں گے اور نئے قوانین اور روایات کھلاڑیوں کے لیئے ایک جھٹکا ثابت ہوں گی۔

‏ سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ تھوک سے بال کو نہ چمکانے کی تجویز ہے، جبکہ بولرز گیند کو چمکانے کے لیئے تھوک کو ضروری سمجھتے ہیں، لیکن اب تھوک سے نہ چمکانے کا عادی ہونا پڑے گا لیکن اس کا کوئی حل نکالنا ہو گا، کیونکہ پہلے ہی بیٹسمینوں کو زیادہ فائدہ حاصل ہے، بولرز اگر سوئنگ نہیں کر پائیں گے تو بیٹسمینوں کو مزید فائدہ حاصل ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بیٹ اور بال میں تواز ن قائم رکھنے کی ضرروت ہے ، ابھی بال کو ڈس انفیکٹ کرنے کی بھی بات ہو رہی ہے، اگر ایسا کیا جاتا ہے تو اس سے بھی بالروں کو نقصان ہو گا، ان کا فائدہ مزید کم ہو جائے گا، کیونکہ اس سے بھی بال سوئنگ نہیں ہو گا ایسا حل نکالنا ہو گا جس سے توازن قائم رہے، پہلے ہی فلیٹ پچز کی وجہ سے بالروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بال ڈس انفیکٹ کرنا ہے تو پہلے اس کی آزمائش کی جائے۔

‏وقار یونس نے کہا کہ اصل دھچکا سیلی بریشن کے حوالے سے ہو گا۔ کھیل میں اصل مزہ ہی کامیابی حاصل کرنے کے بعد جشن منانے میں ہے، جب یہ ختم ہو جائے گا یہ کھلاڑیوں کے لیئے دھچکے سےکم نہیں ہے، کھلاڑی ہائی فائیو کرتے ہیں، فزیکل کانٹیکٹ ہوتا ہے، سنچری بنانے کے بعد گلے ملتے ہیں ، یہ سب نہ کرنا کھلاڑیوں کے لیئے بہت مشکل ہو گا، لیکن احتیاط کرنا پڑے گی، لیکن اس سے رنگ ضرور پھیکا پڑ جائے گا۔

‏وقار یونس نے کہا کہ بالروں کا ایک لمبے عرصے کے بعد میدان میں آنا ایک چیلنج ہوگا، ان کا سب سے زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت ہے، میدان میں بولنگ کرنے سے انہیں فٹنس مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے، ان پر فوری بوجھ ڈالنا خطرناک ہو گا ، آہستہ آہستہ بولنگ کی طرف لانا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تو نہیں بیٹھا جا سکتا، کھیلوں کی سرگرمیاں شروع کرنا ہیں لیکن اس کے لیئے احتیاط بہت ضروری ہے، لاپرواہی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

‏کورونا وائرس کے اثرات سب سے زیادہ کرکٹ پر مرتب ہوں گے۔ کھلاڑیوں کو نئے قوانین اور روایات کا عادی بننا پڑے گا۔ بیٹ اوربال میں توازن مزید بگڑنے کا خدشہ ہے