کوئٹہ میں صورتحال بدتر ہوتی جارہی ہے ہزارہ اور پشتون بحران اور حملوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے

دعوت جرگہ عام بنام بلوچستان کے سیاسی،مذہبی اور سماجی رہنمائوں کے۔
عرض گزارش ہے کہ:


میں جناب مولانا شیرانی، مشر محمود خان اچکزئی، جناب اختر جان مینگل، جناب نواب ایاز جوگیزئی، جناب مشر اصغر خان اچکزئی، جناب مولانا لیاقت بلوچ، جناب مولانا ترابی، ڈاکٹر مالک کاسی، ڈاکٹر مالک بلوچ ، جناب حافظ حمد اللہ ، برکت شاہ کاکڑ ،رووف جان مینگل، جہانزیب جمالدینی ،لشکر رئسانی، ثناء بلوچ، ملک سکندر ایڈوکیٹ،خلیلل شاکر، منیر خان کاکڑ ایڈوکیٹ، ایمل ہوتک صباون، خان زمان کاکڑ، مولانا بہرام، آرزو زیارت وال، وڑانگہ لونی پی ٹی ایم بلوچستان کے تمام صوبائی کمیٹی ، کریم پرھار، علی مندوخیل، صادق علی زئی ایڈوکیٹ، آصف ریکی ایڈوکیٹ، مکیش کوہلی ایڈوکیٹ، زبیر شاہ آغا ، مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے قیوم آغا، دانشوران، شاہ محمد مری، آغا گل، منظور بلوچ، عارفہ کاکڑ، رفع اللہ کاکڑ، حفیظ اللی یاد، فاطمہ خلجی ایڈوکیٹ، فہمیدہ شاہ ایڈوکیٹ، فرخندہ اسلم، عابد میر، عدنان شالنزئی، ہزارہ قوم کے ہزارہ سیاسی کارکنان کے طاہر خان ہزارہ، سردار نثار ہزارہ، علامہ جمعہ اسدی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے عبدالخالق ہزارہ ، بلوچستان شعیہ کانفرنس کے داود آغا،دانشور نسیم جاوید، ڈاکٹر نوروز علی ، علامہ علی اکبر زاہدی، محمد علی ایڈوکیٹ، کامریڈ علی رضا منگول، کیپٹن محمدعلی آزاد، مرزا آزاد، رفیق الطاف ایڈوکیٹ ،رخسانہ احمد علی ، ارباب آصف ہزارہ، ابراہیم ہزارہ، کو میں جلیلہ حیدر کوئٹہ کے امن و امان کے پیش نظر اور حالیہ ناخوشگوار حالات کے تناظر میں ایک قومی جرگہ کا دعوت دیتی ہوں، تاکہ کل بربادی سمیٹنے اور چند جاہل لوگوں کے اقدام کی وجہ سے شہر کے حالات مزید تباہی طرف نہ بڑھے۔ اس حالات میں شہر کو بچوں کے حوالے نہیں کیا جاسکتا اور گزارش ہے کہ آپ سب اپنا کردار ادا کریں اور ان قوتوں کو ناکام بنائیں جو ان سارے واقعات سے فائدہ اٹھانے کا خواہشمند ہوں۔ آپ لوگو نے ماضی میں بھی اپنے مدبر سیاسی سوچ و شعور کی وجہ سے اس صوبے کو خانہ جنگی کا مکز بننے سے روکنے میں نہ صرف اپنا کردار ادا کیا بلکہ اس پر قربانیاں بھی دی۔
میں اس شہر میں طبقے کے لحاظ سے ایک غریب خاتون ہوں پر میں اپنے گھر پر اس جرگے کے انعقاد کی دعوت دیتی ہوں۔ وقت آچکا ہے کہ آپ ہمارے بزرگ سیاستدان، علماء اور دانشور اس شہرکے سرپرستی میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ عالمی اور مقامی سیاسی حالات کے تناظر میں موجودہ واقعات خطرے کے گھنٹی سے کم نہیں۔

متمنی یکجہتی،
جلیلہ حیدر ایڈوکیٹ۔