اساس پاکستان پر حبیب یونیورسٹی کا خوفناک حملہ

کراچی ۔ حبیب یونیورسٹی کا اساس پاکستان اور مشرقی اقدار پر ایک اور کاری ضرب لگانے کا انکشاف سامنے آگیا ہے،عورت مارچ میں شامل متنازع پیلے اور نارنجی رنگ کے پوسٹرز حبیب یونیورسٹی میں تیار کیئے گئے،حبیب یونیورسٹی اس سے قبل بھی قومی سلامتی،معاشرتی اقداراوراسلامی شعائر کے حوالے سے منفی سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے،تفصیلات کے مطابق بیرونی فنڈنگ کے زریعے متنازع پروگرامز منعقد

کرانے والی حبیب یونیورسٹی کچھ عرصہ خاموش رہنے کے بعد دوبارہ سرگرم ہوگئی ہے زرائع کا کہنا ہے کہ 8مارچ کو عالمی یوم خواتین کے موقع پر عورت مارچ کے نام پر عورتوں کا استحصال کیئے جانے والے پروگرام کی روح رواں بھی حبیب یونیورسٹی ہی تھی جس کے لیئے کئی

دن قبل تیاری کی گئی تھی،زرائع کے مطابق اس پروگرام کو پس پردہ حبیب یونیورسٹی کی ایک خاتون اسسٹنٹ پروفیسر نے ترتیب دیا تھا مارچ میں شامل خواتین کے ہاتھوں میں موجود نارنجی اور پیلے رنگ کے تمام پوسٹرز حبیب یونیورسٹی میں تیار کیئے گئے تھے اور اس پر درج غیر اخلاقی عبارات بھی انہی اسسٹنٹ پروفیسر کی تخلیق تھی،زرائع کے مطابق عورت مارچ میں حبیب یونیورسٹی کے 25سے 30طالبات بھی شامل تھیں جنہیں 2وینز کے زریعے حبیب یونیورسٹی سےفرئیر ہال پارک پہنچا دیا گیا تھا،یہ تمام طالبات گھروں سے یونیورسٹی پڑھنے کے لیئے نکلی تھیں مگر یونیورسٹی آنے کے بعد انہیں بتا یا گیا کہ عورت مارچ میں شرکت کے لیئے جانا ہے اور انہیں متنازع پوسٹرز دیکر کھڑا کر دیا گیا ،بیشتر کم عمر طالبات کو ان پوسٹرز پر درج ذو معنی عبارات کا صحیح مطلب تک نہیں پتہ تھا، مجھے کیا معلوم تمھارا موزہ کہاں ہے، اپنا موزہ خود ڈھونڈ لو، لو

بیٹھ گئی صحیح سے ، اور دیگر پوسٹرز شامل ہیں۔ حبیب یونیورسٹی اس سے قبل بھی قومی سلامتی کے خلاف متعدد پروگرامز منعقد کراچکی ہے اور ان پروگرامز میں انڈین ہائی کمشنر سمیت دیگر پاکستان دشمن ممالک کے ایجنسیوں کے اہلکاروں کو مدعو کر کے ملک کے خلاف ہرزہ سرائی کراتے رہے ہیں،ملکی سلامتی کے اداروں کی جانب سے ایسے پروگرامز کے انعقاد کو روکنے کے بعد بیرونی فنڈنگ پر چلنے والی حبیب یونیورسٹی نے اپنا طریقہ واردات کو تبدیل کرتے ہوئے ملک کے نظریاتی اساس پر حملے شروع کر دیئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں